hamare masayel

فیتا کاٹ کر دکان کا افتتاح کرنا

(سلسلہ نمبر: 524)

فیتا کاٹ کر دکان کا افتتاح کرنا

سوال: آج کل کے رسم ورواج میں دوکان، مکان، یا کھیل کے افتتاح میں فیتا کاٹ کر افتتاح کیا جاتاہے، تو کیا افتتاح کی یہ صورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟ اگر ثابت نہیں  تو علماء کرام آخر اس کو رواج کیوں دے رہے ہیں؟ دعا کے ذریعہ افتتاح کی صورت اگر درست اور ثابت ہو تو ایسی صورت حال میں فیتا کاٹنا کیسا ہے؟

المستفتی: حافظ محمد ثاقب قاسمی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: دکان ومکان وغیرہ کا فیتا کاٹ کر افتتاح کرنا یہ غیروں کا طریقہ ہے جس سے مسلمانوں بطور خاص علما کو اس سے سختی سے پرہیز کرنا چاہئے۔

 دکان ومکان وغیرہ کے افتتاح کا کوئی خاص طریقہ اور دعا شریعت میں ثابت نہیں ہے، البتہ اگر حصول برکت کے لئے کسی بزرگ شخصیت سے دعا کے ذریعہ افتتاح کرایا تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

الدلائل

عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فہو منہم۔ (سنن أبي داؤد، کتاب اللباس / باب في لبس الشہرۃ ۲؍۵۵۹ رقم: ۴۰۳۱ دار الفکر بیروت، مشکاۃ المصابیح، کتاب اللباس / الفصل الثاني ۲؍۳۷۵)

قال الطیبي: ہٰذا عام في الخَلق والخُلق والشعار، ولمّا کان الشعار أظہر في الشبہ ذکر في ہٰذا الباب۔ قلت: بل الشعار ہو المراد بالتشبہ لا غیر۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب اللباس / الفصل الثاني ۸؍۱۵۵ المکتبۃ الحقانیۃ پشاور)

وقال العلامۃ المناوي رحمہ اللّٰہ تعالیٰ: وقال بعضہم: قد یقع التشبہ في أمور قلبیۃ من الاعتقادات وإرادات وأمور خارجیۃٍ من أقوال وأفعال، قد تکون عبادات وقد تکون عادات في نحو: طعام ولباس ومسکن ونکاح واجتماع وافتراق وسفر وإقامۃ ورکوب وغیرہا، وبین الظاہر والباطن ارتباط ومناسبۃ۔ وقد بعث اللّٰہ المصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالحکمۃ التي ہي سنۃ، وہي الشرعۃ والمنہاج الذي شرعہ لہ، فکان مما شرعہ لہ من الأقوال والأفعال ما یباین سبیل المغضوب علیہم والضالین، فأمر بمخالفتہم في الہدی الظاہر في ہٰذا الحدیث۔ وإن لم یظہر فیہ مفسدۃ لأمور: منہا أن المشارکۃ في الہدی تؤثر تناسبات وتشاکلاً بین المتشابہین، تعود إلی موافقۃ ما في الأخلاق والأعمال، وہٰذا أمر محسوس … الخ۔ (فیض القدیر ۱۱؍۵۷۴۳- ۵۷۴۴ رقم: ۸۵۹۳ مکۃ المکرم).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

16- 3- 1442ھ 3- 10- 2020م الثلثاء.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply