hamare masayel

موبائل ایپس کے ذریعہ کیش بیک کا حکم، جدید فقہی مسائل

موبائل ایپس کے ذریعہ کیش بیک کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام و علماء عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر بندہ گوگل پے ایپ  (G pay)سے اپنے بینک اکاؤنٹ میں یا کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں پیسے کا لین دین کرتا ہے تو ایک کوپن ملتا ہے جس کے اسکریچ کرنے پر  انعامی رقم ملتی ہے اور کبھی نہیں بھی ملتی ہے، رقم کس صورت میں اور کہاں سے ملتی ہے کچھ پتا نہیں ہے۔

صورت مسئلہ میں معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسی رقم کا شرعاً لینا درست ہے یا نہیں؟

المستفتی: عادل عظیم قاسمی شیخوپور اعظم گڑھ

الجواب باسم الملهم للصدق والصواب

آج کل انٹرنیٹ سے خرید وفروخت کرنے کے مختلف ایپس آچکے ہیں جو معاملہ کرنے کے بعد کچھ رقم کیش بیک (Cash back) کے نام سے واپس کرتے ہیں؛ جس سے ایپ استعمال کرنے والے کا مالی فائدہ ہوتا ہے، در اصل اس کیش بیک کا مقصد اپنی کمپنی یا ایپس کی تشہیر ہوتا ہے، چنانچہ فقہی نقطہ نظر سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کمپنی کی طرف سے ملنے والی جو رقم ہے وہ یا تو کمپنی اور اس کے ایپ کی تشہیر میں تعاون کی اجرت ہے یا کمپنی کی جانب سے صارف کی خدمات کا انعام ہے، اور شرعی نقطۂ نظر سے اپنی کسی خدمت ومحنت کی اجرت لینا یا کسی کی جانب سے انعام قبول کرنا جائز ہے؛ اس لیے کیش بیک کے لینے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء نے پے ٹی ایم کے ذریعہ ملنے والی رقم کے جواز کا فتویٰ دیا ہے؛ چنانچہ مفتیان کرام دارالعلوم دیوبند تحریر فرماتے ہیں کہ “اگر کوئی شخص پے ٹی ایم کے ذریعہ کرنٹ بل وغیرہ کی ادائیگی کرتا ہے اور پے ٹی ایم کا مالک اپنے ایپ کو مزید فروغ دینے کے مقصد سے کیش بیک دیتا ہے، تو یہ کیش بیک شرعاً ترغیبی انعام ہوکر جائز ہوگا”.

اسی طرح ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ “اسٹور کی طرف سے ایک طرح کی رعایت اور انعام ہے؛ اس لیے اس کیش بیک کو آپ استعمال کرسکتے ہیں”۔

اس لیے شرعاً ایسی رقم کا (خواہ اسے اجرت کہا جائے یا انعام سے تعبیر کیا جائے بہر دو صورت) لینا جائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الدلائل

عقد الجعالة مباح شرعا عند المالكية و الشافعية و الحنابلة…. فمن الكتاب قوله تعالى: و لمن جاء به حمل بعير. (الموسوعة الفقهية 15/ 208 جعالة).

الصيغة التي عند القائلين بالجعالة هي كل لفظ دال على الإذن في العمل بعوض معلوم، مقصود و ملتزم. (الموسوعة الفقهية 15/ 210 جعالة)

الاجیر المشترك لا يستحق الأجرة إلا بالعمل (مجلة الأحكام العدلية مع شرحها 457/1 المادة 424)

النوع الثاني: الألفاظ التي تنعقد بها الهبة كناية و عرفا كقول الواهب للموهوب له اكتس هذا الثوب. (شرح المجلة 402/2 الهبة).

الأجرة إنما تقوم بمقابلة العمل. ( رد المحتار 308/4 كراچي)

ويحوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع ويحوز أن يحط عن الثمن. (الهداية 75/3).

الجائزة على فعل المباحات: أي: أن تعطى الجوائز لمن يقوم بعمل دنيوي مباح، وهذه الجوائز مباحة ولا مانع منها، وهو ضرب من الجعالة، حيث تحفز مثل هذه الجوائز الناسَ للقيام ببعض الأعمال، التي لو خلتْ من الجوائز لمَا وُجد من يقوم بها. (الجوائز: أحكامها الفقهية، وصورها المعاصرة الفصل الثالث)

والله أعلم

تاريخ الرقم:  7/5/1440هـ 14/1/2019م الاثنين

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply