والدین کے حقوق اور ان کی عظمت پر ايك مختصر اور جامع تقرير
بقلم: محمد ہاشم قاسمى بستوى
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ (سورۃ الإسراء: 23 وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ (ترمذی)
صدرِ ذی وقار ، حكم صاحبان ، اساتذہ كرام اور معزز حاضرین! آج مجھے جس موضوع پر لب کشائی کی سعادت حاصل ہو رہی ہے، وہ ایسا موضوع ہے جس کے سامنے الفاظ چھوٹے اور جذبات بڑے ہو جاتے ہیں۔ میرا موضوع ہے “والدین کے حقوق اور ان کی عظمت”۔
جنابِ صدر! کائنات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بعد اگر کسی ہستی کا حق انسان پر سب سے زیادہ ہے، تو وہ والدین ہیں۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جو خود کانٹوں پر چلتی ہیں تاکہ اولاد پھولوں کے بستر پر سو سکے۔ انسان کی کامیابی اس کے اپنے کمال کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ والدین کی اس تربیت کا ثمر ہوتی ہے جو وہ اپنے خونِ جگر سے کرتے ہیں۔ ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ قرآنِ مجید نے توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دے کر یہ بتا دیا کہ خالقِ حقیقی کے بعد اگر کوئی سجدے کے لائق ہوتا تو وہ یہی والدین ہوتے۔ علامہ اقبال اپنی والدہ کی یاد میں جب پکار اٹھے تھے تو پوری دنیا کو سمجھا دیا کہ والدین کا مقام کیا ہے:
تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا
گھر مرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا
حضراتِ گرامی! ذرا ماں کی قربانیوں کا تصور تو کیجیے۔ جس نے نو ماہ تک کمزوری پر کمزوری جھیل کر تمہیں اپنے پیٹ میں رکھا، اپنی جان پر کھیل کر تمہیں جنم دیا، اور تمہاری ایک مسکراہٹ کے لیے اپنی راتوں کی نیندیں قربان کر دیں۔ اور باپ! وہ خاموش محسن جو دن بھر زمانے کی سختیاں برداشت کرتا ہے، اپنا خون پسینہ ایک کرتا ہے تاکہ اس کے بچے زمانے کی تلخیوں سے محفوظ رہیں۔ باپ وہ گھنا سایہ ہے جو خود دھوپ میں جلتا ہے مگر اولاد کو سایہ فراہم کرتا ہے۔مولانا الطاف حسین حالیؒ نے کیا خوب کہا تھا کہ جو اولاد والدین کی خدمت کی مشقت اٹھاتی ہے، وہی بلندی پاتی ہے:
مشقت کی ذلت جنہوں نے اٹھائی
جہاں میں ملی ان کو آخر بڑائی
معزز سامعین! جہاں ماں محبت کا سمندر ہے، وہیں باپ وہ محافظ ہے جو زمانے کی تپتی دھوپ میں اولاد کے لیے گھنا سایہ بنتا ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتا ہے تاکہ اس کے بچے حسرتوں کا شکار نہ ہوں۔ باپ کا چہرہ شاید سخت نظر آئے، مگر اس کے سینے میں موم جیسا دل دھڑکتا ہے۔ حقوق العباد میں والدین کا حق یہ ہے کہ ان کی خدمت کی جائے، بڑھاپے میں ان کا سہارا بنا جائے، اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے”۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ذلیل نہ ہوں، تو ہمیں اس دروازے کی حفاظت کرنی ہوگی۔ والدین کی دعاؤں میں وہ اثر ہے کہ یہ زمین سے عرش تک کا فاصلہ پل بھر میں طے کر لیتی ہیں اور تقدیر کے لکھے کو بھی بدل دیتی ہیں۔
لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی بس
ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی
معزز سامعین! افسوس کا مقام ہے کہ آج کی نئی نسل اپنے والدین کو بوجھ سمجھنے لگی ہے۔ وہ والدین جنہوں نے ہمیں بولنا سکھایا، آج ہم انہی کے سامنے اونچی آواز میں بولتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: “فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ”انہیں اُف تک نہ کہو۔ لیکن آج “اولڈ ہاؤسز” (Old Houses) کی بڑھتی ہوئی تعداد ہمارے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ یاد رکھیے! اگر والدین ناراض ہیں تو کعبے کے طواف بھی کام نہیں آئیں گے، اور اگر وہ راضی ہیں تو گھر بیٹھے جنت مل جائے گی۔
نہ كرو تم ان كو كبھى ناخوش
ان كے قدموں كے نيچے جنت ہے
آخر میں! میں اپنی تقریر کا اختتام اس پیغام کے ساتھ کرتا ہوں کہ والدین گھر کی چھت کی مانند ہیں، اگر یہ چھت گر جائے تو دیواریں (اولاد) اکیلی رہ جاتی ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو والدین کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گے، کیونکہ دنیا کی کامیابی دعاؤں میں ہے اور آخرت کی کامیابی ان کی رضا میں۔ جن کے والدین حیات ہیں، وہ انہیں غنیمت جانیں اور ان کے پاؤں دھو کر پئیں، اور جن کے والدین دنیا سے چلے گئے، وہ ان کے لیے صدقہِ جاریہ بن جائیں۔ اللہ ہم سب کو والدین کا فرمانبردار بنائے۔
جھکتا ہے جو بھی ان کے قدموں میں اے بشر
رفعت اسی کے واسطے ہے آسمان پر
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


