hamare masayel

منگنی ٹوٹنے کے بعد سامان کی واپسی

  • Post author:
  • Post category:نکاح
  • Post comments:0 Comments
  • Post last modified:July 6, 2021
  • Reading time:1 mins read

(سلسلہ نمبر: 505)

منگنی ٹوٹنے کے بعد سامان کی واپسی

سوال: مفتی صاحب ایک لڑکے کی ایک جگہ منگنی ہوئی، اس کے گھر والوں نے لڑکی کو ایک قیمتی انگوٹھی اور کچھ پیسے دیئے، اسی طرح تقریبا تین ہزار روپئے کی مٹھائیاں اور پھل بھی دئیے تھے، اسی طرح لڑکی والوں نے بھی کچھ ہدیہ تحفہ دیا تھا؛ لیکن کسی وجہ سے اب یہ منگنی ٹوٹ گئی ہے، کیا یہ سب چیزیں واپس کرنی ہوں گی؟ برائے کرم شریعت کا حکم بتا کر ممنون فرمائیں۔

المستفتی: محمد فیصل، منجیرپٹی، اعظم گڑھ۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:  جو چیز کسی کو تحفہ اور ہدیہ میں دی جائے اسے واپس نہیں لینا چاہئیے، لیکن منگنی کے وقت جو چیزیں دی جاتی ہیں ان کا مقصد رشتہ کی مضبوطی ہوتی ہے جو کہ اب فوت ہوچکی ہے اس لئے منگنی سے پہلے یا بعد میں جو اشیاء جانبین سے ایک دوسرے کو بطور تحفہ دی گئی تھیں اب منگنی ٹوٹ جانے کے بعد وہ اشیاء اگر موجود ہیں تو جانبین کی رضامندی سے ایک دوسرے سے واپس لی جاسکتی ہیں، ہاں اگر وہ اشیاء ٹوٹ پھوٹ کر ضائع ہوگئیں ہیں یا کھانے والی چیزوں کو کھالیا گیا ہے تو ان کے بدلہ میں دوسری چیز نہیں لی جاسکتی۔

اگر صرف ایک طرف سے کچھ دیا گیا تھا اور اسے دوسرا فریق لوٹانے کے لئے تیار نہیں ہے تو  شرعی پنچایت کے ذریعہ فیصلہ کراکر وصول کیا جاتا سکتا ہے. (مستفاد فتاویٰ قاسمیہ: 12/ 536) ۔

الدلائل

تزوج امرأة وبعث إليها هدايا وعوضت المرأة على ذلك عوضا ثم زفت إليه ثم فارقها وقال إنما بعثت إليك عارية وأراد أن يسترد ذلك وأرادت المرأة أن تسترد العوض فالقول له في الحكم وإذا استرد ذلك من المرأة كان للمرأة أن تسترد منه ما عوضته عليه كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: 1/ 323).

( خطب بنت رجل وبعث إليها أشياء ولم يزوجها أبوها فما بعث للمهر يسترد عينه قائما ) فقط وإن تغير بالاستعمال ( أو قيمته هالكا ) لأنه معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد ( وكذا ) يسترد ( ما بعث هدية وهو قائم دون الهالك والمستهلك ) لأنه في معنى الهبة. (الدر المختار).

قوله (لأنه في معنى الهبة) أي والهلاك والاستهلاك مانع من الرجوع بها وعبارة البزازية لأنه هبة اھ. ومقتضاه أنه يشترط في استرداد القائم القضاء أو الرضا وكذا يشترط عدم ما يمنع من الرجوع. (رد المحتار: 3/ 153).

لا ینفرد الواهب بالرجوع بل یحتاج فیه إلی القضاء، أو الرضاء، أو قبل التسلیم ینفرد الواهب بذلک، هکذا في الذخیرۃ. (الفتاوى الهندية: 4/ 409).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

30 – 2- 1442ھ 18- 10- 2020م الأحد

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply