بقلم: محمد ہاشم قاسمى بستوى
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ، الَّذِي قَالَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا»، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ، أَمَّا بَعْدُ.
صدرِ عالی وقار، حكم صاحبان،اور معزز اساتذہ کرام اور ميرے دوستو! آج مجھے جس موضوع پر لب کشائی کا شرف حاصل ہو رہا ہے، وہ اس ہستی کے بارے میں ہے جو انسانیت کا محسن ہے، جو شعور کا معمار ہے، اور جو تاریک راہوں میں علم کی شمع روشن کرتا ہے۔ میرا موضوع ہے “استاذ کا مقام”۔
جنابِ صدر! استاذ وہ نہیں جو محض چند کتابیں پڑھا کر اپنی ذمہ داری پوری کر دے، بلکہ استاذ وہ روحانی باپ ہے جو پتھر کو تراش کر ہیرا بناتا ہے۔ اگر والدین بچے کو زمین پر لانے کا سبب بنتے ہیں، تو استاذ اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ استاذ اس سیڑھی کی مانند ہے جو خود تو اپنی جگہ رہتی ہے لیکن اس پر چڑھنے والے بامِ عروج تک پہنچ جاتے ہیں۔
حضراتِ گرامی! استاذ کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ کائنات کے سب سے بڑے ہادی، سرورِ کونین حضرت محمد ﷺ نے اپنے تعارف کے لیے جو الفاظ منتخب کیے، وہ تھے: “اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا” مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے)۔ جب نبی کریم ﷺ نے معلم ہونے پر فخر کیا تو پھر اس پیشے سے زیادہ مقدس اور معزز پیشہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ استاذ قوم کے نوجوانوں کی آبیاری کرتا ہے، ان کے کردار کو سنوارتا ہے اور انہیں معاشرے کا کارآمد حصہ بناتا ہے۔ سکندرِ اعظم سے کسی نے پوچھا کہ تم اپنے باپ سے زیادہ استاذ کی عزت کیوں کرتے ہو؟ تو اس نے تاریخی جواب دیا: “میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا، جبکہ میرا استاذ مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔”
معزز سامعین! تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے استاذ کی قدر کی، وہ دنیا کی امام بن گئی۔ خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹوں میں اس بات پر جھگڑا ہو جاتا تھا کہ استاذ کے جوتے کون سیدھے کرے گا اور وضو کا پانی کون ڈالے گا۔ یہی وہ ادب تھا جس نے مسلمانوں کو دنیا کا حکمران بنایا۔ لیکن افسوس! آج ہمارے معاشرے میں استاذ کا وہ احترام باقی نہیں رہا۔ یاد رکھیے! جو قومیں اپنے محسنوں کی قدر نہیں کرتیں، تاریخ انہیں کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: “جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا، وہ میرا آقا ہے، چاہے مجھے بیچے، آزاد کرے یا غلام بنا کر رکھے۔” اس حقیقت کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
ادب تعلیم کا جوہر ہے، زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمتِ استاذ کرتے ہیں
جنابِ والا! ڈاکٹر ہو یا انجینئر، جج ہو یا جرنیل، یا ملک کا وزیرِ اعظم—یہ سب کس کی محنت کا پھل ہیں؟ یہ سب اسی “استاذ” کے لگائے ہوئے پودے ہیں۔ استاذ بادشاہ نہیں ہوتا، مگر بادشاہ گر ضرور ہوتا ہے۔ آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے اور ہماری نسلیں سنور جائیں، تو ہمیں اساتذہ کو وہی کھویا ہوا مقام دینا ہوگا۔ ہمیں ان کے سامنے نگاہیں جھکانا ہوں گی کیونکہ ان کی رضا میں ہی ہماری کامیابی کا راز مضمر ہے۔
اقبال نے بھی استاذ کے اسی مقام کی طرف اشارہ کیا تھا:
خدا نے دی ہے بزرگی انھیں زمانے میں
یہ اپنے علم سے پتھر کو ہیرے کرتے ہیں
معزز سامعین! یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ استاذ کے ہم پر کیا حقوق ہیں۔ استاذ کا حق صرف یہ نہیں کہ اسے ماہانہ تنخواہ دے دی جائے، بلکہ اس کا سب سے بڑا حق “عزت اور توقیر” ہے۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ استاذ کو معاشی پریشانیوں سے آزاد کرے تاکہ وہ یکسو ہو کر نسلوں کی آبیاری کر سکے۔ استاذ کی ڈانٹ میں بھی شاگرد کی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے، جیسے کمہار مٹی کو درست کرنے کے لیے اسے ضرب لگاتا ہے۔ ہمیں استاذ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے، کیونکہ علم عاجزی سے ملتا ہے، اکڑ سے نہیں۔ بقول شاعر:
جس کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں
جنابِ والا! لیکن آج بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں استاذ اور شاگرد کا وہ روحانی رشتہ کمزور پڑ گیا ہے۔ تعلیم “کاروبار” بن گئی ہے اور ادب و احترام کہیں کھو گیا ہے۔ آج کا طالب علم استاذ سے بحث کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ یاد رکھیے! جب تک ہم “ادب” کو واپس نہیں لائیں گے، ڈگریاں تو مل جائیں گی مگر “علم” نہیں ملے گا۔ بے ادب ہمیشہ بے نصیب رہتا ہے۔ قومیں تب تباہ نہیں ہوتیں جب ان کے پاس وسائل ختم ہو جائیں، بلکہ تب تباہ ہوتی ہیں جب ان کی نظر میں استاذ کا وقار ختم ہو جائے۔
اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
آخر میں! میں اپنی تقریر کا اختتام اس دعا پر کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام اساتذہ کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ کیونکہ استاذ کی عظمت کو ترازو میں نہیں تولا جا سکتا، یہ وہ انمول تحفہ ہے جو خدا خوش نصیب قوموں کو عطا کرتا ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


