توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
نحمده ونصلي على رسوله الكريم أما بعد: أَمَّا بَعْدُ! فَقَدْ قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِى الْقُرْآنِ الْـمَجِيْدِ: وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔
صدرِ ذی وقار، علمائے ذی احتشام، حكم صاحبان اور میرے عزیز و غیور نوجوانو!
آج ہندوستان کی فضاؤں میں مسلمانوں ميں خوف و اضطراب کی لہریں دوڑ رہى ہیں۔ ملتِ اسلامیہ ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ ہر سو یاس و قنوطیت کے بادل منڈلا رہے ہیں، چہارجانب ہُو سى كيفيت ہے، تعليم گاہوں كى حالت بد سے بدتر ہو چكى ہے،خصوصاً اس وقت ہندوستانى مسلمانوں کو تو بندشوں اور پابندیوں میں جکڑ دیا گیاہے، ان پر چو طرفہ حملے ہو رہے ہيں،ان پرعرصہ ء حيات تنگ كيا جا رہا ہے،وطن كى سرزمين اپنی وسعت کے باوجود مسلمانوں پر تنگ ہوچکی ہے۔وطن كے تئيں ان كى جانفشانيوں اور قربانيوں كو يكسر فراموش كر كےان كو غدار بتايا جا رہا ہے،اور اس چمن كى ہواؤں میں یہ سرگوشیاں ہیں کہ کیا اس چمن سے ہمارا وجود مٹا دیا جائے گا؟ کیا ہماری تہذیب کے نقوش كھرچ كھرچ كر مٹا ديئے جائيں گے؟
ایسے پرآشوب اور مہیب سناٹوں میں، میں آپ کے سامنے آہ و بکا کرنے نہیں، بلکہ آپ کے رگ و پے میں حرارتِ ایمانی دوڑانے آیا ہوں۔ میں آپ کو علامہ اقبال کا وہ لافانی پیغام یاد دلانے آیا ہوں جو محض شاعری نہیں، بلکہ صحیفۂ جرات ہے اور جو پکار پکار کر کہہ رہا ہے:
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں
ہم سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
عزیزانِ گرامی قدر! یہ اشعار ہماری میراث ہیں۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ قوم جس کے پاس قرآن جیسا منشورِ حیات ہے، جس کے پاس سرورِ کونین ﷺ جیسی عظیم قیادت ہے، وہ آج زبوں حالی اور انحطاط کا شکار کیوں ہے؟ آج ہم اغیار کی نظروں میں بے وقعت کیوں ہو گئے؟
آئیے! ذرا جذبات کے سیلِ رواں کو روک کر، لمحۂ فکریہ کے طور پر اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ قرآن کا قانونِ قدرت اٹل ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ “
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
ہمارے زوال کے اسباب خارجی کم اور داخلی زیادہ ہیں: آئيں تھوڑى تفصيل سے سمجھنے كى كوشش كريں:
ہماری پہلی اور بنیادی غلطی “سرچشمۂہدایت سے دوری” ہے۔ ہم نے قرآن کو محض طاقِ نسیاں کی زینت بنا دیا۔ وہ کتاب جو تسخیرِ کائنات کا درس دیتی تھی، ہم نے اسے محض ایصالِ ثواب تک محدود کر دیا۔ جب تک ہم قرآن کے اسرار و رموز سے وابستہ رہے، ہم زمانے کے امام اور مقتدا تھے، جب ہم نے اس حبل اللہ کو چھوڑا، تو ذلت ہمارا مقدر ٹھہری۔ اقبال نے کیا خوب نوحہ پڑھا تھا:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
دوسرا مہلک مرض جو ہمیں دیمک کی طرح کھا رہا ہے، وہ “افتراق اور انتشار” ہے۔ رسولِ عربی ﷺ نے فرمایا تھا کہ “مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے” اور “یہ امت ایک جسم کی مانند ہے۔” مگر آہ! آج ہم پارہ پارہ ہو چکے ہیں۔ ہماری صفوں میں مسلکی تعصب کا زہر گھول دیا گیا ہے۔ ہم نے “امت” کے وسیع تصور کو چھوڑ کر خود کو فرقوں کی تنگ کوٹھڑیوں میں مقید کر لیا ہے۔ یاد رکھیے! جب طوفان آتا ہے تو وہ درختوں کی جڑیں نہیں پوچھتا، وہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔ دشمن ہمیں “مسلمان” سمجھ کر نشانہ بنا رہا ہے اور ہم آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاك بھى اللہ بھى قرآن بھى ايك
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
عزيز دوستو! اور تیسری وجہ، جس کی پیش گوئی صادق و امین ﷺ نے فرمائی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب قومیں تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے دسترخوان پر، اور تمہاری حیثیت سیلاب کی جھاگ جیسی ہوگی۔ صحابہ نے سبب پوچھا تو فرمایا: “الْوَهَن” یعنی تمہارے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت کا ڈر بیٹھ جائے گا۔ آج اسی “وہن” نے ہمیں کمزور بنا دیا ہے۔ ہم نے اپنی آسائشوں اور محلات کے تحفظ کی خاطر کلمۂ حق کہنے سے گریز کیا۔ اپنے اخلاق وکردار کو اسلام کے آئینہ میں دیکھنے کے بجائے غیراسلامی آئینہ سامنے رکھ کر دیکھا ، جب ہم نے شہادت کی تمنا چھوڑی، تو غلامی کی زنجیریں ہمارا نصیب بن گئیں۔
وہ سوز و گُداز اس محفل میں باقی نہ رہا اندھیر ہوا
پَروانوں نے جلنا چھوڑ دیا شمعوں نے پگھلنا چھوڑ دیا
لیکن میرے شاہین صفت نوجوانو! خبردار! مایوسی کفر ہے۔ یہ حالات، یہ سختیاں، یہ آزمائشیں مومن کو کچلنے نہیں بلکہ اسے کندن بنانے آتی ہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن میں تسلی اور بشارت کا سامان رکھ دیا ہے: “وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ” یعنی “اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مومن ہو۔”
شرط “ایمان” ہے! یہ مخالف ہوائیں تو محض تمہاری پرواز کو بلند کرنے کے لیے چلائی گئی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کو دیوار سے لگایا گیا، انہيں كچلنے كى لا حاصل كوششيں كى گئيں وہ وہیں سے ایک نئی قوتِ قاہرہ بن کر ابھرے۔
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
آج ہمیں ڈرایا جا رہا ہے کہ ہم یہاں اجنبی ہیں۔ ہميں ملك بدر كرنے كى آئے دن دھمكياں مل رہى ہيں، میں ببانگِ دہل کہتا ہوں کہ ہم اس دھرتی پر کرایہ دار نہیں، ہم حصہ دار ہیں۔ ہماری رگوں میں اسی مٹی کا نمک اور ہمارے اسلاف کا لہو گردش کر رہا ہے۔ ہم نے اس گلشن کی آبیاری اپنے خونِ جگر سے کی ہے، اور ہم اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
اب سوال یہ ہے کہ ہم کریں کیا؟ جذباتی نعروں اور ہنگامہ آرائی کے بجائے ہمیں “بصیرت” اور “حکمت” کا دامن تھامنا ہوگا۔ سب سے پہلے اپنی صفوں میں آہنی اتحاد پیدا کیجئے۔ فروعی اختلافات کو مسجد کی دہلیز تک محدود رکھئے اور باہر نکل کر “بنیانٌ مرصوص” یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیے۔
دوسرا کام علم کی شمعیں روشن کرنا ہے۔ ہمیں ایسے نوجوان درکار ہیں جو ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں جدید ٹیکنالوجی تھامے ہوئے ہوں۔ جہالت کے اندھیروں کو صرف علم کے نور سے شکست دی جا سکتی ہے۔ اور تیسری چیز اپنے کردار کی تعمیر ہے۔ اپنے اخلاق کو اس بلندی پر لے جائیے کہ غیر بھی آپ کی امانت و دیانت کی قسم کھائیں۔ کردار کی طاقت تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔
ماضی کے ملبے پر بیٹھ کر رونے کے بجائے مستقبل کی عمارت تعمیر کیجئے۔ آئیے! آج اس محفل میں یہ عہدِ وفا استوار کریں کہ ہم منتشر نہیں ہوں گے، ہم علم کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور ہم اپنے ایمان کا سودا ہرگز نہیں کریں گے۔
میری آخری بات گرہ میں باندھ لیجئے! اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، سورج کو طلوع ہونے سے نہیں روک سکتا۔ میں اپنی گفتگو کا اختتام ان ولولہ انگیز اشعار پر کروں گا جو آپ کی رگوں میں بجلیاں بھر دیں:
یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
ہزار برق گرے، لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


