You are currently viewing حمل کی وراثت

حمل کی وراثت

حل (سلسلہ نمبر: 605)

حمل کی وراثت

سوال: منصور علی صاحب کا انتقال ہوا، ان کی ایک  بیٹی راشدہ ہے، دوسری بیٹی شاہدہ ان کے انتقال کے بعد پیدا ہوئی، تو کیا منصور علی صاحب کی جائیداد میں دوسری بیٹی شاہدہ کا حصہ ہوگا یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں نوازش ہوگی؟

المستفتی: مولانا عامر  عزیز، سلطانپور۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: صورت مسئولہ میں اگر شاہدہ کی پیدائش منصور علی کے انتقال کے بعد دو سال کے اندر ہوئی ہے تو شاہدہ بھی وارث ہوگی۔

نوٹ: منصور علی کے ترکہ میں شاہدہ کو کتنا ملے گا ؟ اس کو معلوم کرنے کے لئے تمام ورثہ کی تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کریں۔

الدلائل

وَلَوْ وَلَدَتْ مَيِّتًا لَمْ يَرِثْ أَيْ إذَا خَرَجَ بِنَفْسِهِ أَمَّا لَوْ أُخْرِجَ بِجِنَايَةٍ فَيَرِثُ وَيُورَثُ، وَإِذَا خَرَجَ أَكْثَرُهُ حَيًّا بِمَا تُعْلَمُ حَيَاتُهُ وَلَوْ بِتَحْرِيكِ عَيْنٍ وَشَفَةٍ وَمَاتَ وَرِثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ وَإِنْ كَانَ خَرَجَ أَقَلُّهُ حَيًّا ثُمَّ مَاتَ فَلَا يَرِثُ وَتَمَامُهُ فِي الدُّرِّ الْمُنْتَقَى. (رد المحتار: 6/ 800).

فإن كان الحمل من الميت، وجاءت بالولد لتمام أكثر مدة الحمل، أو أقل منها، ولم تكن أقرت بانقضاء العدة يرث ويورث عنه، وإن بالولد لأكثر من أكثر مدة الحمل لا يرث ولا يورث. (السراجية، ص: 85، ديوبند).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

9- 7- 1442ھ 22- 2- 2021م الاثنين.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply