قرآنِ کریم سرچشمۂ ہدایت ونجات
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ، سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ”
صدرِ ذی وقار، حکمِ عدل اور میرے عزیز ساتھیو! آج اس بزمِ باوقار میں مجھے جس عظیم الشان اور جليل القدر موضوع پر لب کشائی کی سعادت حاصل ہو رہی ہے، وہ کسی انسانی فکر کا محتاج نہیں، کسی زمینی فلسفے کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ وہ کلامِ الٰہی ہے جو سرچشمۂ ہدایت، منبعِ رشد و خیر اور نسخۂ کیمیا ہے۔ جسے دنیا “قرآنِ حکیم” کے نام سے جانتی اور مانتی ہے، قرآنِ کریم سرچشمۂ ہدایت ونجات ہے۔
جنابِ صدر! تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیے! جب آفتابِ نبوت کے طلوع ہونے سے قبل انسانیت دم توڑ رہی تھی، تہذیب و تمدن کا جنازہ نکل چکا تھا، اور عرب کا تپتا ہوا صحرا جہالت و گمراہی کی آندھیوں کی زد میں تھا۔ ہر سو ظلمت تھی، تاریکی تھی، اندھیرا تھا۔ انسان، انسان کا دشمن بنا ہوا تھا۔ ایسے پرآشوب ماحول اور مہیب سناٹے میں فاران کی چوٹیوں سے ہدایت کا وہ سورج طلوع ہوا جس نے ظلمت کدوں کو منور کر دیا، اور وہ نور، وہ روشنی، وہ ہدایت یہی “قرآنِ مبین” ہے۔
مولانا الطاف حسین حالی نے اس منظر کی کیا خوب عکاسی کی ہے:
اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
مسِ خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
حضرات حكم! اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا تو اسے دنیا کی تاریکیوں میں بھٹکنے کے لیے تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ اس کی رہنمائی کے لیے انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔ اور ان کتابوں کے سلسلے کی آخری کڑی، ہدایت کا آفتابِ عالمتاب، قرآنِ مجید ہے۔
ربِ کائنات کا ارشادِ پاک ہے: ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ” (یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لیے)۔
سامعینِ ذی احترام! یہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، اور نہ ہی یہ صرف تلاوت کر کے ثواب کمانے یا تعویذ بنا کر گلے میں لٹکانے کے لیے آئی تھی۔ بلکہ یہ مردہ دلوں کو زندگی بخشنے اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو صراطِ مستقیم دکھانے کے لیے نازل ہوئی تھی۔ یہ وہ زندہ جاوید دستور ہے جس نے اونٹ چرانے والے بدوؤں کو زمانے کا امام بنا دیا، اور شتر بانوں کو جہاں بان بنا دیا۔ اس کے الفاظ میں حلاوت ہے، اس کے معانی میں گہرائی ہے، اور اس کے احکام میں کائنات کی بقا کا راز مضمر ہے۔
میرے دوستو! تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس کتاب کو اپنا “دستورِ حیات” اور “لائحہ عمل” مانا، وہ دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ قرآن نے انہیں سائنس دی، سیاست دی، معیشت کے اصول دیے اور جینے کا سلیقہ سکھایا۔ لیکن افسوس! صد افسوس! آج ہم ذلیل و خوار کیوں ہیں؟ آج ہم پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں کیوں گر چکے ہیں؟ وجہ صاف ہے، عیاں ہے اور روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ ہم نے قرآن کو خوبصورت غلافوں میں لپیٹ کر طاقوں پر تو سجا دیا، مگر اپنے فیصلوں میں، اپنی عدالتوں میں اور اپنے گھروں میں اس کے احکام کو نافذ کرنا چھوڑ دیا۔
اقبال نے اسی نوحے کو بیان کیا تھا:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
سامعینِ محترم! قرآنِ کریم ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ اندھیروں میں روشنی ہے۔ یہ مایوسی میں امید ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اعلان ہوتا ہے:
“إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ” (یقیناً یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے)۔
جنابِ والا! اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: “إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ” (بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب کی بدولت کتنی ہی قوموں کو عروج عطا فرماتا ہے اور اسی کو چھوڑنے کی وجہ سے دوسری قوموں کو ذلیل و رسوا کر دیتا ہے)۔ آج وقت کی پکار ہے کہ ہم “رجوع الی القرآن” کریں۔ ہم قرآن سے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جوڑیں، سمجھ کر پڑھیں اور اس کی تعلیمات کو اپنے سینوں میں اتار لیں۔ اقبال نے ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا:
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی، نہ صاحبِ کشاف
یعنی جب تک قرآن تمہارے دل پر اثر نہ کرے، بڑی بڑی تفسیریں بھی تمہارے لیے بیکار ہیں۔
آخر میں! آئیے آج اس بزم میں یہ عہد کریں کہ ہم قرآن کو صرف اپنی زبانوں تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ اسے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائیں گے۔ کیونکہ ہماری کامیابی، ہماری عزت اور ہماری سربلندی اسی کتابِ ہدایت سے وابستہ ہے۔
میں اپنی بات اس شعر پر ختم کرتا ہوں کہ:
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن
(اگر تم مسلمان کی طرح جینا چاہتے ہو، تو قرآن کے بغیر جینا ممکن نہیں)۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


