Mutafa-Azami

ڈاکٹر محمد مطصفی اعظمی نور اللہ مرقدہ

Share This
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈوبا ہے جانے کون کہ دریا اداس ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مفتی شمس الرحمن صاحب قاسمی

استاذ حدیث وفقہ جامعہ اسلامیہ مظفر پور اعظم گڑھ

بر صغیر آغاز اسلام ہی سے آفتاب نبوت کی درخشاں کرنوں سے منور رہا، خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں سندھ کے علاقہ میں مسلمانوں کی آمد ہوگئی تھی، علم حدیث سے تعلق واشتغال اور اعتناء محمد بن قاسم ثقفی(ت: ۹۵ھ) کے سندھ میں فاتحانہ داخلہ کے وقت سے ہی ہوگیا تھا، دوسری صدی ہجری میں مشہور محدث تبع تابعی ربیع بن صبیح السعدی (ت: ۱۶۰ھ) کا ورودِ مسعود گجرات میں ہوا، یہ ان بزرگوں میں ہیں جن کا شمار حدیث کے اولین مصنفین میں ہوتا ہے، تذکرۂ علماء ہند کے مصنف رحمن علی نے لکھا ہے کہ یہ اسلام کی سب سے پہلی صاحب تصنیف شخصیت ہیں[1]

اسی طرح سیر ومغازی کے سلسلہ میں اولیت کا سہرا دوسرے ہندوستانی نژادمحدث ابو معشر نجیح بن عبد الرحمن السندی (ت:۱۷۰ھ) کو حاصل ہے، جو سفیان ثوری (ت: ۱۶۱ھ)، عبد الرزاق صنعانی صاحب المصنف (ت: ۲۱۱ھ) ، وکیع بن الجراح (ت: ۱۹۷ھ) ، لیث بن سعد مصری (ت: ۱۷۵ھ) اور واقدی(ت: ۲۰۷ھ) جیسے مشاہیر اہل علم کے استاذ ہیں۔

غزنوی فتوحات سے پہلے سندھ میں علوم اسلامیہ کی نشو ونما اور ترقی کے باوجود ان کے اثرات ملک کے دوسرے حصوں میں نہ پہونچ سکے، لیکن سلطان محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملہ کے بعد باقاعدہ اور منظم شکل میں اسلامی علوم وفنون کی ترقیات کا آغاز ہوا، اور بعد کے ادوار میں علوم اسلامیہ کی ہر شاخ کو وہ ترقی ہوئی اور ماہرین کی کثیر جماعت نے ملک کے کونے کونے کو اپنی علمی جدوجہد سے ایسا رشک فلک بنادیا کہ اس کی نظیر دیگر ممالک میں خال خال ہی ملتی ہے، بقول ضیاء الدین برنی اس وقت صرف دہلی میں ایسے علماء اور ماہرین فن موجود تھے جن کی مثال بخارا، سمرقند اور بغداد میں بھی نہیں مل سکتی[2]

چنانچہ رضی الدین حسن بن محمد صغانی (ت: ۶۵۰ھ) علی متقی برہانپوری (ت: ۹۷۵) محمد طاہر پٹنی (ت: ۹۸۶) شیخ عبد الحق محدث دہلوی (ت: ۱۰۵۲ھ) اورشاہ ولی اللہ دہلوی (ت: ۱۱۷۶ھ) کے ذریعہ علوم اسلامیہ کی نشر واشاعت نہایت جامعیت کے ساتھ ہوئی، خصوصاً شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کی اولاد واحفاد اور تلامذہ کی جد وجہد سے سرزمین ہند علوم اسلامیہ کا مرکز بن گئی، اور علماء ہند نے علوم اسلامیہ کے ہر فن میں اپنی عبقریت کے نمونے پیش کیے، بالخصوص علم حدیث وفقہ اور تفسیر میں بڑے بڑے کارنامے انجام دئیے۔

اسی سلسلۂ ولی اللہی کی سنہری کڑی علماء دیوبند ہیں جنہوں نے ہندوستانی فضاؤں کو قال اللہ اور قال الرسول کے نورانی نغموں سے معمور کردیا، خاص طور سے محدث احمد علی سہارنپوریؒ (ت:۱۲۹۷ھ)، حجۃ الاسلام محمد قاسم نانوتویؒ (ت: ۱۲۹۷ھ) ، فقیہ النفس مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (ت: ۱۳۲۳ھ)، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ (ت: ۱۳۳۹ھ)، محدث خلیل احمد سہارنپوریؒ (ت: ۱۳۴۶ھ)، امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ (ت:۱۳۵۲ھ)اور شیخ الاسلام حسین احمد مدنیؒ (ت: ۱۹۵۷ء )وغیرہ کے ذریعہ اسلامی علوم وفنون خصوصاً علم حدیث کی ترویج واشاعت میں یہ ملک ہندوستان تمام بلاد اسلامیہ سے فوقیت لے گیا، جس کا اعتراف عالم اسلامی کے نامورمحقق وادیب علامہ رشید رضا مصری نے یوں کیا: ’’ لولا عنایۃ إخواننا علماء الھند بعلوم الحدیث في ھذا العصر، لقُضِيَ علیھا بالزوال من أمصار الشرق، فقد ضَعُفَتْ في مصر والشام والعراق والحجاز منذ القرن العاشر للھجرۃ‘‘[3]

( اگر علماء ہند اس زمانہ میں علوم حدیث کی طرف توجہ نہ کرتے تویہ فن مشرقی دنیاسے رخصت ہوجاتا،کیونکہ مصر، شام، عراق اورحجاز میں دسویں صدی ہجری ہی سے علم حدیث زوال پذیر ہوگیاتھا)۔

شیخ الاسلام حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کے علوم وفنون سے عرب وعجم نے یکساں طور پر استفادہ کیا، علماء ربانیین کی ایک بڑی جماعت نے آپ سے کسب فیض کیا اور پورے عالم میں علوم اسلامیہ کے پھیلا نے میں نمایاں کردار ادا کیا، اسی سلسلۃ الذہب کی نمایاں اور مضبوط کڑی عالم اسلام کے نامور محدث ومحقق ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی نور اللہ مرقدہ ہیں جن کی عبقری ذات نے محدثین ومحققین کے علم وفضل اور تحقیق وتدقیق کی تابناک روایت کو غیر معمولی طور پر آگے بڑھایا اور علم حدیث کے گنج ہائے گراں مایہ کو جو مخطوطات کی دنیا میں مدفون ومجہول تھے اپنی تحقیق وتدقیق سے منصہ شہود پر لاکر حیاتِ نو بخشی۔

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی نور اللہ مرقدہ نے علوم اسلامیہ کی گراں قدر خدمات انجام دیں، جن اساتذۂ کرام سے آپ نے فیض حاصل کیا وہ سب اپنے وقت کے علم وفن کے امام اور درکفِ جام شریعت درکفِ سندان عشق کے عملی پیکر تھے، آپ کے استاذ شیخ الاسلام حسین احمد مدنی ؒ جہاں علم وفضل میں امامت کے مقام پر فائز تھے وہیں میدان کے غازی بھی تھے، آپ کا ہر لمحہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبا ہوا تھا، لائق شاگرد پر استاذ کا اثر پڑنا ناگزیر تھا، شاگرد نے بھی قلم کے ذریعہ جہاد فی الاسلام کا جو کارنامہ انجام دیا وہ تاریخ اسلام کا سنہرا باب ہے، آپ حدیث پاک:’’ یحمل ہذا العلم من کل خلف عدولہ، ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتأویل الجاہلین‘‘ کے نمونہ اور ’’أ ینقص في الدین وأنا حي‘‘ کے عملی پیکر تھے۔

ڈاکٹر اعظمیؒ اور مستشرقین: دشمنان اسلام نے ہمیشہ اسلام کی بیخ کنی کے لیے کوئی موقع نہیں چھوڑا، عہد عباسی میں زنادقہ نے اسلام کے خلاف منظم سازشیں کیں، اس وقت کے علمائے راسخین نے ان کا دنداں شکن جواب دیا، ماضی قریب میں ہمارے ملک ہندوستان میں بھی منکرینِ حدیث، اور جھوٹے مدعیانِ نبوت نے بال وپر نکالے، علماء ربانیین نے ان کا بھرپور تعاقب کیا اور ان کے مکر وفریب اوردسیسہ کاریوں کی قلعی کھول کر رکھ دی، محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی نور اللہ مرقدہ نے’’ نصرۃ الحدیث‘‘ لکھ کر ان کے دجل وفریب کو آشکارا کیا اور ان کے فتنے کو ان کے گھر تک پہونچایا۔

اسی طرح مستشرقین نے بھی اسلام کے پورے ڈھانچے کو تباہ وبرباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، اور اسلام کے دو بنیادی مأخذ قرآن وحدیث کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا، قرآن کے کتابِ الہی ہونے کا انکار کیا، اور حدیث شریف کی استنادی حیثیت میں شکوک وشبہات پیدا کیے، نیز انہیں حکومتوں کی پست پناہی بھی حاصل رہی، مغربی حکومتوں نے انہیں ہر طرح کی سہولتیں مہیا کرائیں تاکہ بالکل یکسو ہوکر اس کام میں مشغول ومنہمک رہیں، چنانچہ مستشرقین جو بھی لکھتے ہیں اسے خالص علمی رنگ میں پیش کرتے ہیں اور اپنی تحقیقات کو مصادر ومراجع کے حوالوں سے مزین کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی علمی تحقیقات کی خوب پزیرائی ہوئی اور مغربی دانش کدوں میں تقدس واحترام کے مقام پر جگہ ملی، بعض مسلم تعلیم یافتہ جو جدید مغربی تہذیب کے پروردہ ہیں وہ بھی ان کی نام نہاد علمی تحقیقات کے دام فریب میں مبتلا ہوگئے، وقت کے باغیرت علماء نے منکرین ومستشرقین کے دجل وفریب اور دسیسہ کاریوں کے تاروپود بکھیر ے اور دنداں شکن جواب دیا، ڈاکٹر مصطفی سباعی نے ’’السنۃ ومکانتہا فی التشریع الإسلامی‘‘ میں، اور ڈاکٹر عجاج الخطیب نے ’’السنۃ قبل التدوین‘‘ میں ان کا مسکت جواب دیا، لیکن منکرین ومستشرقین کے سلسلہ میں جتنے کام وجود میں آئے وہ عربی اور اردو زبان میں ہیں، ضرورت تھی کہ مستشرقین کا جواب انہیں کی زبان واسلوب اور معیار میں دیا جائے تاکہ اس کا فائدہ عالمگیر ہو، یہ توفیقِ ایزدی ضیغمِ اسلام ڈاکٹر محمد مطصفی اعظمی نور اللہ مرقدہ کا مقدر تھی، دفاع عن الاسلام آپ کے خمیر کا جزو تھا، آپ سچے عاشقِ رسول تھے، اور قاعدہ ہے کہ عاشق اپنے خلاف تو برداشت کرسکتا ہے لیکن محبوب کی ذات وصفات پر کوئی حرف آئے اسے ایک لمحہ کے لیے گوارا نہیں، رسول کی ذات وصفات پر حملہ ہو اور عاشقِ رسول اس کے دفاع کے لیے ماہیِ بے آب کی طرح بے چین نہ ہو یہ ممکن نہیں۔

۱۹۵۵ ؁ء کی بات ہے کہ آپ بغرض ملازمت قطر تشریف لے گئے، اور وہاں ایک معروف امریکی کمپنی نے کچھ مستشرقین کی اسلامیات سے متعلق کتابیں تقسیم کیں، اسی میں مشہور مستشرق جو زف شاخت کی کتاب بھی تھی جس کو مغربی دنیا میں غیر معمولی تقدس واحترام کا مقام حاصل تھا، ڈاکٹر صاحب نے عربی نیوز چینل ’’صفا‘‘ کو انٹریو دیتے ہوئے بتایا کہ: کتاب کا میں نے مطالعہ کیا، اس میں مذکور سطحی مباحث اور اس کی ہفوات کو پڑھ کر مجھے شدید حیرانی لاحق ہوئی، اسی وقت میں نے عزم کیا کہ مستشرقین کی علمیت کا پول اور ان کے استدلال کا جھول انہیں کے گھر میں بیٹھ کر کھولوں گا ، چنانچہ اسی مقصد کے لیے ۱۹۶۴ء ؁ میں قطر سے لندن گئے، اور دنیا کی مشہور ومعروف کیمبرج یونیورسٹی سے (Studies in Early Hadith Literature) کے عنوان پر انگریزی زبان میں مقالہ پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، اور جوزف شاخت کے حدیثِ پاک کی استنادی حیثیت کے سلسلہ میں شکوک وشبہات اور گمراہ کن نظریات وہفوات کا نا قابل تردید دلائل کے ساتھ دنداں شکن جواب دیا کہ یورپ حیران وششدر رہ گیا اور شاخت کی کتاب کے تقدس واحترام کا تاج محل زمیں بوس ہوگیا، اس کتاب کا عربی ترجمہ اہم اضافات کے ساتھ’’ دراسات في الحدیث النبوي وتاریخ تدوینہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا جو بیحد مقبول ہوا۔

حدیث پاک کی طرح قرآن مجید کو بھی مستشرقین نے اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اس کے کلامِ الہی ہونے کا انکار کیا، اس سلسلہ میں بھی آپ نے نہایت اہم کارنامہ انجام دیا اور انگریزی زبان میں: (The History of the Quranic Text, From Revelation To Compilation, A Comparative study With old and new Testaments) تصنیف فرمائی، جس میں تاریخِ تدوینِ قرآن پر مفصل کلام اور قرآن وبائبل کی تدوین کا تقابلی مطالعہ کیا اور نا قابلِ انکار دلائل سے ثابت کیا کہ قرآن کریم میں کسی قسم کی تبدیلی کا دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے، اس کتاب کی تیاری میں مصنف علام نے کس قدر محنت صرف کی ہے کتاب کے مآخذ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جس میں توریت وانجیل کے نسخے اور سریانی وعبرانی زبان کی بعض کتابوں سے بھی ا ستفادہ کیا گیا ہے، مآخذ کی تعداد ۳۵۶ ہے، در حقیقت یہ کتاب آپ کے علمی کارناموں میں سب سے اہم کارنامہ ہے ،ان شاء اللہ جلد ہی یہ کتاب اردو زبان میں پروفیسر عبد الرحیم قدوائی کے ترجمہ سے نورِ نظر ہوگی۔

اسی طرح آپ کی سب سے آخری تصنیف: ’’النص القرآني الخالد عبر العصور، دراسۃ ومقارنۃ مصورۃ لسورۃ الإسراء بین تسعۃ عشر مصحفاً من منتصف القرن الأول إلی الخامس عشر‘‘ بھی قرآنیات کے موضوع پر ہے، جسے آپ نے سفرِ آخرت سے کچھ پہلے تصنیف فرمایا، دنیا کے مختلف کتب خانوں میں موجود مختلف ادوار کے ۱۹؍ قدیم قرآن مجید کے مخطوطات کی روشنی میں سورۂ إسراء کا خصوصی مطالعہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ متنِ قرآن نزول سے لے کر آج تک کسی قسم کی تبدیلی اور تحریف سے مکمل پاک ہے۔

شاہ فیصل عالمی ایوارڈ اور سعودی شہریت: آپ نے فن حدیث کی گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں عالمِ عربی واسلامی میں سراہا گیا اور نہایت قدر کی نگاہوں سے دیکھا گیا، استاذ محترم ڈاکٹر اشتیاق احمد اعظمی مدظلہ العالی نے آپ کے علمی کارناموں کو تفصیل سے ذکر کردیا ہے، انہیں حدیثی خدمات کے صلہ میں ۱۹۸۰ء ؁ میں آپ کو شاہ فیصل عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا، اور اس کے ایک سال بعد ۱۹۸۱ء ؁ میں سعودی شہریت بھی تفویض کی گئی۔

سفر آخرت: زندگی کی شام ہوچکی ہے، چراغِ سحری خاموش ہونے کے لیے تیزی سے بھبھک رہا ہے، مگر اسلام کا یہ مردِ مجاہد باطل کی سرکوبی کے لیے ہر وقت تازہ دم، وہی جذبہ، وہی جوش ،وہی ولولہ جو ایک نوجوان مجاہد کو مقصودِ حقیقی کی طلب وجستجو میں ہوتا ہے، کہنے والے نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا ہے: بڑھاپے میں جوانی سے بھی زیادہ جوش ہوتا ہے، بالآخر اسلام کا یہ بے لوث خادم ۲۰؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ؁ کو مالکِ حقیقی کے حضور جا پہونچا، ’’طبت حیاً وطبت میتاً‘‘ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی قبر کو نور سے بھر دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

بياد محدث جليل ڈاكٹر   محمد مصطفى   الاعظمى ﷫

نتيجۂ فكر:الحاج عزيز الرحمن صاحب وفا ؔنظامي, كوپاگنج, مئو

هندوستاں كا نير تاباں چلا گيا

علم حديثِ پاك كا عنواں چلا گيا

ملت كا درد لے كے وه درماںچلا گيا

نباضِ وقت عيسىٴ دوراں چلا گيا

احساس يه كهتا هے كه بازارِ مصر سے

دامانِ پاك يوسف كنعان چلا گيا

يورپ كو دے رها تھا جو دنداں شكن جواب

صد حيف آج نازشِ دوراں چلا گيا

كرده زفيضِ خويش معطر مشام جاں

شهر خُتن سے مشك غزالاں چلا گيا

يا رب مقام جنت فردوس كر عطا

پي كر وه جام بادۂ عرفاں چلا گيا

هاتف زبان غيب سے ديتا هے يه صدا

سوئے جناں برحمت يزداں چلا گيا

۞۞۞۞۞۞

حُدى خواني كي وه لَے هے نه ليلى هے نه محِمل هے

بتا اے كاروانِ دل كهاں اب تيري منزل هے

نه صهبا هے نه ساغر هے نه وه ساقيٴ محفل هے

ميريبے تابيٴ دل كيا سراپا رقص بسم هے

۞۞۞۞۞۞

نه بعد از مصطفي مصري نه بعد از اعظمي كوئي

نظر آتا نهيں عالم ميں تيرا پھر كوئي ثاني

“كنوں در جامعيت مثل اوديگر نمي بينم”

اگر بينم بايں شهر مئو با مصطفى مصري

۞۞۞۞۞۞

اهل مئو كي آنكھ كا تارا كهيں جسے

علم حديث پاك كا دريا كهيں جسے

اك نامِ مصطفى جسے ملت كو ناز تھا

“ايسا كهاں لائيں كه تجھ سا كهيں جسے”


   حواشی

[1] تذکرۂ علماء ہند : ص 3۔

[2]  تاریخ فیروز شاہی: ۱؍۶۵۲، بحوالہ: ہندوستان میں علم حدیث، از ڈاکٹر نعیم صدیقی۔

[3]  مقدمۃ مفتاح کنوز السنۃ۔


Share This
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *