سوشل میڈیا پر كمائى کی اندھی دوڑ

سوشل میڈیا پر كمائى کی اندھی دوڑ: اخلاقی زوال ، اورشرعی راہیں

  • Post author:
  • Post category:Urdu Articles
  • Post comments:0 Comments
  • Post last modified:September 27, 2026
  • Reading time:12 mins read

سوشل میڈیا پر كمائى کی اندھی دوڑ: اخلاقی زوال ، اورشرعی راہیں

بقلم: محمد ہاشم قاسمى  بستوى، استاذ جامعہ اسلاميہ مظفر پور اعظم گڑھ

آج كے دور  میں ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے انسانی زندگی کے ہر زاویے کو اپنی گرفت میں لے ركھا ہے۔ ان سے كسى كو چھٹكارا نہيں،  یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام اب محض باہمی رابطے یا فکری تبادلے کے پلیٹ فارم نہیں رہے، بلکہ یہ دنیا کی سب سے بڑی اور پرکشش تجارتی منڈی بن چکے ہیں۔ چند لمحوں کی سستی وائرل مقبولیت، لاکھوں ویوز کی گنتی، ويوز كے چكر ميں ہر سچى اور جھوٹى   خبركى ريلز، اور اسکرین پر تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈالرز نے ایک ایسی جنونی کیفیت پیدا کر دی ہے جس میں اخلاق، وقار ، سچ جھوٹ ،اور سب سے بڑھ کر حلال و حرام کی تمیز مٹتی جا رہی ہے۔ معاشی تنگ دستی سے جلد نجات اور ورچوئل دنیا میں امیر نظر آنے کی اس ہوس نے انسانی حیا اور ایمانی غیرت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اكبر الہ آبادى نے اسی ظاہری چکاچوند اور باطنی کھوکھلے پن کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا تھا:

اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

  نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

الیکشن، ممبری، کونسل، صدارت

  بنائے خوب آزادی نے پھندے

میاں نجّار بھی چھیلے گئے ساتھ

  نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے

اس جنون کا ايك تلخ اور شرمناک پہلو گھریلو زندگی کی سرِ عام پردہ دری بھى ہے۔ “ڈیلی ولاگنگ” کے خوش نما عنوان تلے نوجوانوں نے اپنے بیڈ روم، کچن، اور اہل و عیال کے خالص نجی معاملات کو دنیا کے سامنے تماشا بنا دیا ہے۔ میاں بیوی کے باہمی راز، گھر کی ماؤں بہنوں کی بے تکلف حرکات اور جذباتی کیفیات کو چند ٹکوں کی خاطر اسکرین کی زینت بنایا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلدوز صورتِ حال انسٹاگرام اور فیس بک ریلز پر مسلم مستورات کی خود نمائی ہے۔ مغربی و لادینی کلچر کے زیرِ اثر، ٹرینڈنگ آڈیوز پر ناز و ادا کی نمائش، بناؤ سنگھار کا کھلا اظہار اور چست و باریک ملبوسات کے ذریعے ویوز سمیٹنے کی دوڑ نے حیا کے قلعے مسمار کر دیے ہیں، جب كہ مسلمان عورتوں كے بارے ميں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے:

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ (الاحزاب: 33)

(اور اپنے گھروں میں رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کی نمائش نہ کرو)۔

جب حیا کا پردہ چاک ہو جائے تو انسان سستى شہرت کی بھیک مانگنے کے لیے کسی بھی حد تک گر جاتا ہے، اكبر ہى كى زبانى سنئے:

بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں

    اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا

پوچھا جو اُن سےپردہ وہ کیا تھا، کِدھر گیا؟

  کہنے لگیں کہ عقل پہ مَردوں کی پڑ گیا

دوسری جانب نوجوان طبقہ کلک بیٹ، جھوٹے اور جنسی ہیجان پیدا کرنے والے تھمب نیلز، لایعنی اور ایذا رسانی پر مبنی پرینکس، اور لائیو نشریات میں گالم گلوچ کے ذریعے اخلاقی پستی کی اس انتہا تک پہنچ چکا ہے جہاں انسانی شائستگی دم توڑ چکی ہے۔ اس فکری و اخلاقی دیوالیہ پن کے زہریلے اثرات اب پورے معاشرے کی رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتِ حال نوخیز لڑکوں اور کم سن بچیوں کی ہے، جن کے کچے اور معصوم اذہان پر انسٹاگرام اور فیس بک کی سستی، بے حجابانہ ریلز نے کاری ضرب لگائی ہے۔ جب بچے اور بچیاں ہر لمحہ اسکرین پر عورتوں کو چند لایعنی ویوز اور لائکس کی خاطر بناؤ سنگھار کی نمائش کرتے، غیر محرموں کے سامنے لچکتے اور رقص کرتے دیکھتے ہیں، تو ان کے لاشعور میں حیا، پاکدامنی اور پردے کا شرعی تصور ایک فرسودہ قید بن کر رہ جاتا ہے۔ کم سن بچیاں پردے کو بوجھ اور خود نمائی کو ترقی و مقبولیت کا واحد راستہ سمجھنے لگی ہیں، جب کہ نوخیز لڑکے نگاہوں کی پاکیزگی سے محروم ہو کر ذہنی آوارگی اور اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔

    ع      بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

اس صورتِ حال نے معاشرے کے پورے نظامِ اخلاق کو متزلزل کر کے رکھ دیا ہے۔ جس قوم کی شناخت حیا، غیرت اور خاندانی وقار سے تھی، آج اس کے نوجوانوں کے سامنے سنجیدہ علم و ہنر اور حلال محنت کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہی، بلکہ چند سیکنڈز کی بیہودہ حرکتوں سے شہرت پانے والے نادان افراد نئی نسل کے رول ماڈل بن چکے ہیں۔ خلوت و جلوت کی حدود مٹ جانے سے گھریلو نظام کا تقدس پامال ہو چکا ہے اور دلوں سے گناہ کی قباحت رخصت ہو رہی ہے۔ یہ اجتماعی اخلاقی زوال معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے، اور جب حیا کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پھر کسی برائی کو روکنا ممکن نہیں رہتا، جیسا کہ اقبال نے مغربی تہذیب کے اسی فتنۂ بے حجابی پر نالہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

یہاں ایک اور سنگین فکری مغالطہ سامنے آتا ہے جس میں بہت سے دینی، تعلیمی اور معلوماتی يوٹيوب چینلز چلانے والے مسلم نوجوان مبتلا ہیں۔ عموماً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ چونکہ ویڈیو کا مواد خالص قرآنی آیات، احادیث، فقہی مسائل یا اخلاقی نصائح پر مشتمل ہے، لہٰذا اس مواد پر ہونے والی تمام کمائی ازخود حلال اور طیب ہو گئی۔ یہ ایک خطرناک لاعلمی ہے۔ ان ميں سے اكثر نوجوانوں کو صرف ویڈیو ایڈیٹنگ اور اپلوڈنگ سے غرض ہوتی ہے، لیکن وہ ان سوشل پلیٹ فارمز کے مونیٹائزیشن ماڈل اور خودکار الگورتھمز (Algorithms) کے تکنیکی ڈھانچے سے یکسر بے خبر ہوتے ہیں۔

یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام کا الگورتھم ہر صارف کی ذاتی سرچ ہسٹری، کوکیز (Cookies)، جغرافیائی محلِ وقوع اور ترجیحات کا خودکار تجزیہ کر کے اس کی اسکرین پر خودکار تجارتی اشتہارات (Automated Ads) چلاتا ہے۔ یعنی کوئی انسان بیٹھ کر یہ طے نہیں کرتا کہ کس ویڈیو پر کیا دکھانا ہے، بلکہ سسٹم خود طے کرتا ہے کہ کس دیکھنے والے کو کون سا اشتہار پیش کیا جائے۔ اس کا سنگین نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسکرین پر ایک طرف تلاوتِ قرآن، حدیثِ پاک یا کوئی سنجیدہ دینی و فقہی مسئلہ چل رہا ہوتا ہے، لیکن اسی ویڈیو کے اوپر، نیچے یا درمیان میں جوئے اور سٹے بازی کی ایپس، سودی قرضوں کے پلیٹ فارمز، ڈیٹنگ سائٹس، یا نیم برہنہ ماڈلز کے مخربِ اخلاق اشتہارات ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں۔

ياد ركھيئےشریعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ الإعانة على المعصية معصية یعنی گناہ کے کام میں معاون و مددگار بننا بھی گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دو ٹوک حکم ہے:

وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ

(اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو)۔

اس اصول كے مد نظر جب کوئی کریئیٹر (Creator)  اپنے چینل یا پیج پر بغیر کسی شرعی فلٹر کے مونیٹائزیشن آن کرتا ہے، تو وہ الگورتھم کو کھلی اجازت دے دیتا ہے کہ وہ اس کے دینی و اخلاقی مواد کو بنیاد بنا کر باطل اور حرام چیزوں کی تشہیر کرے، اور کریئیٹر (Creator)   ان ہی مخربِ اخلاق اشتہارات کے عوض ڈالرز وصول کرتا ہے۔ ایسی صورت میں محض ویڈیو کا مواد دینی ہونے سے آمدنی حلال نہیں ہو جاتی، بلکہ وہ باطل اور حرام کی تشہیر پر اجرت بن کر سخت وعید کا سبب بنتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: كُلُّ جَسَدٍ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ (جامع الترمذی: 614)

(ہر وہ جسم جو حرام مال سے پروان چڑھے، اس کے لیے جہنم کی آگ ہی زیادہ لائق ہے)۔

یہاں حلال رزق کی قدر و قیمت اور پروازِ فکر کی بلندی کا سبق دیتے ہوئے علامہ اقبال کا یہ لازوال شعر ہر مسلم نوجوان کے دل پر نقش ہونا چاہیے:

اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

  جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

اس لیے مسلم نوجوان لڑکوں، لڑکیوں اور خصوصاً دینی مواد نشر کرنے والے ہمارے علما اور فضلا پر لازم ہے کہ وہ سوشل میڈیا الگورتھمز کی تہوں، اشتہاری ترتیبات (Ad Controls) اور ڈیجیٹل مارکیٹ کے تکنیکی اصولوں کا گہرائی سے مطالعہ کریں، تاکہ سچے دل سے نیکی و تبلیغ کی نیت رکھنے والے نادانستہ طور پر گناہِ جاریہ کا حصہ نہ بنیں۔ دین کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے حضرات جب بھی شرعی حدود میں رہ کر کوئی مفید اور اصلاحی مواد تیار کریں تو محض ویڈیو کے حلال یا دینی ہونے پر قناعت نہ کریں، بلکہ اپنے چینلز اور پلیٹ فارمز پر ایڈسینس اور مونیٹائزیشن کی تمام تر تکنیکی ترتیبات کی مسلسل اور کڑی نگرانی رکھیں۔ ان پر فرض بنتا ہے کہ وہ تمام مخربِ اخلاق، سودی، قمار بازی اور بے حیا اشتہارات کو مستقل طور پر فلٹر اور بلاک کریں، ورنہ تبلیغِ دین کے مقدس پردے میں نادانستہ طور پر منکرات و فواحش کی ترویج کا وبال ان کے سر ہوگا، اور خلوصِ نیت کے باوجود ایسی کمائی لقمۂ شبہہ یا حرام بن کر ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دے گی۔

اسلام ذرائع ابلاغ کی نفی نہیں کرتا بلکہ اسے ضابطۂ اخلاق کا پابند بناتا ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو حلال، پاکیزہ اور شرعی حدود کے اندر رکھ کر معیشت کا وسیلہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے متعدد جائز اور باعزت متبادل موجود ہیں ان ميں سے كچھ درجِ ذيل ہيں:

1 – اشتہاری زمروں پر سخت تکنیکی کنٹرول (Ad Filtering):

اگر ویب سائٹ یا یوٹیوب پر ایڈسینس استعمال کرنا ناگزیر ہو، تو کریئیٹر  (Creator)کی شرعی و فنی ذمہ داری ہے کہ وہ ایڈسینس یا میٹا کریئیٹر اسٹوڈیو  (Meta Creator studio)کے کنٹرول پینل میں جا کر تمام حساس و حرام کیٹیگریز (Categories): — قمار بازی، سودی مالیات، جنسی نگاری، بیوٹی پارلرز، لچر تفریح اور ناپسندیدہ اشتہارات—کو مکمل طور پر مستقل بلاک کرے۔ اگر الگورتھم پر اس حد تک قابو پانا ممکن نہ ہو اور فحش اشتہارات کی روک تھام نہ ہو سکے، تو ایسے اشتہاری نظام کو ترک کرنا ہی تقاضائے تقویٰ ہے۔

2 – براہِ راست اسپانسر شپ اور پیڈ پارٹنرشپ (Sponsorships):

اگر سوشل ميڈيا پر فالوورز (Followers)  زيادہ ہوں تو  الگورتھم کے رحم و کرم پر رہنے کے بجائے صرف ان معتبر اور حلال کمپنیوں، تعلیمی اداروں یا مصنوعات کی تشہیر کی جائے جن کا جائزہ خود کریئیٹر  (Creator)نے لیا ہو۔ اس میں نہ خودکار الگورتھم کا دخل ہوتا ہے اور نہ ہی غیر شرعی مناظر نشر ہونے کا خطرہ۔

3 – آزادانہ فنی خدمات کی فراہمی (Freelancing):

انسان کیمرے کے سامنے اپنی یا اپنے گھر کی نمائش کیے بغیر پردے کے پیچھے رہ کر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ ویب ڈویلپمنٹ، موبائل ایپ کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ، تکنیکی ایس ای او (SEO)، ویڈیو ایڈیٹنگ، اور ترجمہ نگاری وہ شعبے ہیں جہاں بین الاقوامی سطح پر خالص محنت کے عوض شفاف اور حلال اجرت حاصل ہوتی ہے۔

4 – ڈیجیٹل اثاثہ جات کی تیاری اور فروخت:

مستند تعلیمی کورسز، تحقیقی مقالات، کارآمد ای بکس، یا سافٹ ویئر ٹولز تیار کر کے انٹرنیٹ پر باقاعدہ فروخت کرنا تجارت کی جدید اور پاکیزہ ترین صورت ہے۔

5 – ذاتی تجارت اور برانڈ سازی:

سوشل میڈیا کو ذاتی پروڈکٹس، ملبوسات، کتب، یا دستکاری کو براہِ راست خریداروں تک پہنچانے کا پلیٹ فارم بنایا جائے، جس میں سچائی اور امانت داری کو بنیادی اصول کا درجہ حاصل ہو۔

ان كے علاوہ  اور بہت سے جائز اور حلال طريقے ہيں جن كو اپنا كر سوشل ميڈيا سے  حلال آمدنى  كا ذريعہ بنايا جا سكتا ہے، مگر مضمون كى طوالت كو ديكھتے ہوئے ان كو درج نہيں كيا گيا ہے، يوٹيوب پر سيكڑوں ويڈيوز اس حوالے سے آپ كو آسانى سے مل سكتى ہيں۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ڈیجیٹل اسکرینوں پر چلنے والی اس مہم جوئی میں اصل جنگ محض ویوز، لائکس یا ڈالرز کی نہیں، بلکہ یہ حیا و بے حیائی، اور رزقِ حلال اور لقمۂ حرام کے مابین کھلی کشمکش ہے۔ مسلم نوجوانوں، نوخیز نسل، اور بالخصوص منبر و محراب کے وارث دینی و دعوتی اہلِ علم پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا کے فریب کو سمجھیں۔ کیمرے کا لینس، قلم کی طاقت اور انٹرنیٹ کی وسعت اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم امانتیں ہیں جن کا مقصد معاشرے کی اخلاقی تعمیر اور حق کا ابلاغ تھا، نہ کہ اپنى خلوت گاہوںکی رازداری کو بیچنا، ماؤں بہنوں کی حرمت کو چند سیکنڈز کی ریلز پر نیلام کرنا، یا سستی وائرل مقبولیت کی خاطر اپنی غیرت کا جنازہ نکالنا۔ اسی طرح دینی مواد کی آڑ میں غیر شرعی اشتہاری جال اور خودکار الگورتھم کی غلاظتوں سے بے پروائی برتنا بھی تقوے کے قطعی خلاف ہے؛ کیونکہ جب تک باطل کی نفی نہ ہو، حق کا دعویٰ ادھورا رہتا ہے۔

ہمیں اس تلخ سچائی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ رزق کا تعلق اسکرین پر چمکتے ہوئے ہندسوں سے نہیں بلکہ بارگاہِ الٰہی سے اترنے والی برکت سے ہے، اور جو رزق حیا کی قیمت پر ملے وہ درحقیقت رزق نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے وبالِ جان اور گناہِ جاریہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لادینی الگورتھمز کے اسیر بننے کے بجائے اپنی فنی مہارتوں، علم اور ہنر کو پاکیزہ متبادل راستوں پر لگائیں۔ خود کو دنیاوی لالچ اور اخلاقی پستی کے اس دلدل سے نکال کر فکر و کردار کی بلندی پر فائز کریں، جیسا کہ علامہ اقبال نے بیدار مغز مومن کی پہچان بتاتے ہوئے فرمایا تھا:

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

 کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور

ہمیں شاہین کی طرح اپنی نگاہ  كوپاکیزہ اور مقاصد  كوبلند رکھنے ہوں گے۔ ڈیجیٹل دنیا میں ہمارا ہر کلک، ہر شیئر اور ہر ویڈیو کل قیامت کے دن ہمارے حق میں گواہ بنے گی یا ہمارے خلاف۔ پس اس حقیقت پر غیر متزلزل یقین رکھیے کہ خدا کے خوف، عزتِ نفس اور پردے کے تقدس کے ساتھ کمایا گیا حلال کا ایک سوکھا لقمہ، حیا کی نیلامی اور بے برکت ڈالرز کے انباروں سے ہزار ہا درجے بہتر، پرسکون اور پائیدار ہے كيونكہ:

مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے

  خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر!

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply