hamare masayel

سعودی میں عید کی نماز پڑھ کر عید کے دن ہندوستان آنے والے کا حکم

(سلسلہ نمبر: 829).

 سعودی میں عید کی نماز پڑھ کر عید کے دن ہندوستان آنے والے کا حکم

سوال: اگر کوئی شخص دبئی یا سعودی سے عید کی نماز پڑھ کر ہندوستان آئے اور یہاں عید کی نماز ابھی نہ ہوئی ہو تو کیا یہ شخص دوبارہ عید کی نماز پڑھے گا یا نہیں؟

المستفتی: عبد الہادی، سرائے میر، اعظم گڑھ۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: اگر کسی شخص نے عید کی نماز سعودی میں ادا کر لی ہے، اس کے بعد ہندوستان ایسے وقت پہنچا کہ ابھی یہاں عید کی نماز نہیں ہوئی ہے تو ایسے شخص پر دوبارہ عید کی نماز پڑھنا واجب نہیں ہے، لیکن پڑھنا منع بھی نہیں ہے، اس لئے اگر لوگوں کے ساتھ دوبارہ نماز عید پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے کوئی حرج نہیں ہے۔

الدلائل

مَنْ صَلَّى الْعِيدَ فِي بَلَدٍ، ثُمَّ قَدِمَ بَلَدًا آخَرَ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ إِعَادَتُهَا، وَلَا مَنْعَ فِي الْإِعَادَةِ إِذَا شَاءَ. (البحر الرائق: 2/ 302).

إِذَا صَلَّى الْعِيدَ فِي مَوْضِعٍ، ثُمَّ قَدِمَ إِلَى مَوْضِعٍ آخَرَ، وَأَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَهُمْ ثَانِيًا، فَلَا بَأْسَ بِهِ. (الفتاویٰ الهندية: 1/ 210)

إذا صلی العيد في بلدة، ثم انتهی من الغد إلی قوم يصلون العيد في بلدة أخری، فصلی معهم لم يكره. (الفتاوی السراجیۃ، كتاب الصلاة، باب العيدين، فصل، ص: ١٨، سعيد)

لَوْ صَلَّى الْعِيدَ فِي مِصْرٍ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى مِصْرٍ آخَرَ لَمْ يُصَلِّ ثَانِيًا، وَلَوْ صَلَّى لَا بَأْسَ بِهِ. (رد المحتار علی الدر المختار: 2/ 177).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

29- 9- 1446ھ 30-3- 2025م الأحد

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply