hamare masayel

عدت وفات میں کھیتی کی نگرانی کے لئے گھر سے نکلنا

(سلسلہ نمبر: 825).

عدت وفات میں کھیتی کی نگرانی کے لئے گھر سے نکلنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین درج ذیل مسلہ میں ، ھندہ عدت وفات میں ہے اور گھر پہ کوئی کھیتی اور فصل دیکھنے والا نہیں ہے اور اس کے بغیر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، ھندہ کے بیٹے سب باہر ہیں ، ایک بیٹا قریب میں ملازمت کررہا ھے لیکن غیر حاضری کرنے پر ملازمت ختم ہوجائے گی اور ھندہ کے نہ نکلنے پرفصل بھی برباد ہوجاے گی اور بھی بہت سے معاملات ہیں جو ھندہ کو ہی کے ذریعہ سے انجام پاسکتے ہیں نیز گیہوں وغیرہ کی کھیتی بھی دیکھنی تو اس صورت میں ہندہ عدت سے چالیس دن مکمل کرکے نکل سکتی ہے یا پھر دن بھر کھیت کا کام اور کھیتی وغیرہ دیکھ کر اپنے گھر اسی نیت سے آجائے تو گنہگار تو نہیں ہوگی ؟ تشفی بخش جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

المستفتی عبداللہ بیریاوی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: عدت وفات میں بیٹھی عورت کے گزر بسر کا اگر کوئی انتظام نہ ہو تو مجبوراً دن میں بقدر ضرورت نکلنے کی گنجائش ہے لیکن اگر گزر بسر کا انتظام ہے تو دوران عدت گھر سے باہر نکلنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے.

لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ اس عورت کے بیٹے اپنی ماں کے کھانے پینے وغیرہ کا نظم کرسکتے ہیں اس لئے اس عورت کو کھیتی اور فصل کو دیکھنے کے لئے گھر سیلے نکلنے کی اجازت نہیں ہے، اس کے لئے بچے کوئی انتظام کریں۔

الدلائل

(قوله: ومعتدة الموت تخرج يوماً وبعض الليل) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها؛ حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة، فلايحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلًا ولا نهارًا.

والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة، فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها، كذا في فتح القدير، وأقول: لو صح هذا عمم أصحابنا الحكم فقالوا: لا تخرج المعتدة عن طلاق أو موت إلا لضرورة؛ لأن المطلقة تخرج للضرورة بحسبها ليلًا كان أو نهارًا، والمعتدة عن موت كذلك، فأين الفرق؟ فالظاهر من كلامهم جواز خروج المعتدة عن وفاة نهارًا، ولو كانت قادرة على النفقة ولهذا استدل أصحابنا بحديث «فريعة بنت أبي سعيد الخدري أن زوجها لما قتل أتت النبي صلى الله عليه وسلم فاستأذنته في الانتقال إلى بني خدرة فقال لها: امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أجله» فدل على حكمين إباحة الخروج بالنهار وحرمة الانتقال حيث لم ينكر خروجها ومنعها من الانتقال، وروى علقمة أن نسوة من همدان نعي إليهن أزواجهن فسألن ابن مسعود – رضي الله عنه – فقلن إنا نستوحش فأمرهن أن يجتمعن بالنهار، فإذا كان بالليل فلترجع كل امرأة إلى بيتها كذا في البدائع، وفي المحيط عزاه الثاني إلى النبي صلى الله عليه وسلم وفي الجوهرة يعني ببعض الليل مقدار ما تستكمل به حوائجها، وفي الظهيرية: والمتوفى عنها زوجها لا بأس بأن تتغيب عن بيتها أقل من نصف الليل، قال شمس الأئمة الحلواني: وهذه الرواية صحيحة اهـ. و لكن في الخانية والمتوفى عنها زوجها تخرج بالنهار لحاجتها إلى نفقتها ولا تبيت إلا في بيت زوجها اهـ.فظاهره أنها لو لم تكن محتاجة إلى النفقة لايباح لها الخروج نهارًا كما فهمه المحقق. (البحر الرائق، كتاب الطلاق، باب العدة، فصل فى الأحداد، ج:4، ص:166، ط:دارالكتاب الإسلامى).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

21- 4- 1446ھ 25-10- 2024م الجمعة

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply