maulana abul qayyum

حضرت مولانا عبد القیوم قاسمی بستوى پر مولانا قیام الدین القاسمی كا تعارفى تجزيہ

   اکابرینِ ملت کا  بے لوث نمائندہ :  حضرت مولانا عبد القیوم قاسمی رحمہ الله سابق صدر جمعیتہ علماء ضلع بستی یوپی

   بقلم: حضرت مولانا قیام الدین القاسمی جنرل سیکرٹری جمعیتہ علماء ضلع بستی یوپی، پرنسپل مدرسہ عربیہ اشرف العلوم ہٹوابازار بستی یوپی۔

آج سے 25/ برس پہلے گجرات کے ایک مشہور صنعتی شہر بڑودہ میں  راقم ناچیز کی ملاقات ایک ایسے فاضل و باوقار عالمِ دین سے ہوئی جسکی  ملک وملت کی تاریخ پر گہری نظر تھی ،علماء حق کے شاندار ماضی، اور اکابر ملت اور ان کے عظیم کارناموں سے روشناسى ہی نہیں بلکہ  ان سے گہرى واقفيت تھى، وہ اپنے گفتار و کردار اور انداز تکلم سے بیدار دماغ انسان معلوم ہورہے تھے ملاقاتی استقبال وسلوک کے بعدپتا  چلا كہ حضرت والا كا اسم گرامى عبد القيوم ہے، اور آپ کا تعلق اترپردیش کے کمشنری بستی کے علاقے   تپہ اجیار کے اس موضع مونڈا ڈیہ بیگ ضلع سنت کبیر نگر سے ہے،  جہاں سے آزادئ وطن کےلئے انقلاب آفریں پیغام کو عام کیا گیا،   اور یہیں کی خاک سے علم و عمل کی بڑی بڑی ہستیوں نے جنم لیا خاص طور سے مجاہد آزادی مولانا عبد الوہاب قاسمی کی ملی علمی اور معاشرتی خدمات نمایاں ہیں جو نئ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

یہ ایک صنم خانہ ہے جہاں محمود بہت تیار ہوئے

اس خاک کے ذرے ذرے سے کس درجہ شرر بیدار ہوئے

تولید وتعلیم  :-

مولانا قاسمی اسی خاک وطن رسول پور مونڈاڈیہ بیگ سے جنوری 1950کی پیداوار ہیں، آپ کی ابتدائی تعلیم  استاذ العلماء حضرت مدنى كے شاگرد حضرت مولانا بشیر احمد قاسمی صاحب کے زیر تربیت مدرسہ عربیہ دینیہ مونڈاڈیہ بیگ سنت کبیر نگر میں ہوئی،  اپنے اتالیق و مربی اساتذہ  سے تعليم كے ابتدائی مراحل کو طے کر تے ہوئے  مولانا مرحوم نے1966ء میں ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دارلعلوم دیوبند کا رخ کیا اور وہاں کی علمی عبقری شخصیات کے مالک مردم شناس اساتذہ کرام سے اکتساب فیض کیا، دارالعلوم ميں  پر شور حالات (دارالعلوم اسٹرائک) کے باوجود آپ نہایت ہی خاموشی اور جذبہ سمع وطاعت کے ساتھ 1970ءمیں مادر علمی دارالعلوم کی آغوش سے سند فضیلت حاصل کر کے وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔

ع: نہ غرض كسى سے نہ واسطہ مجھے كام اپنے ہى كام سے

شخصيت كے نماياں پہلو :-

          مولانا کی طبیعت  سادگی آ میز آراستگی، عملِ پيہم اور جہدِ مسلسل سے عبارت تھی،  آپ اپنے کاروانِ زندگی کے آخری پڑاؤ تک  بھى خوشی  وغمى، عروج وزوال كے  طبعی اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوئے بغیر رفتار زیست میں مستعد اور مسرور رہے ،اسی لئے بوقت دریافت خیریت آپ اپنے زبان حال سے اس طرح  گویاہوتے:  اللھم لک الحمد ولک الشکر ، چنانچہ مولانا کی سادگی وشکرگذاری کا ایک منظر مجھے یاد آرہا ہے کہ آپ لکھنؤ کے کسی ہاسپٹل میں اپنے  عزیز لخت جگر کو لیکر معالجہ کے لئے گئے ہوئے تھے ڈاکٹر کی تشخیص کے بعد معلوم ہوا کہ قلت خون کی وجہ سے مریض کی حالت ناگفتہ بہ ہے جس کے لئے فوری خون چڑھانے کی سخت ضرورت ہے مولانا طبعی طور پر تھوڑا کشمکش میں مبتلا ہوئے اور بروقت راقم ناچیز کے پاس نہایت ہی والہانہ انداز میں فون کیا جانبین سے علیک سلیک کے بعد خیر وخبر سے معلوم ہوا کہ عزیزم کے لئے خون كى فراہمی کے بابت آفس سکریٹری جمعیتہ علماء اترپردیش لکھنؤ سے راقم رابطہ کرکے بلڈ بینکنگ کے ذریعہ بلڈ حاصل كر لے تو اچھا ہوتا (چونکہ اس وقت جمعیتہ کے تحت لکھنؤ میں بلڈ بیکنگ تحریک چل رہی تھی اور ضرورت مندوں کو فراہم کرایا جاتا تھا اس لئے مولانا کو امید تھی کہ ممکن ہے کہ وہاں سے کوئى کامیابی مل جائے  ) بہر حال آفس سکریٹری کے ذریعہ عذر معقول کی وجہ سے وہاں سے کام نہ بنا تو پھر مولانا نے کسی اور تدبیر سے فراہمئ خون کے ذریعہ مریض کو سنبھالا دیا لیکن پھر بھی مرض سے افاقہ نہ ہوا اوروہ بچہ کچھ دنوں بعد الله كو  پیارا ہو گیا، اور بوقتِ تعزیت  يہ احساس ہوا كہ اتنے بڑے حادثے كے باوجود آ پ کی طبعیت میں کسی قسم کی کشیدگی ، آزردگی اور تصنع نما رودادِ گفتنی کا نام ونشان نہیں ، سادگی وپركارى  اور صبر وشکر کا یہ خاکی مجسم  مرد قلندر کی طرح حالات سے متاثر ہوئے بغير ہر آنے والے مہمان كا خندہ پيشانى سے استقبال كر  رہا ہے اور  اپنی خیریت کے ساتھ مہمانوں كى  خیر خبر لے رہا ہے:

تمہارا   حسن  آرائش   تمہاری   سادگی   زیور

     تمہیں کوئی ضرورت ہی نہیں بننے سنورنے کی

درس وتدریس :-

فراغت کے بعد مولانا مرحوم نے ملک کے مختلف علاقوں  بھولے پور ہنسور فیض آباد ، میرٹھ ، بنکے گاؤں سدھارتھنگر ، دارالعلوم عالیہ کلکتہ تدريسى خدمات انجام ديا، اس كے بعد جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم کمہریا بستی میں  تا دم حیات درس وتدریس ،امامت وخطابت اور نظامت کے فرائض انجام دئے اور ہزاروں شاگردوں کو تیار کرکے آپنے اپنے لئے ذخیرہ آخرت بنایا، مولانا مرحوم درس وتدریس اور تنظیمی امور کے ساتھ لوگوں کے دکھ درد ،غمی خوشی ہر چھوٹى بڑى تقریبات کے لئے سرگرم عمل رہے  اور بتوفیق الٰہی اپنے فیضان محبت کو عام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، یہی وجہ تھی كہ علاقے میں  آپ کو ہر خاص و عام میں مقبولیت حاصل رہی، اس کے علاوہ بیرون صوبہ مہاراشٹر  ممبئی ،گجرات احمد آباد، بڑودہ میں آپ کے مخیر عقیدت مند حضرات دل وجان سے چاہتے تھے، اور ہر چھوٹی بڑی پر مسرت تقريب كے موقع پر  آپ کو باضابطہ مدعو کرتے جہاں آپ بصد شوق تشریف لے جاتے اور وہاں آپ کے معتقدین آپ کے فیضانِ محبت سے متاثر ہوکر پورے اعزاز واکرام کے ساتھ آپ کا پر جوش استقبال کرتے۔

بحیثیت صدر جمعیتہ علماء بستی آپکا انتخاب :-

متحدہ ضلع بستی کی تقسیم اضلاع (سدھارتھنگر ، سنت کبیر نگر ،  بستی) کے بعد بہت دنوں تک جمعیتہ علماء ضلع بستی کی باضابطہ تشکیل نو عمل میں نہیں آئى تھی جبکہ اس کی تشکیل  کی ضرورت کا احساس بڑی شدت سے تھا، چنانچہ اس  کے لئے جمعیتہ علماء ضلع سنت کبیر نگر مدنی منزل سمریاواں بازار کے آفس سکریٹری فعال و فکر مند ،  فاضل ہوش مند محترم مولانا سراج احمد حمیدی صاحب  نے  ریاستی اکابرین جمعیتہ کی ہدایت پر متحدہ ضلع بستی کے ذمہ داران علماء کو ایجنڈا بھیجا اور کمشنری سطح پر مورخہ 11/ نومبر 2010 مطابق 4/ ذی الحجہ 1431ھ بروز جمعرات بوقتِ صبح دس بجے بمقام رحمت مسجد نزد پولیس اسٹیشن رودھولی ضلع بستی  ایک مشترکہ اجلاس بلایا ،جس کی سرپرستی مولانا ظہیر انوار قاسمی مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ بستی ،   اورصدارت  استاذ العلماء مولانا بشیر احمد قاسمی صدر جمعیتہ علماء سنت کبیر نگر،اور نظامت  کے فرائض مولانا علامہ محمد عمر قاسمی مہتمم مدرسہ نورالاسلام مہدیو سنت کبیر نگر  نے انجام دی، الحمدللہ اجلاس میں  مولانا منصور احمد مظاہری صدر جمعیتہ علماء ضلع سدھارتھ نگر  ، مولانا وقار احمد اثری سمریاواں بازار،   مولانا عبد الحلیم مظاہری مہتمم مدرسہ حیات العلوم پریلا غریب ، مولانا ابوالکلام مظاہری مہتمم مدرسہ حمایت الاسلام کردہ ، مولانا ابوالفیض قاسمی کرنپور ، مولانا محمد عبداللّٰہ مظاہری پرنسپل مدرسہ عربیہ اشرف العلوم ہٹوابازار ، مولانا حفیظ الرحمٰن قاسمی مہتمم مدرسہ انوار العلوم بسوکا  سمیت تینوں اضلاع کے پچاس سے زائد مؤقر علماء کرام شریک اجلاس ہوئے  چنانچہ یہ انتخابی اجلاس مشاہدین کی نگرانی میں باضابطہ بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا  اور تمام شرکاء اجلاس کے اتفاق رائے سے  جمعیتہ العلماء کے سینیئر مضبوط سپاہی حضرت مولانا عبد القیوم قاسمی کو بلامقابلہ جمعیتہ علماء ضلع بستی کا صدر منتخب کیا گیا اور اسی اجلاس میں ضلع جنرل سیکرٹری کے لئے بندہ ناچیز قیام الدین القاسمی اور ضلع خازن کے لئے مولانا حفیظ الرحمٰن قاسمی کا بھی انتخاب عمل میں آیا، عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے بعد علماء کرام نے صدر محترم مولانا مرحوم کو خوب خوب مبارکباد پیش کیں اور نیک تمناؤں کے ساتھ ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا ،بہر حال اپنے جمعیتی اوصاف ، منفرد اندازِ تخاطب ، ملی معاشرتی خدمات ، پر اثر باتوں اور طاقت پرواز جیسی صلاحیت کی وجہ سے  چھ ٹرم سے تقریباً بارہ سال تک تادمِ واپسیں  اسی عہدہ پر برقرار رہے۔

صدارتی میقات اور خدمات :-

جمعیتہ علماء ہند کی دستور کے مطابق کسی ممبر/ عہدہ کی مدت کار ( میقات ) فقط دوسال کے لئے ہوتا ہے پہلے از سرِ نو ابتدائی ممبر سازی مہم کے ذریعہ باضابطہ ممبر شپ حاصل کرتے ہیں پھر سلسلہ وار مقامی ،شہری، ضلعی اور ریاستی اکائیوں کا منظم انتخاب ہوتا ہے نہایت ہی قابلِ رشک بات رہی ہے کہ مولانا عبد القیوم قاسمی رحمہ اللّٰہ کی فعالیت ، صلاحیت ، صالحیت اورجمعیتی خدمات ضلع میں نمایاں تھیں چنانچہ انہیں خدمات کو دیکھتے ہوئے 20210ء سے 2022ء تک ہر ٹرم میں عہدہ صدر کے لئے آپ ہی کا انتخاب عمل میں آتا رہا عہدہ صدارت پر فائز رہتے ہوئے جب سے مولانا مرحوم نے ضلع کی کمان سنبھالی میں سمجھتا ہوں کہ ضلع بستی یوپی کا کوئی بلاک اور تحصیل نہیں بچا کہ جہاں آپ نے جمعیتہ کا تعارف نہ کرایا ہو یقیناً جمعیتہ کی وہ خدمات قابلِ تحسین ہیں جو آپ کے دور صدارت میں انجام پذیر ہوئیں چنانچہ ممبر سازی مہم ، اصلاح معاشرہ عشرہ مہم ، ووٹر لسٹ اصلاح تحریک ، ووٹر بیداری مشن اور ریلیف برائے سیلاب زدگان ، ریلیف باز آبادکاری جیسے خدمت خلق (اجڑی ہوئی بستیوں میں نئے مکانات کی تعمیر ) کے لئے مرکز کو بھیجی گئی لاکھوں رقومات کی فراہمی وغیرہ یہ ایسی خدمات ہیں جو کارروائی رجسٹر میں درج ہیں۔

اسی طرح ضلع میں آپ کے زیر صدارت پچاس سے زائد اصلاح معاشرہ اجلاس ، قومی یکجہتی اجلاس ، اربابِ مکاتب ومدارس کانفرنس ، تربیتی کیمپس اور تحفظ مدارس ومکاتب کے لئے قانونی چارہ جوئ جیسے عملی اقدامات قابلِ ذکر ہیں

سانحہ ارتحال :-

 اکابر ملت کا  72 سالہ یہ سچا نمائندہ  بالآخر 12 / شوال المکرم 1443ھ مطابق 13 / مئ 2022 کو جمعہ کی رات میں تقریباً ڈھائی بجے حرکت قلب بند ہوجانے سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگیا اور  اپنى جان جان آفریں کے سپردكر دى  ،،اناللہ وانا الیہ راجعون ،، مولانا کے سانحۂ ارتحال سے اہل خانہ لواحقین سمیت علمی ،جمعیتی اور معاشرتی احباب میں زبردست رنج وغم کا سماں چھا گیا اور یہ خبر کمشنری سطح پر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئى  کہ صدر محترم مولانا عبد القیوم صاحب کا انتقال ہوگیا   چنانچہ ہر ایک زبان حال سے دعا گو رہا کہ:  اللّٰہ رب العزت مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جمعیتہ علماء ضلع بستی کو نعم البدل عطا فرمائے آمین ثم آمین،  تجہیز و تکفین میں  وارثین سمیت مفتی جمال احمد قاسمی ، مولانا عبد النافع قاسمی، مولانا شمشاد احمد قاسمی اور مولانا محمد احمد خاص طور سے سرگرم رہے، بعد نمازِ جمعہ استاذ العلماء حضرت مولانا بشیر احمد قاسمی صدر محکمہ شرعیہ کی اقتداء میں تینوں اضلاع کے مؤقر علماء عظام، حفاظ کرام ، فرزندان توحید نے  نماز جنازہ پڑھکر مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا۔

حشر تك اب زباں نہ كھوليں گے

 تم پكارو گے ہم نہ بوليں گے

  پس ماندگان :-

مولانا کے ورثہ باقیات میں بیوہ سمیت چار اولاد ہیں: عبد المعبود ، محمد احمد ، محمود الحسن اور ریاض الحق۔

 تعزیت مسنونہ:-

مولانا موصوف کے انتقال پر ملال کے موقع پرشوشل میڈیا کى اسکرین اور مقامی اخباروں کے پنوں پر تعزیت مسنونہ، تعزیتی پیغام اور خراجِ عقیدت کی پیش کش کی خبروں کا سلسلہ جاری رہا ، جمعیتہ علماء ضلع بستی کے زیر اہتمام مؤرخہ 29/ مئ 2022 مطابق 27/ شوال المکرم 1443ھ بروز اتوار بعد نمازِ مغرب رحمت مسجد قصبہ رودھولی ضلع بستی میں باقاعدہ تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں اراکینِ جمعیتہ علماء ضلع بستی یوپی نے تعزیت مسنونہ کی تجویز پیش کرتے ہوئے کلمات دعائیہ کے ذریعہ دعاء مغفرت  اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply