You are currently viewing لفظ حرام سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے، کنایہ الفاظ سے طلاق

لفظ حرام سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے، کنایہ الفاظ سے طلاق

(سلسلہ نمبر: 692)

لفظ حرام سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے

سوال: علماء شرع اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ ایک شخص کسی برائی سے رکنے کے لئے قسم کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر فلاں برائی سے نہ بچوں تو میری بیوی مجھ پرحرام ہوجائے۔ اگر وہ شخص وہ برائی کر بیٹھے تو کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی یاصرف قسم کا کفارہ ادا کرنا پڑیگا۔

المستفتی: ابو عبد اللہ۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: جی اگر اس شخص نے وہ کام کرلیا تو ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی، اس میں طلاق کی نیت کی بھی ضرروت نہیں ہے۔

الدلائل

أنت علي حرام، والفتوی أنه يقع به البائن، وإن لم ينوِ لغلبة الاستعمال. (الفتاوى التاتارخانية: 4/ 448، الرقم: 6637).

لو قال لها: أنت علي حرام، والحرام عندہ طلاق وقع وإن لم ينو. (البحر الرائق: 3/ 523 زکريا).

أفتی المتأخرون في ’’أنت علي حرام‘‘ بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية. (رد المحتار: 3/ 253).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

28- 4- 1443ھ 4- 12- 2021م السبت.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply