Ek Azeem Mohaddis

ایک عظیم محدث مو لانا حبیب الرحمن اعظمیؒ

Share This
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عظیم محدث مو لانا حبیب الرحمن اعظمیؒ

مفتی عبید اللہ شمیم صاحب  قاسمی

استاد حدیث وفقہ جامعہ اسلامیہ مظفر پور، اعظم گڑھ یوپی انڈیا

محدث جلیل ابو المآثر مولانا حبیب الرحمن الاعظمی کا شمار ان نابغہ روزگار شخصیات میں سے ہوتاہے جنہوں نے علم حدیث کو اپنے لیے اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا، اور بیسویں صدی کے افق پر ایک محدث جلیل بن کر ابھرے، انہوں نے حدیث کی کتابوں کی تحقیق کے سلسلے میں ایسا لازوال کارنامہ انجام دیا ہے جس سے ہمیشہ ان کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔

محدث اعظمی نہ صرف علوم دینیہ حدیث وتفسیر، فقہ، عقائد، احسان وتصوف کے بحر ذخار تھے بلکہ علوم آلیہ صرف ونحو، ادب وبلاغت، سیر وتاریخ، منطق وفلسفہ اور علم الاسرار میں بھی نابغہ روزگار تھے، اور زہد وورع، قناعت واستغنا، صبر واستقلال میں سلف صالحین کی یادگار تھے، فطری ذہانت وذکاوت، اخاذ طبیعت، دقیقہ شناسی، نکتہ رسی، سرعت فہم اور غیر معمولی قوت حافظہ نے آپ کے وجود کو مجسمہ علم اور ذہن کو ایک کتب خانہ بنادیا تھا، کتابیں ہی آپ کی جلیس ورفیق اور زندگی کا ساتھی تھیں۔ لیکن تمام علوم میں مہارت تامہ کے باوجود آپ کو خاص شغف علم حدیث سے تھا اور یوں وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے مستحق بنے، جس میں حدیث کا شغف رکھنے والوں کے لیے سرسبز وشادابی کی دعا کی گئی ہے نضر اللہ امرأ سمع مقالتی فوعاہا وحفظہا وبلغہا (الحدیث، سنن الترمذی: ۲۶۵۸)

محدث اعظمی سے پہلے ہندوستانی علماء میں مخطوطات کی تحقیق کا رواج بہت ہی شاذ ونادر ملتا ہے ، آپ نے اپنی تحقیقات کے ذریعہ کئی ایسی کتابوں کو منصہ شہود پرلادیا جو صدیوں گذرنے پر بھی لوگوں کی دسترس سے کوسو ں دور تھیں، اس مضمون میں ان کی حیات کے روشن کارناموں پر ایک روشنی ڈالنے کی ایک ادنی کوشش کی گئی ہے۔

ولادت تعلیم وتربیت:

آپ کی ولادت ۱۳۱۹ھ ۱۹۰۱ء کو اعظم گڑھ کے مشہور مردم خیز قصبہ مؤ ناتھ بھنجن میں ہوئی، اس وقت مؤ ضلع نہیں تھا، بلکہ ۱۹۸۹ء میں مؤ وجود میں آیا، چنانچہ آپ اپنے نام کے ساتھ اعظمی اسی بنا پر یا امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کی طرف نسبت کی وجہ سے لکھتے تھے،آپ کے والد کانام مولوی محمدصابر تھاجو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت تھے اورنہایت عابد وزاہد اور خوش اوقات انسان تھے، کثرت تلاوت اور سلام میں پہل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے، تقریبا ۳۶؍ سال تک محلے کی مسجد میں لوجہ اللہ بچوں کو قرآن پاک اور دینیات پڑھاتے رہے ، علم دین کے اس سعادت خیز ماحول میں آپ کی نشو نما ہوئی ، جس کا اثر آپ کی پوری زندگی میں نمایاں رہا، قرآن پاک اور فارسی کی ابتدائی کتابیںآپ نے اپنے والد بزرگوار سے پڑھیں اس کے بعد عربی کی ابتدائی کتابیں اور فارسی کی بڑی کتابیں آپ نے مولانا عبد الرحمن مؤی سے پڑھیں ، صرف ونحو کی اکثر کتابیں ضلع کے مشہور اور بافیض عالم مولانا ابو الحسن مؤی سے پڑھیں، اسی طرح اصول فقہ اور حدیث میں مشکاۃ المصابیح اور ترمذی جلد اول آپ نے استاذ العلماء حضرت مولانا عبد الغفار صاحب مؤی تلمیذ رشید حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے پڑھی، مولانا اعظمی کی نشو نما اور علمی ساخت پرداخت میں علی الترتیب آپ کے ولی صفت والد محترم مولوی محمد صابر صاحب اور یگانہ عصر استاذ حضرت مولانا عبد الغفار صاحب رحمہما اللہ مرکزی حیثیت رکھتے تھے، اول الذکر پاک نفس بزرگ نے آپ کے مزاج میں دین کی عظمت ومحبت اور حمیت وصلابت پیدا کی، بچپن کا یہ دینی انصباغ زندگی بھر آپ کی ذات میں نمایاں رہا، اور ثانی الذکر علمی مربی نے آپ کے اندر تحصیل علم کی ایسی چاہت ومحبت بھر دی کہ آپ کی شخصیت زندگی برائے علم کا نمونہ کامل بن گئی ۔ علم وفن کی تحصیل وتکمیل کے بعد شوال ۱۳۳۷ھ م ۱۹۱۷ء میں آپ دار العلوم دیوبند پہنچے اور داخلہ امتحان میں اعلی نمبرات سے کامیابی حاصل کی، لیکن درمیان سال میں بیماری کی وجہ سے آپ کو وطن واپس آنا پڑا، اور آئندہ سال پھر دارالعلوم دیوبند کا قصد کیا اور دورہ حدیث میں داخل ہوکر محدث عصرحضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ سے ترمذی جلد اول ، علامہ شبیر احمد عثمانی سے مسلم ، حضرت مولانا اصغر حسین دیوبندی سے ابوداود اور دیگر اساتذہ دارالعلوم سے بقیہ کتب صحاح ستہ کا درس شروع کیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور اس سال بھی ربیع الاول میں پھر بیمار ہوگئے، چنانچہ مؤ واپس آکر حضرت شیخ الہندکے شاگرد مولانا کریم بخش سنبھلی صاحب سے صحاح ستہ کی تکمیل کرکے سند فراغت حاصل کی۔

فراغت کے بعد دارالعلوم مؤ ہی میں درجہ علیا کے استاذ مقرر ہوئے، اور دوسال تک درس دیتے رہے ،اس کے بعد مظہر العلوم بنارس میں بحیثیت صدر مدرس آپ کو بلایا گیا اور کئی سال تک وہاں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے مگر پھر آپ نے اپنے استاذ مولانا ابو الحسن مؤی کی دعوت پر مفتاح العلوم کو زینت بخشی اور پھر اس مدرسے کی شہرت کو چار چاند لگادیا اور اس کو ایک مشہور مدرسہ بنادیا ۱۳۴۷ھ سے لیکر ۱۳۶۹ھ تک آپ نے اس مدرسے میں صدر مدرس مہتمم اور شیخ الحدیث تمام عہدوں پر فائز رہتے ہوئے شاگردوں کی ایک بہت بڑی جماعت تیار کی۔تعلیم وتدریس کا یہ زریں سلسلہ مفتاح العلوم میں مزید آگے نہ بڑھ سکا، کیونکہ آپ نے ۱۳۶۹ھ میں اپنے تصنیفی وتحقیقی کاموں بالخصوص مصنف عبد الرزاق کی تصحیح وتعلیق میں مصروفیت کی بنا پر خدمت سے سبکدوش ہوگئے۔مگر ۱۳۹۲ھ میں جب آپ کے دیرینہ رفیق اور معتمد خاص مولانا عبداللطیف صاحب نعمانی شیخ الحدیث ومہتمم مفتاح العلوم کا انتقال ہوگیا تو ارباب حل وعقد نے آپ سے دوبارہ مفتاح العلوم میں چلنے کی درخواست کی جس کی بنا پر آپ نے دوبارہ اس مدرسے کی خدمت کو قبول کرلیا اور مسند صدارت کو زینت بخشی اور ۱۹۸۰ء میں المعہد العالی اور مرقاۃ العلوم کے قیام تک اس مدرسے میں خدمت انجام دی۔

حضرت محدث اعظمی کی خدمات

حضرت محدث اعظمی کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ، اللہ رب العزت نے آپ کو تصنیف وتالیف کا صاف ستھرا ذوق عطا فرمایا تھا، جس سے آپ زندگی بھر کام لیتے رہے، اور بیسویں صدی میں آپ نے علم حدیث کی ترویج واشاعت میں جو مہتم بالشان اور گرانقدرخدمات انجام دی ہیں بلا شبہ وہ آپ کا تجدیدی کارنامہ کہا جاسکتا ہے، جس میں آپ کا کوئی سہیم ونظیر نہیں ہے، مولانا اعظمی نے جب کتابوں کو اپنی تحقیق وتعلیق سے شائع کیا اور ان پر عالمانہ وفاضلانہ مقدمہ تحریر کیے، جن میں مصنف کے حالات وکمالات اور ان موضوعات پر لکھی جانے والی کتابوں کا تذکرہ اور اس کتاب کی اہمیت اور اس کے مخطوطات کی نشاندہی وغیرہ کو بیان کیا ہے، اسی طرح مختلف نسخوں کے مابین مقارنہ اور ان کے فروق کو بیان کیا ہے، ظاہر ہے یہ ایسے امورہیں جنہیں وہی شخص انجام دے سکتا ہے جس کی متون وشرح حدیث پر گہری نظر ہو، علم روایت کے تمام انواع اور علم درایت کے تمام مقاصد وادراک سے کامل واقفیت رکھتا ہو اور طبقات رواۃ اور طرق حدیث کی تحقیق میں اسے مہارت تامہ ہو۔ذیل میں ان نادر کتابوں میں سے چند ایک پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں جنہیں محدث اعظمی نے اپنی تحقیق وتعلیق اور مفید حواشی سےآراستہ کرکے شائع کرایا جس سے اس فن میں آپ کی عبقریت اور مجتہدانہ مہارت کا کسی قدر اندازہ ہو سکے گا۔

1- مسند الحمیدی، امام بخاری کے استاذ ابو بکر عبد اللہ بن الزبیر الحمیدی المتوفی۲۱۹ھ کی تالیف ہے جو اب تک غیر مطبوعہ تھی جسے آپ نے اپنی تحقیق وتعلیق سے ۱۳۸۲ھ میں پہلی بار حیدرآباد سے شائع کیا۔

2- کتاب الزہد والرقاق، یہ حضرت عبد اللہ بن المبارک المتوفی ۱۸۱ھ کی تالیف ہے ، اب تک مخطوطہ ہونے کی وجہ سے یہ کتاب علماء سے دسترس سے دور تھی ، اور بہت سے اہل علم کو اس کے بارے میں معلومات بھی نہیں تھی، علامہ سید سلیمان ندوی جیسے کثیر المطالعہ اور محقق عالم نے بھی اس کتاب سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے ، چنانچہ وہ معارف ۹۴۴اء میں تحریر فرماتے ہیں:’’قدماء میں ایک بزرگ عبد اللہ بن المبارک متوفی ۱۸۱ ؁ھ کا نام ہمیں معلوم ہے، جنہوں نے کتاب الزہد والرقاق کے نام سے مستقل تالیف فرمائی ہے مگر یہ ہیچمداں اب تک اس کی زیارت سے محروم رہاہے اس لیے اس کی نسبت سے کچھ عرض نہیں کرسکتا‘‘، مگر محدث اعظمی کی غواصی کی داد دیجئے کہ علوم حدیث کے بحر بیکراں سے اس موتی کو برآمد کرلیا اوراپنی تحقیق وتعلیق سے آراستہ کرکے اہل علم کے سامنے پیش کیا، یہ کتاب ادارہ احیاء المعارف مالیگاوں سے ۱۳۸۵ھ میں پہلی بار شائع ہوئی۔

3- سنن سعید بن منصور: ابو عثمان سعید بن منصور متوفی ۲۲۹ھ کی تالیف ہے ، اسے اپنی تحقیق سے۱۴۰۳ھ میں ۲؍ جلدوں میں شائع کیا۔

4- المطالب العالیہ بزائد المسانید الثمانیہ جو حافظ ابن حجرمتوفی ۸۵۲ھ کی تالیف ہے جسے آپ نے اپنی تحقیق وتعلیق سے آراستہ کرکے۴؍ جلدوں ۱۳۹۰ھ میں وزارۃ الاوقاف کویت سے شائع کیا۔

5- مصنف لعبد الرزاق بن الہمام الصنعانی متوفی۲۱۱ھ ،کی تالیف ہے ، یہ کتاب احادیث وآثار کا ایک دائرۃ المعارف ہے، ۱۱؍ جلدوں میں ۱۳۹۰ھ میں دارالقلم بیروت سے شائع ہوئی ہے۔

6۔ کشف الاستار عن زوائد مسند البزار للہیثمی۴؍ جلدوں میں ۱۳۹۹ھ میں مؤسسۃ الرسالۃبیروت سے شائع ہوئی۔

7۔ مصنف ابن ابی شیبہ جسے شیخ محمدعومہ نے اپنی تحقیق وتعلیق سے ۲۶؍ جلدوں میں شائع کیا ہے اس کی زمین مولاناا عظمی نے ہی تیار کی تھی اور اس کی ابتدائی ۳؍جلدیں مکہ مکرمہ سے شائع ہوئی تھیں۔

اس کے علاوہ بھی آپ نے کئی کتابوں کو اپنی تحقیق وتعلیق سے شائع کیا، اور آپ کی تصانیف اس کے علاوہ ہیں ، جس میں حدیث ، رجال حدیث، فقہ اور دیگر موضوعات پر آپ نے اپنی نادر تحقیقات سے عالم کو روشناس کرایا، ذیل میں اس کی ایک جھلک پیش کی جاتی ہے۔

8- الحاوی لرجال الطحاوی جس میں امام طحاوی کی کتاب معانی الآثار اور مشکل الآثار دونوں کے رجال پر بحث کی گئی ہے ، ایک طرح سے یہ ایک عمل مبتکر اور نیا کام ہے ، اب تک کسی نے بھی امام طحاوی کے مشکل الآثار کے رجال سے بحث نہیں کی تھی مگر آپ نے اس کام کو بھی اس وقت انجام دیا جس وقت آپ کی عمر صرف ۳۰؍ سال تھی جس کے مسودہ کو دیکھ کر علامہ انور شاہ کشمیری نے آپ کے کثرت معلومات کی تعریف فرمائی تھی۔

9- الاتحاف السنیۃ بذکر محدثی الحنفیۃ اس کتاب کے نام سے ہی واضح ہے کہ اس میں حضرات محدثین حنفیہ کا ذکر کیا ہے۔

نصرۃ الحدیث :

اردو زبان میں یہ رسالہ ہے جس میں منکرین حدیث کی تردید کی ہے ، اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ حکیم الامت حضرت تھانوی کے سامنے جب یہ رسالہ پیش کیا گیا تو اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس جیسا رسالہ اگر میں بھی لکھنا چاہوں تو نہیں لکھ سکتا، رکعات تراویح پر بھی محدث اعظمی کا ایک محقق رسالہ ہے جس میں حضرات صحابہ کے دور سے لیکر اس دور تک تراویح کے سلسلے میں مدلل بحث کی گئی ہے، اس کے علاوہ بھی آپ کی بہت سے تصنیفات ہیں۔

علم فقہ میں مقام ومرتبہ:

بالعموم سبھی اہل علم جانتے ہیں کہ حضرت مولانا اعظمی ایک بلند پایہ محدث اور علوم حدیث کے زبردست ناقد ومحقق تھے، مگر یہ کم ہی لوگ جانتے ہیں آپ ایک فقید المثال فقیہ بھی تھے، آپ کی شان محدثیت دیگر کمالات علمیہ پر اس طرح چھاگئی تھی کہ آپ کی فقہی بصیرت ومہارت پس منظر سے اوجھل ہوگئی، چنانچہ جس زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق صاحب اعظمی ؒ دارالعلوم مؤکے شیخ الحدیث تھے اور فتاوی کی خدمت بھی انجام دے رہے تھے تو اگر کوئی فقہ کا بہت مشکل سوال ہوتا تو مولانا اعظمی سے رجوع کرتے، اور کبھی کبھی مولانا اعظمی کو جوابات دکھانے کے بعد ارسال کرتے ، نیز آپ کی فقاہت کی اس سے بڑی سند اور کیا ہوگی کہ بر صغیر کے سب سے بڑے فقہی مرکز دارالعلوم دیوبندمیں مفتی اعظم کی حیثیت سے خدمت انجام دینے کے لیے آپ کے پاس کئی مرتبہ خطوط آئے ،اور وہ بھی شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی اور حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب کی طرف سے کہ آپ اس خدمت کو قبول فرمالیں مگر آپ نے اپنی علمی مشغولیت کی بنا پر اس سے معذرت کردی۔

۱۹۸۶ء میں جب جمعیۃ علماء ہند نے امارت شرعیہ کے قیام کے لیے ملک کے چودہ صوبوں سے تین ہزار نامور مفتیان کرام اور علماء عظام، پروفیسر اور ممبران پارلیمنٹ وغیرہ کا ایک عظیم الشان اجتماع ۲؍اکتوبرکوبلایا تو اس موقع پر آپ کو بالاتفاق امیر الہند چنا گیا، جس عہدہ پر تا حیات آپ باقی رہے۔

احسان وسلوک:

سلوک وتصوف میں بھی محدث اعظمی بلند مقام پر فائز تھے ، علم کا غلبہ اور اخفائے حال کی بے پناہ کوشش کی بنا پر آپ کی احسانی کیفیت کا عام طور پر لوگوں کو ادراک نہیں ہوسکا، لیکن جو لوگ آپ کی مجلس کے حاضر باش تھے وہ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ سنت کے عامل اور شریعت پر عمل کے سلسلے میں بہت ہی متصلب تھے چنانچہ مولانا انظر کمال صاحب مؤی جو کہ محدث اعظمی کی خدمت میں کئی برس رہے ، انہوں نے اس سلسلے میں کئی واقعات بندہ سے بیان کئے جسے اختصار کی وجہ سے چھوڑ رہا ہوں، آپ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے بیعت تھے ، اپنی بیعت کا تذکرہ آپ نے خود ان الفاظ میں بیان کیا ہے جسے مولانا اعجاز احمد اعظمیؒ صاحب نے تذکرہ مصلح الامت میں درج کیا ہے: ’’وہ میری زندگی کے نہایت مسعود ومبارک لمحات ہیں جو خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون میں گذرے، مجھے حاضری کی سعادت پہلی مرتبہ اس وقت ہوئی جب میں دارالعلوم دیوبند میں طالب علمانہ زندگی بسر کر رہا تھا، ۱۳۳۷ھ غالبا ذی الحجہ کی تعطیل میں حضرت تھانوی قدس سرہ کی زیارت کے مقصد سے حاضری ہوئی تھی، مگر خوش قسمتی کی وجہ سے بیعت کا شرف بھی حاصل ہوگیا ، پہلے سے جانے پہچانے متوسلین میں اس وقت حضرت مولانا وصی اللہ صاحب فتح پوری اور خواجہ مجذوب الحسن صاحب خانقاہ میں موجود تھے، مولانا فتح پوری حضرت تھانوی کی نشست گاہ کے پیچھے ایک تنگ حجرہ کے سامنے ذرا ہٹ کر بیٹھنے پر مامور تھے، مولانا فتحپوری کو کئی دن تک دیکھنے اور وقتا فوقتا اپنی اپنی قیام گاہ پر آنے جانے اور بات کرنے کا موقع ملا، جس شب میں بعد مغرب میں شرف بیعت سے مشرف ہوا تھا، اس کے بعد والے دن میں غالبا عصر کے بعد مولانا فتحپوری نے خواجہ صاحب سے فرمایاکہ خواجہ صاحب! مولوی حبیب الرحمن صاحب سے مٹھائی وصول کرنی چاہیے، ان کو حضرت نے زمانہ طالب علمی میں بیعت کرلیا، حالانکہ حضرت ایسا نہیں کرتے یہ ان کی خصوصیت ہے‘‘(مقدمہ تذکرہ مصلح الامت ۶،۷)۔اجازت وخلافت آپ کوحضرت تھانوی قدس سرہ کے خلیفہ اجل مصلح الامت مولاناوصی اللہ صاحب فتح پوری کے علاوہ حضرت مولانا منیر الدین صاحب مہاجر مکہ (خلیفہ سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب سے) بواسطہ حاجی عبد الحمید صاحب اورنگ آبادی بھی ملی تھی ، اس کے علاوہ آپ کو حضرت تھانوی کی مجلس میں حاضری کے بعض اصول سے مستثنی رکھا گیا تھا، مگر اپنے علمی مشاغل کی وجہ سے ارادت مندوں کے اصرار کے باوجود آپ لوگوں کو بیعت نہیں کرتے تھے،البتہ کچھ مخصوص عقیدت مند آپ سے متوسل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے،اس موقع پر اس بات کا تذکرہ بھی بیجانہ ہوگا کہ آپ حضرت تھانوی کے دست گرفتہ ہونے کے باوجود ملکی سیاست میں شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمد مدنی کے نظریہ کے مؤید وحامی تھے ، اسی وجہ سے تاحیات جمعیت علماء ہند سے وابستہ رہے، یہ آپ کے اعتدال ووسطیت کا کمال ہے کہ دونوں اکابر کا اعتماد آپ کو ہمیشہ حاصل رہا۔

تلامذہ:

مولانا اعظمی نے کم وبیش تیس چالیس سال تک مختلف زمانے میں تدریسی خدمات انجام دیں، اس عرصہ میں کتنے لوگوں نے آپ سے استفادہ کیا اس کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، البتہ چند مشاہیر تلامذہ کا تذکرہ ہم بطور نمونہ کررہے ہیں:(۱) مولانا منظور احمد نعمانیؒ (۲)مولانا محفوظ الرحمن نامیؒ (۳) مولانا محمد حسین بہاری ؒ سابق استاذ دارالعلوم دیوبند(۴) مولانا عبد الستار صاحب معروفیؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء(۵)مولانا عبد الجبار اعظمی سابق شیخ الحدیث مظہر العلوم بنارس(۶) مفتی ظفیر الدین مفتاحیؒ سابق مفتی دارالعلوم دیوبند(۷) مولانا سعید الرحمن اعظمی مدظلہ مہتمم ندوۃ العلماء لکھنؤ(۸) صاحبزادہ محترم مولانا رشید احمد اعظمی مدظلہ، اس کے علاوہ بھی بہت سے تلامذہ ملک وبیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں، اور بہت سے انتقال کر گئے، عرب تلامذہ اور شاگردوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے، جن میں الشیخ عبد الحلیم محمود سابق شیخ الازہر مصر، شیخ عبد الفتاح ابوغدۃ،شیخ حسن مشاط، شیخ علوی مالکی، علامہ خیر الدین الزرکلی، شیخ محمد عوامہ اور دکتور بشاد عواد معروف وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔

محدث اعظمی کی سوانح اور ان کے علوم ومعارف اور علمی کمالات وخدمات کو بیان کرنے کے لیے بہت وقت اور صفحات درکار ہیں، اس مضمون میں اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے، بلا شبہ وہ بیسویں صدی میں ہندوستان کے ایک نامور محدث تھے، اور آپ نے خصوصاً کتب حدیث کے مخطوطات جو اب تک اہل علم کی نظروں سے اوجھل تھے ان کو حاصل کرکے، اور ان کو اپنی نادر تحقیقات سے مزین کرکے منظر عام پر لاکر امت پر ایک عظیم احسان فرمایا، وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ جدیدٹیکنالوجی دریافت نہیں ہوئی تھی، اس وقت کس طرح آپ نے اس کام کو انجام دیا اور کتنی تکلیفیں برداشت کی ہوں گی اس کے بارے میں وہی لوگ واقف ہوں گے جو اس میدان کے راہی ہیں، اللہ رب العرت سے دعا ہے کہ آپ کے علوم سے ہمیں فیض یاب ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے

غنچہء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے


Share This
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *