maulana basheer ahmad

مولانا بشیر احمد قاسمی: تعارف و تذکرہ کے تناظر میں

استاذ الاساتذہ مولانا بشیر احمد قاسمی رحمہ الله  سابق صدر جمعیتہ علماء ضلع سنت کبیر نگر یوپی: تعارف و تذکرہ کے تناظر میں

از: حضرت مولانا قیام الدین صاحب  القاسمی جنرل سیکرٹری جمعیتہ علماء ضلع بستی یوپی ، پرنسپل مدرسہ عربیہ اشرف العلوم ہٹوابازار بستی

نگارش اولیں :-

متحدہ ضلع بستی سے منسلک  علم وہنر سے لیس ، علم پرور سرزمین مقام بجہرا ضلع سنت کبیر نگر اتر پردیش کے ایک علم دوست صاحب نسبت خانوادہ میں بیسویں صدی عیسوی کے اوائل ( غالباً 1923 ) میں ایسی عبقری ہستی نے جنم لیا جس کی رفتارِ زندگی کا دائرہ کار ایک صدی سے زائد پر محیط ہے اس طرح عافیت آمیز درازئ عمر جیسی نعمت عظمیٰ بہت ہی کم مردانِ خدا کے حصّے  میں آتی  ہے الحمد  لله یہ حصّہ خوشا ( ایک سو سال سے زائدعمر ) استاذ العلماء  مرد قلندر مولانا بشیر احمد قاسمی رحمہ اللّٰہ کو حاصل ہوا جنہوں نے اپنی زندگی کا بیش بہا سرمایہ حصول علم واگہی ، درس وتدریس ، دعوت وتبلیغ ، جمعیتی اورملی سرگرمیوں میں صرف کیا جس کی وجہ سے ملت کی کئى نسلوں اور خلق خدا نے مولانا مرحوم کی فیض رسا ملی معاشرتی اور تعلیمی خدمات سے خوب استفادہ کیا چنا نچہ شب بیداری ، آہ سحر گاہی کے رسیا   اس مرد مؤمن  نے نبوی مشن سے سر شار ہوکر اپنی زندگی کے آغاز و انجام اور نشیب و فراز کو  نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا اور اپنے اسلاف کے رہنما خطوط کو سامنے رکھتے ہوئے نگہ بلند ، سخن دلنواز اور جاں پر سوز جیسے اوصاف کو میر کارواں کی طرح اپنا رخت سفر باندھا الحمدللہ آپ کی حیات مستعار کا یہ رخت ِسفر اتنا بامقصد اور بامراد رہا کہ آپ اپنی  بنیادی ابتدائی تعلیم وتربیت سے لیکر تادمِ حیات ہر جگہ کامیاب رہے ۔

نگہ بلند سخن دلنواز اور جاں پرسوز

یہی ہے رخت ِسفر میر کارواں کے لئے

حصول علم و آگہی :-

حضرت مولانا بشیر احمد قاسمی رحمتہ اللہ علیہ نے حصول علم و آگہی  کى بسم الله خانگی تعلیم سے کیا اور  مکتبی تعلیم اپنے پاس پڑوس کےگاؤں بستہ، بسڈیلہ کے مکتبوں سے  پوری کی، درس نظامی کی تعلیم کے لئے آپ نے قدیم دینی ادارہ مرکز اسلامی مدرسہ عربیہ تعلیم الدین اونچہرہ سنت کبیر نگر یوپی  کا رخ کیا جہاں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے شاگرد رشید فعال اور متبحر عالم دین فاتح تپہ اجیار  استاذالعلماءوالمشائخ مولانا زین العابدین اعظمی رحمہ اللّٰہ کے زیر تربیت رہ کر   عربی ،فارسی ،  فقہ ، صرف ،نحو، علم تفسیر   ،علم معانی اور بلاغت کی ابتدائی بنیادی کتابیں پڑھ کر ثانویہ درجات کی تعلیم مکمل کی۔

اس  کے بعد مولانا مرحوم نے اعلیٰ تعلیم حاصل  کرنیکی غرض سے ایشیاء کی شہرۂ آفاق عظیم علمی مرکز دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا، اور وہاں کے علم وعمل کے پیکر،قائدانہ صلاحیت سے ہم آہنگ صاحبانِ علم وفن   بالخصوص  شیخ الاسلام  مولانا حسين احمد مدنى (   1879-1957 )   شیخ الادب  مولانا اعزاز على امروہوى ( 1882-1955 )   شیخ المنطق و الفلسفہ علامہ محمد ابراہىم بلياوى ( 1887- 1967 )   مایہ ناز عالم دین مولانا عبد السميع صاحب ديوبندى( 1878-1947 )رحمہم الله جیسے اساتذہ کرام سے اکتسابِ فیض کی سعادت حاصل کرکے 1947ء میں دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل فاضل بنے، علم و فن میں مزید نکھار پیدا کرنے کی غرض سے  فضیلت کے  بعد دارالعلوم میں رہ کر وہاں سے  اضافی کورس کی بھی تکمیل کی سب سے اچھی بات رہی کہ آپ کی تعلیم و تربیت پر مولانا مدنی کی گہری نظر رہتی تھی جس کی وجہ سے آپ سمع وطاعت کے جذبہ سے معمور مولانا مدنی سے والہانہ عقیدت و محبت رکھنے لگے اور مولانا مدنی رحمہ اللّٰہ سے بیعت بھی ہوگئے ۔

تدریسی خدمات:-

تعلیم و تربیت اور بیعت وارشاد کے مراحل کو طے کرنے کے بعد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللّٰہ کی ہدایت پر 1952ء میں صوبہ بہار کے مدرسہ اسلامیہ قاسمیہ گیا میں تین سال تدریسی خدمات انجام دی 1956ء میں آپ کو اپنی مادر علمی مرکز اسلامی مدرسہ عربیہ تعلیم الدین اونچہرہ میں تدریسی خدمات کا موقع ملا جہاں آپ نے آٹھ سال تک طالبان علوم نبوت کو علم و معرفت کا درس دیا اور علاقہ میں آپ کے علم و عمل اور بزرگی کا شہرہ عام ہونے لگا ، یہی وجہ تھی کہ مدرسہ دینیہ مونڑاڈیہ بیگ سنت کبیر نگر کی انتظامیہ نے مدرسہ تعلیم الدین اونچہرہ کے ذمہ داران سے خوشامد کرکے  مولانا قاسمی کو اپنے یہاں لے آئے اور انہوں نے نہایت ہی استقلال اور یکسوئی کے ساتھ مدرسہ کی تعلیمی اور انتظامی خدمات میں  اپنی پوری زندگی کا بیشتر حصّہ  گذارد یا اس طرح آپ اپنی مخلصانہ خدمات ، متواضعانہ سلوک ، خوش خلقی اور حسن معاشرت  کی وجہ سے مقبول عام اور ہر دلعزیز ہوگئے   جیسا کہ جامعہ اسلامیہ مظفر پور اعظم گڑھ کے استاذ اور  ریسرچ اسکالر فاضل فائق مولانا محمد ہاشم قاسمی بستوی  صاحب رقمطراز ہیں کہ  ،،  سن 1964ء ميں مو نڈاڈیہہ بیگ كے كچھ سر برآورہ لوگ مدرسہ تعليم الدين  اونچہرہ آئے اور مدرسہ والوں كى بڑى منت سماجت كركے آپ كو مونڈاڈیہا بیگ لے آئے، تب سے لے كر آپ نے اپنى پورى زندگى مدرسہ عربیہ دینیہ مو نڈاڈیہہ بیگ كوسنوارنے اور نكھارنے اور نونہلانِ اسلام كى آبيارى  ميں صرف كردى،تقريبا60 سال سے زائد كا عرصہ آپ نے  يہاں گزارا ، مونڈاڈیہہ بیگ والوں نے بھى  آپ كو بڑى عزت اور احترام كے ساتھ ركھا، اور آپ نے بھى كبھى كوئى   شكايت كا موقع نہيں ديا، بڑی خاموشی اور  دیانتداری کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے،  اس ادارے کو پروان چڑھا نے میں آپ کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے ،مونڈاڈیہہ بیگ  کے بیشتر بزرگ بلکہ قرب و جوار کے  وہ علماء جو اس وقت بڑے بڑے اداروں كےمختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں وہ سب آپ  ہی  کےتربیت یافتہ ہیں، طلبہ کے ساتھ آپ  کا رویہ نہايت مشفقانہ تھا،   ماہِ  رمضان ميں آپ  مونڈاڈیہہ بیگ ہى   میں قیام کرتے تھے،  اور گاؤں کے چھوٹے چھوٹے بچے جو رمضان ميں  پڑھنے آتے  تھے آپ ان كو بڑى شفقت اور محبت  کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے ، مونڈاڈیہہ بیگ كى تقریبا تین نسلوں کو آپ نےزيورِ علم سے آراستہ کیا، پيرانہ سالى اور بڑھاپے كے باوجود   آپ اپنا  ہر ايك کام خود کرنے كى كوشش كرتے تھے،  خود ہی پانی بھر کے لاتے اور وضو  کرتے تھے،  اور اگر كسی کو كبھى  خدمت کا موقع دے بھى دیتے تو اسے دعاؤں سے خوب نوازتے تھے۔مونڈاڈیہہ بیگ والوں كا يہ بھى بيان ہے كہ:ہمارے گاؤں میں تقریبا ادھر 60 سال تک گاؤں كے تمام مرحومین کا جنازہ آپ ہى پڑھايا كرتے تھے، اور اگركسى وجہ سے آپ کبھی گھر  بھى چلے جاتے تھے تو مرحومین کےاولیاء  اور ان  كے ورثہ آپ  کو جا کر لاتے تھے اور نماز جنازہ آپ ہى سے پڑھوایا کرتے تھے ،،

  امور ملت کے تئیں حساس حوصلہ ؛-

 بلاشبہ مولانا مرحوم ایک صاحب نسبت بزرگ عالم دین تھے شروع سے شیخ الاسلام مولانا مدنی  فدائے ملت مولانا اسعد مدنی  اور قائد ملت امیر الہند مولانا ارشد مدنی حفظہ اللہ جیسے اکابرین خانوادہ مدنی سے وابستہ رہے جس کی وجہ سے آپ ہمہ وقت امور ملت کے تئیں حساس دل اور حوصلہ بخش عزائم رکھتے تھے مدرسہ میں رہتے ہوئے  ضلع جمعیتہ علماء کے ذمہ دار علماء کرام اور محکمہ شرعیہ کے اراکین فضلاء عظام سے ارتباط باہمی کے ساتھ ملی مسائل اور شرعی معاملات کے حل کے لئے بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے اورجو ذمہ داریاں آپ کے سپرد ہوتیں  اسے خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے مولانا مرحوم اکابرینِ ملت کی پہچان اور فکر دیوبند  کے ترجمان تھے چنانچہ  فاضل نبیل مولانا سراج احمد حمیدی صاحب آفس سکریٹری جمعیتہ علماء ضلع سنت کبیر نگر مولانا مرحوم کی ملی خدمات ، خشیت الٰہی جذبات پر اپنا تاثر پیش کرتے ہوئے یوں تحریر فرماتے ہیں کہ:

،، حضرت خادمِ ملت مولانا عبدالحمید صاحب بستوی رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد، آپ کو ضلع جمعیۃ کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس عہدے پر فائز رہتے ہوئے، آپ نے تنظیم کے مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے ضلع کی مختلف کانفرنسوں اور اجلاسوں کی صدارت کی اور اصلاحِ معاشرہ کے پروگراموں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا۔ آپ کی قیادت میں منعقد ہونے والے پروگراموں میں قومی یکجہتی کانفرنس بمقام مدرسہ امداد العلوم دانو کوئیاں اور دینی تعلیمی بیداری کانفرنس بمقام جامعہ نورالاسلام مہدیو شامل ہیں، جنہوں نے پورے علاقے میں مثبت اثرات مرتب کیے۔

مولانا بشیر احمد قاسمی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی زہد و تقویٰ کا عملی نمونہ تھی۔  آپ کم گو مگرجہد مسلسل کے  حامل شخصیت تھے آپ شب زندہ دار بھی تھے اور راتوں کو خدا کے حضور ملت کی کسمپرسی اور اپنی نجات کی فریاد کرتے تھے۔ آپ کی شخصیت میں عفو و درگزر، شفقت، محبت اور اخلاص جیسے اوصاف نمایاں تھے۔ آپ نے اپنے مخالفین کے طعن و طنز کو برداشت کیا اور ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ آپ کی زندگی نسلِ نو کے لیے مشعلِ راہ ہے تاکہ وہ دین کی خدمت میں پیش آمدہ دقتوں کا ادراک کر سکیں اور رہنمائی حاصل کر سکیں۔ مولانا بشیر احمد قاسمی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک دین و ملت کی خدمت جاری رکھی ،،۔

وفات و تعزیت

ایک صدی سے زائد پرمحیط راہ زندگی کا یہ خاکی مسافر اپنی پیرانہ سالی عذر سمیت معمولی علالت کے بہانہ  10/فروری 2025 مطابق 11/شعبان المعظم1446 ھ بروز دوشنبہ صبح کے وقت دار آخرت کے لئے ( انتقال کر گیا ) رخت سفر باندھ لیا  ،، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ،،

جیسے ہی سانحہ ارتحال کی خبر پھیلی اعزہ واقارب اور علمی حلقوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی تجہیز وتعزیت کے لئے عقیدتمندوں اور متعلقین کی اچھی خاصی بھیڑ اکٹھا ہوگئى اسی روز بعد نمازِ عصر تجہیز وتکفین کا عمل پورا ہوا  آپ کے صاحبزادہ محترم مولانا منیر احمد قاسمی نے نمازِ جنازہ پڑھائی جنازہ میں متحدہ ضلع بستی ( ضلع سنت کبیر نگر ، ضلع سدھارتھنگر ،ضلع  بستی ) کے علماء کرام، حفاظ عظام ،طلبہ مدارس اور خلق خدا کی قابلِ رشک تعداد موجود رہی جنہوں  نے اپنی نمناک آنکھوں سے مولانا مرحوم کو مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا ،پس ماندگان میں  نو/9  لڑکوں پر مشتمل اولاد واحفاد سے ہرا بھرا کنبہ موجود ہے ۔

مولانا کے انتقال پر ملال کے موقع پر ایصال ثواب اور علماء کرام کے تعزیتی پیغام کا سلسلہ جاری رہا۔

 جمعیتہ علماء ضلع بستی یوپی کے اراکین نے بھی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا،  جمعیتہ علماء ضلع بستی یوپی کے صدر مولانا ظہیر انوار قاسمی مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ بستی نےاستاذ العلماء  مولانا بشیر احمد قاسمی کی موت کو  موت العالم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یقیناً مولانا مرحوم نمونہ اسلاف تھے اور مجاہد آزادی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے تلامذہ میں سے تھے آپ کے اندر قوت فکر وعمل ،حوصلہ مندی ، جذبہ ایثار صبر و شکر ،استقلال  اور اکابرینِ ملت کے ملی علمی وراثت کو پوری امانت داری کے ساتھ نبھانے کا حوصلہ تھا جبکہ دیگر اراکین نے مشترکہ طور پر تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ  مولانا بشیر احمد قاسمی  سابق صدر جمعیتہ علماء ضلع سنت کبیر کی رحلت ہم سب کے لئے ایک ایساخلا ہے جو پر نہیں ہوسکتا ہے،  مولانا مرحوم خندہ رو  خوش مزاج عالم دین تھے اور اکابرینِ ملت کے علمی ملی اثاثہ کے امین تھے اس صفات سے متصف عالم ربانی کا ہمارے درمیان سے ناپید ہونا یقیناً ہم سب کے لئے بڑی محرومی کی بات ہے دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزت علماء ربانیین کی خلا کو پر فرمائے ۔

  دعائےمغفرت اور تعزیت کرنے والے علماء کرام میں خصوصی طور پر  مولانا عبدالحلیم مظاہری ضلع نائب صدر جمعیتہ علماء ضلع بستی، مولانا وصی اللہ قاسمی ضلع نائب صدر   ، مولانا محمد علی مفتاحی مہتمم دارالعلوم اشرفیہ گندھریا بزرگ ،مولانا نبی سرور قاسمی صدر جمعیتہ تحصیل ہریا ،  مولانا محمد احمد قاسمی صدر جمعیتہ علماء صدر تحصیل بستی ، مولانا مہر علی مظاہری ضلع معاون خازن ، مفتی سعید احمد مظاہری صدر جمعیتہ تحصیل رودھولی ، مولانا شفیق الرحمن قاسمی ، مولانا حمیداللہ قاسمی ، مولانا محمد صدیق ، حافظ محمد وصی،  مولانا ارشد اللہ مفتاحی ، مولانا امجد علی ندوی ، مولانا شہاب الدین قاسمی  صدر بنکٹی بلاک ، قاری شمیم اختر امام وخطیب۔ رحمت مسجد رودھولی ,  ،مولانا جمال الدین امام وخطیب جامع مسجد بیلی وغیرہ کے اسماء قابلِ ذکر ہیں۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply