hamare masayel

 زکوٰة کے پیسوں کو بدلنا، زکات کے مسائل، زکوة کے احکام

 زکوٰة کے پیسوں کو بدلنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زکوة کی کچھ رقم بیوی کے پاس ہے، اور شوہر معاش کے سلسلے میں باہر ہے گھر پر مصرف فی الحال نظر نہ آیا، شوہر جہاں مقیم ہے وہاں اس کو مصرف نظر آگیا، اس نے گھر والی کو فون پر بتایا کہ تمہاری طرف سے میں زکوة ادا کردے رہا ہوں، تمہارے پاس جو رقم ہے اسے گھر خرچ میں استعمال کرو۔ بتائیں اس طرح زکوة ادا ہوئی یا نہیں؟

المستفتی: مولانا پھول حسن بیگو سرائے ممبر پاسبان علم و ادب۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:

 اس صورت میں زکوٰة ادا ہوجائے گی؛ اس لئے کہ ادائیگی  کے وقت زکوٰة کی نیت کافی ہے اور کسی معیّن رقم اور مخصوص روپیوں کا زکوٰة میں نکالنا ضروری نہیں ہے۔

الدلائل

وأما شرط أدائہا فنیة مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب. (کذا في الفتاوی الهندیة 1/ 170)

الوکیل بدفع الزکاة إذا أمسک دراهم الموکل ودفع من ماله لیرجع ببدلہا في دراهم الموکل صح بخلاف ماإذا أنفقها أوّلاً علی نفسه مثلاً ثم دفع من ماله فہو متبرع الخ. (شامي، کتاب الزکاة، مطلب في زکاة ثمن المبیع وفاء زکریا 3/189، کراچی 2/269)

إذا دفع المزکی المال إلی الفقیر ولم ینو شیئاً ثم حضرته النیة عن الزکاة ینظر إن کان المال قائماً في ید الفقیر صار عن الزکاة وإن تلف لا. (الفتاوی التاتارخانیة 3/ 197)

ولو مقارنة حکمیة کما لو دفع بلا نیة ثم نویٰ والمال قائم بید الفقیر. (مراقي الفلاح  390، شامي 3/ 187 زکریا، ومثله في الفتاوی الہندیة 1/ 171، البحر الرائق 2/ 368، الأشباہ جدید  178، تبیین الحقائق 2/ 32)

 والله أعلم

تاريخ الرقم: 25- 5- 1441ھ 21- 1 2020م الثلاثاء

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply