hamare masayel

مجبوری کی صورت قبلہ کے علاوہ سمت بھی نماز پڑھ سکتے ہیں

مجبوری کی صورت قبلہ کے علاوہ سمت بھی نماز پڑھ سکتے ہیں

سوال: مسافر  سواری پر قبلہ کا لحاظ کئے بغیر نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی مدلل جواب سے نوازیں۔

المستفتی:  عامر اعظمی ممبر روشنی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:

فرض نماز میں قبلہ رو ہوکر نماز پڑھنا شرط ہے، اس لئے ایسی سواری جس پر رکوع سجدہ نہ ہوسکتا ہو (جیسے گھوڑا، موٹر سائیکل، کار وغیرہ) پر بلا عذر فرض نماز جائز نہیں ہے، ہاں اگر کوئی شدید عذر پیش آجائے، مثلاً سواری سے نیچے اترنے میں درندے، دشمن یا مرض کا خطرہ ہو، یا زمین پر کیچڑ ہی کیچڑ ہو اور نماز پڑھنے کے لئے کوئی پاک سوکھی جگہ میسر نہ ہو، تو ایسی صورتوں میں فرض نماز بھی غیر قبلہ رخ پڑھ سکتے ہیں؛ لیکن قبلہ رخ ہونے کا حتی الامکان اہتمام کرنا لازم ہوگا۔

الدلائل

قال في الدر المختار: (و) السادس (استقبال القبلة) حقيقة أو حكما كعاجز، والشرط حصوله لا طلبه، وهو شرط زائد للابتلاء يسقط للعجز. (الدر المختار مع رد المحتار 1/ 427).

أما الفرائض أي صلاۃ الفرائض علی الدابة فتجوز أیضاً لکن بالأعذار التي ذکرنا في فصل التیمم من خوف السبع أو العدو أو المرض أو الطین، فإذا خاف علی نفسه أو دابته من سبعٍ أو لصٍّ أو کان في طین یغیب الوجه فیه ولا یجد مکاناً جافاً أو کان مریضاً یحصل له بالنزول والرکوب زیادۃ مرض أو بطؤ برئٍ جاز له الإیماء بالفرض علی الدابة واقفة مستقبل القبلۃ إن أمکنہ ذلک وإلا فبقدر الإمکان. (حلبي کبیر 273، شامي 2/486 زکریا، الفتاوی الهندیة 1/143، الجوہرۃ النیرۃ  1/107)

وكذلك إذا صلى الفريضة بالعذر على دابة والنافلة بغير عذر فله أن يصلي إلى أي جهة توجه، كذا في منية المصلي. (الفتاوى الهندية 1/ 121 مكتبة الاتحاد ديوبند).

والله أعلم

تاريخ الرقم: 16- 7- 1441ھ 12- 3- 2020م الخمیس.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply