ہمارے پیارے نبی ہمارے آئیڈیل
نوٹ: ” ہمارے پیارے نبی ﷺ، ہمارے آئیڈیل” يہ تقرير مدارس اور اسكول كے چھوٹے بچوں كے معيار كى ہے، اس ميں آپ ﷺ كے اخلاقى پہلؤوں كو نماياں كيا گيا ہے۔
بقلم: محمد ہاشم قاسمى بستوى
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَقَدْ قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ.
صدرِ ذی وقار، اساتذۂ کرام اور میرے عزیز ساتھیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آج كے اس عظيم الشان اجلاس میں مجھے جس عظیم ہستی کے بارے میں کچھ عرض کرنے کا موقع ملا ہے، وہ ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، جن کے لیے یہ ساری کائنات سجائی گئی۔ آج كى اس بزم ميں ميرى اس چھوٹى سى تقرير كا عنوان ہے ” ہمارے پیارے نبی ﷺ، ہمارے آئیڈیل”
محترم حضرات! ابھی میں نے آپ کے سامنے جو قرآنی آیت پڑھی، اس کا ترجمہ ہے: “بے شک تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔”
اور حدیثِ پاک میں آپ ﷺ نے فرمایا: “مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔”
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
محمدؐ کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
پیارے ساتھیو! ہمارے نبی ﷺ کی زندگی سراپا معجزہ اور سراپا رحمت ہے۔ آپ ﷺ بچپن ہی سے اتنے سچے اور امانت دار تھے کہ مکہ کے کافر بھی آپ کو “صادق اور امین” کہتے تھے۔ آپ ﷺ نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا اور کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔ آپ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ ہمیشہ مسکرا کر ملتے اور سلام میں پہل کرتے۔
دوستو! نبی کریم ﷺ صرف بڑوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بچوں کے لیے بھی بہت شفیق تھے۔ آپ ﷺ جب راستے سے گزرتے تو بچوں کو سلام کرتے، ان کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے اور کبھی کبھی انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہ کرے۔”
آپ ﷺ کی رحمت کا یہ عالم تھا کہ آپ جانوروں کا بھی خیال رکھتے۔ ایک بار آپ ﷺ نے ایک اونٹ کو بھوکا پیاسا دیکھا تو اس کے مالک کو ڈانٹا اور فرمایا کہ ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
پيارے دوستو! آپ ﷺ کے اخلاق کا سب سے پیارا پہلو “معاف کرنا” ہے۔ جب مکہ فتح ہوا اور وہ دشمن سامنے کھڑے تھے جنہوں نے آپ ﷺ پر کوڑا پھینکا تھا، پتھر مارے تھے اور آپ کو مکہ سے نکالا تھا، تو آپ ﷺ نے بدلہ لینے کے بجائے فرمایا: “جاؤ! آج تم سب آزاد ہو۔” یہ ہمارے نبی ﷺ کی شان ہے کہ آپ دشمنوں کو بھی گلے لگا لیتے تھے۔شاعر کہتا ہے
ہوئے جو زیر، تو رحم کھا کر انہیں گلے سے لگا لیا ہے
جو کج ادا تھے، بگڑ چلے تھے، انہیں بھی سیدھا بنا دیا ہے
پيارے ساتھيو! آئیے! آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی پیارے نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق گزاریں گے۔
ہم ہمیشہ سچ بولیں گے۔
بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے پیار کریں گے۔
کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کریں گے۔
اور نماز کی پابندی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنتِ نبوی پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


