قرآن مجید کتابِ ہدایت

قرآن مجید کتابِ ہدایت

قرآن مجید کتابِ ہدایت

بقلم: محمد ہاشم قاسمى بستوى

الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفَى، وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ. وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ. (صحیح بخاری)

صدرِ عالی وقار، حكم صاحبان، اور معزز سامعین!

آج مجھے جس موضوع پر لب کشائی کی سعادت حاصل ہو رہی ہے، وہ کسی انسانی فکر، فلسفے یا نظریے کا محتاج نہیں، بلکہ وہ کلامِ الٰہی ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے۔ میرا موضوع ہے “قرآن مجید: کتابِ ہدایت”۔

جنابِ صدر! قرآن مجید وہ آفتابِ عالمتاب ہے جس کے طلوع ہوتے ہی جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے اور انسانیت کو فلاح کا راستہ مل گیا۔ یہ صرف عبادت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ قیادت کی کتاب ہے۔ یہ مردہ دلوں کو زندہ کرنے والا نسخہِ کیمیا ہے اور بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے مینارِ نور ہے۔ بقول حالى:

 اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا

حضراتِ گرامی! آج دنیا امن و سکون کی تلاش میں ہے، مگر اسے یہ سکون مادی ترقی میں نہیں مل رہا۔ کیوں؟ کیونکہ انسان نے اپنے خالق کے بھیجے ہوئے ضابطہ حیات کو چھوڑ دیا ہے۔ قرآن مجید کا دعویٰ ہے کہ یہ “ہُدًى لِّلنَّاسِ” (سب انسانوں کے لیے ہدایت) ہے۔ یہ کتاب سیاست ہو یا معیشت، خلوت ہو یا جلوت، صلح ہو یا جنگ—زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ یہ کتاب ایک یتیم کو بادشاہ بناتی ہے اور صحرا کے بدوؤں کو دنیا کا امام بنا دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس کتاب کو سینے سے لگائے رکھا، وہ دنیا پر حکمرانی کرتے رہے، اور ستاروں پر کمندیں ڈالتے رہے۔

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلمان

اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار

معزز سامعین! اس کتاب کی تاثیر دیکھیے کہ اس نے عرب کے ان اجڈ لوگوں کو، جو اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے، عورت کے حقوق کا محافظ بنا دیا۔ جو معمولی باتوں پر تلواریں نکال لیتے تھے، انہیں بھائی چارگی کا درس دے کر “بنیانٌ مرصوص” (سیسہ پلائی دیوار) بنا دیا۔ یہ قرآن کا اعجاز تھا کہ جس نے عمر فاروق (رض) جیسے سخت مزاج شخص کے دل کی دنیا بدل دی اور انہیں عدل و انصاف کا پیکر بنا دیا۔ قرآن محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک انقلابی منشور ہے۔ شاعر نے اس حقیقت کی ترجمانی یوں کی ہے:

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

جنابِ والا! آج اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو ہماری زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب قرآن سے دوری ہے۔ ہم نے اسے صرف طاقوں میں سجانے اور ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے والی کتاب سمجھ لیا ہے۔ ہم نے اس کے حروف تو یاد کیے لیکن اس کے حدود کو فراموش کر دیا۔ ہم نے اس کی تلاوت تو کی لیکن اس کی اطاعت چھوڑ دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم تعداد میں سمندر کی جھاگ کی طرح زیادہ ہونے کے باوجود بے وقعت ہیں۔ اقبال نے ہماری اسی غفلت پر نوحہ کناں ہوتے ہوئے کہا تھا:

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

جنابِ صدر! قرآنِ مجید کا ایک عظیم پہلو اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس نے عرب کے ان فصیح و بلیغ شعراء کو گنگ کر دیا جنہیں اپنی زبان دانی پر ناز تھا۔ قرآن نے چیلنج کیا کہ اگر تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ، مگر “فصاحت کے خدا” کہلانے والے بھی اس کے سامنے عاجز آ گئے۔ اس کے الفاظ میں ایسی تاثیر اور اس کی ترتیب میں ایسا جادو ہے کہ یہ پتھر دلوں کو موم کر دیتا ہے۔ یہ نہ شعر ہے نہ نثر، بلکہ یہ رب العالمین کا ایسا کلام ہے جو سیدھا روح میں اتر جاتا ہے۔

معزز سامعین! آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور یہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے وہ حقائق بیان کر دیے جن تک آج کی جدید سائنس بڑی مشکل سے پہنچی ہے۔ چاہے وہ کائنات کی تخلیق (Big Bang) ہو، ماں کے پیٹ میں بچے کی پرورش کے مراحل ہوں، یا سمندروں اور پہاڑوں کے راز ہوں—قرآن نے ہر حقیقت کو کھول کر بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر کیتھ مور جیسے سائنسدانوں کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ یہ کتاب کسی انسانی دماغ کی پیداوار نہیں ہو سکتی۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں بلکہ “سائنز” (Signs) یعنی نشانیوں کی کتاب ہے جو انسان کو تسخیرِ کائنات کی دعوت دیتی ہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

خِرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

صدرِ عالی وقار! قرآن مجید کا نظامِ ہدایت صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ یہ حقوق العباد کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ دنیا آج انسانی حقوق (Human Rights) کا شور مچاتی ہے، جبکہ قرآن نے صدیوں پہلے یتیموں کی کفالت، والدین کی اطاعت، مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اجرت کی ادائیگی اور عورتوں کو وراثت میں حق دینے کا قانون نافذ کر دیا تھا۔ یہ وہ کتاب ہے جو پڑوسی کا حق اتنا بتاتی ہے کہ گمان ہوتا ہے وہ وراثت میں حصہ دار نہ بن جائے۔ قرآن نے بتا دیا کہ خدا کے حقوق شاید معاف ہو جائیں، مگر بندوں کے حقوق کی معافی نہیں، جب تک کہ بندہ خود معاف نہ کرے۔

شاعر نے اس جذبے کی عکاسی یوں کی ہے:

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر

خدا مہرباں ہو گا عرشِ بریں پر

حاضرینِ محفل!وقت کا تقاضا ہے کہ ہم قرآن سے اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑیں۔ ہدایت تبھی ملے گی جب ہم اسے سمجھ کر پڑھیں گے اور اس کے احکامات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں گے۔ قرآن اس اندھیری رات میں وہ چراغ ہے جو بجھ نہیں سکتا۔ آئیے آج اس بزم میں یہ عہد کریں کہ ہم قرآن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں گے، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانیں گے۔ کیونکہ ہماری دنیاوی عزت اور آخرت کی نجات اسی کتاب سے وابستہ ہے۔ میں اپنی گفتگو کا اختتام اس دعا اور شعر پر کرتا ہوں کہ اللہ ہمیں قرآن کا فہم عطا فرمائے:

کی محمد سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply