wazu ki fazilat

Wazu Ki Fazilat وضو كى فضيلت

وضو كى فضيلت

 1- عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ”رواه مسلم.[1]

حضرت عثمان بن عفان سے مروی ہے انھو ں نے فرمایا کہ نبی پاک  صلى الله عليه وسلمنےارشاد فرمایا ”:جووضو کے ارادے سے آئے اور خوب اچھی طرح وضو کرے ،تو اسکے سارے گنا ہ اس کے بدن سے خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے نا خنوں کے سرے سے نکل جا تے ہیں ۔

اسلام كا نظام صفائی

اسلام میں طہارت و نظافت اور صفائی و پا کیزگی صرف اس وجہ سے مطلوب نہیں ہے کہ یہ عبادت مثلا نماز ،تلاوت ،طواف اوراس جیسی عبادات کے لئے شرط لازم ہے۔ بلکہ اسلام میں طہارت و پا کیزگی جزو ایمان ہے ،اور بجائے خود یہ ایک اہم عبادت ،اور دین کا ایک شعبہ ہے؛باری تعالی فرما تے ہیں :{ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ}اللہ توبہ کرنے والے بندوں سے محبت کرتا ہے اور پاک وصاف رہنے والے لوگوں کو بے انتہا پسند کرتا ہے(البقرة:222) ۔اسی طرح ایک دوسری جگہ اللہ رب العزت قباء والوں کی تعریف بیان کرتے ہوے ارشاد فرماتے ہیں{ فِيهِ رِجالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} اس (بستى )میں ہما رے ایسے بندے ہیں جو بہت صفائی پسند ہیں اور اللہ تعالی صفائی وستھرائی کرنے والے بندوں سے بہت محبت کرتے ہیں (التوبة:108)۔مندرجہ بالا دونو آیتوں سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں طہارت و نظافت کی کس درجہ اہمیت ہے ،اور اسکا اہتمام کرنے والے اللہ کے نزدیک کتنے محبوب ہیں !اسی طرح  اللہ کے نبی نے امت کو طہارت ونظافت کی تعلیم دیتے ہوے ارشاد فرمایا :” الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ الحديث”[2] صفائی آدھاایمان ہے۔ايك  دوسرى جگہ ارشاد ہے “مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ الحديث.”[3] نماز كى كنجى طہارت وپاگيزگى ہے.

حضرت شاہ صاحب اپنی بے نظیر کتاب (حجة الله البالغة) میں تحریر فرما تے ہیں کہ:”طہارت کی تین قسمیں ہیں (١) حدث سے طہارت یعنی جن حا لتوں میں غسل یا وضو واجب یا مستحب ہے ۔ان حالتوں میں غسل اور وضو کرکے شرعی طہا رت وپا کیزگی حا صل کرنا۔(٢)ظاہری نجاست اور گندگی سے جسم اور کپڑوں کو پاک کرنا ۔(٣)جسم کے مختلف حصوں میں جو گندگیاں اور میل وکچیل ہوتا رہتاہے اسکی صفائی کرنا ۔جیسے دانتوں کی صفائی ،ناک اور نتھنوں کی صفائی ،ناخن اور زیر ناف بالوں کی صفائی۔

فائدہ

چونکہ نماز اللہ رب العزت کی ایک خاص الخاص عبادت ہے،اس میں بندہ اللہ کے بے انتہا قریب ہوتا ہے ،اس سے سرگوشی اور مناجات کرتاہے ،نیز اس حالت میں اسے ملأ اعلی سے ایک خاص قرب حاصل ہوتا ہے ،جو اسے فرشتوں کی صف میں کھڑا کردیتا ہے لہذابندہ اللہ کے حضور حاضری اور اپنے اندر ملکوتی صفات پیدا کرنے کے لئے جتنا بھی طہارت و پاکیزگی کا اہتمام کرے کم ہے ، کیونکہ :

ہزار بار بشویم دہن زمشک وگلاب

ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیست

ذرہ وآفتاب کے اس فرق کے باوجود اللہ رب العزت نے بندوں کو اپنے حضور حاضری کے کچھ آداب بتلائے ہیں ،جنھیں حاضری سے پہلے بجا لا نا ضروری ہے چنانچہ ارشاد باری ہے : {يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَوةِ فَاِغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى المَرَافِقِ وَاِمْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الكَعْبَيْنِ} [المائدة 5: 6] ”اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے آؤتو اپنے چہرے اور کہنیوں تک اپنے ہا تھ کو دھو لو ،نیز اپنے سر کا مسح کرو اور ٹخنوں سمیت اپنے پیر دھو لو ،اور اگر تم حالت جنابت میں ہو تو غسل کرلو”۔بظاہر اس امر کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ انوار الہی کی موجوں میں غوطہ زنی سے پہلے آدمی اپنے ظاہر و باطن سب کو پاک کرلے ،تاکہ اسے ملا اعلی سے صحیح ربط  حاصل ہوجا ئے ،اور اسکے اندر ملکوتی صفات پیدا ہو جائیں ،کیونکہ بہیمی آلودگیوں سے پاکی وصفائی کے بعدبندہ اپنے اندر ایک انشراح و انبساط اور سرور وفرحت کی کیفیت محسوس کرتا ہے ۔اور یہی کیفیت یہا ں مقصود ہے۔

اسی لئے حضرت شاہ صاحب طہا رت کی حقیقت بیان کرتے ہوے فرما تے ہیں کہ:” ایک سلیم الفطرت اور صحیح المزا ج انسان جس کا قلب بہیمیت کے سفلی تقاضوں سے مغلوب اور ان میں مشغول نہ ہو ،جب وہ کسی نجا ست سے آلودہ ہوجا تا ہے یا اسکو پیشاب یا پا خا نہ کا سخت تقاضا ہوتا ہے ،یا وہ جماع وغیرہ سے فارغ ہوا ہوتا ہے تو وہ اپنے نفس میں ایک خاص قسم کا انقباض و تکدر اور گرانی و بے لطفی اور اپنی طبیعت میں سخت ظلمت کی ایک کیفیت محسوس کرتا ہے ،پھر جب وہ اس حا لت سے نکل جاتا ہے ۔مثلا پیشاب یا پا خانہ کا جو سخت تقا ضا تھا اس سے وہ فارغ ہوجاتا ہے ،اور اچھی طرح استنجاء و طہارت کر لیتا ہے ،یا اگر وہ جماع سے فارغ ہوا تھا ،تو غسل کرلیتا ہے اور اچھے صاف وستھرے کپڑے پہن لیتاہے ،اور خوشبولگا لیتا ہے تو نفس کے انقباض و تکدر اورطبیعت کی ظلمت کی وہ کیفیت جا تی رہتی ہے، اور اس کے بجا ئے اپنی طبیعت میں وہ ایک انشراح وانبساط اور سرور وفرحت کی کیفیت محسوس کرتا ہے ۔بس در اصل پہلی کیفیت اور حالت کا نام” حدث”(نا پا کی ) اور دوسری کا نام ”طہا رت ”(پا کی و پا کیزگی )ہے ۔اور انسانو ں میں جن کی فطرت سلیم اور جن کا وجدان صحیح ہے وہ ان دونوں حا لتوں اور کیفیتوں کے فرق کو واضح طور پر محسوس کرتے ہیں اور اپنی طبیعت و فطرت کے تقا ضے سے حدث کی حالت کو ناپسند اور دوسری (طہا رت )کی حا لت کوپسند کرتے ہیں ”۔اھ

شاہ صاحب کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ طہا رت اور حدث دراصل انسانی روح اور طبیعت کی مذکور ہ بالا دو حالتوں کا نام ہے ،ان میں پہلی حالت اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب ہے۔

 

علاوہ ازیں جب بندہ اپنے تمام ظا ہری اعضاء کو گندگی اور آلودگی سے پاک کرلیتا ہے، تو اللہ رب العز ت بھی اس کے بدلے میں اسکے باطن کو گناہوں کی ظلمت سے نکال کراپنے انوار کے خاص سمندرمیں غوطہ زن کرتے ہیں،اور اسکے ایک ایک گناہ کو اسکے وضو کے قطرے کے سہارے مٹاتے اور دھو دیتے ہیں ۔


 

[1] رواه مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري في صحيحه (تحقيق :محمد فؤاد عبد الباقي) (بيروت:داراحياء التراث العربي)كتاب الطهارة، باب:خروج الخطايا مع ماءالوضوء)ج1،ص216، (245).

[2] رواه مسلم في صحيحه، كتاب الطهارة،باب: فضل الوضوء،ج1،ص203،(223).

[3] أخرجه الترمذي أبو عيسى محمد بن عيسى في سننه تحقيق أحمد محمد شاكر (مصر: مطبعة  مصطفى البابي الحلبي،ط2، 1395ه-1975م)ج1،ص8 ،:(3)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *