hamare masayel

مچھلی پالن کے لئے سرکاری تعاون لینا جائز ہے

(سلسلہ نمبر: 487)

مچھلی پالن کے لئے سرکاری تعاون لینا جائز ہے

سوال: مفتی صاحب مچھلی پالنے والوں کو سرکار تین لاکھ روپیہ دیتی ہے؛ تاکہ وہ آسانی سے یہ کام کرسکیں، جس پر کوئی سود نہیں لیتی؛ بلکہ تین لاکھ دیتی ہے جسے تین سال میں جمع کرنا ہوتا ہے، پھر تبرع کرتے ہوئے ایک لاکھ معاف بھی کردیتی ہے… کیا ایسا پیسہ لینا جائز ہے۔

المستفتی: عبد اللہ اعظمی، کٹولی، اعظم گڑھ۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: مچھلی پالن کے لئے جس سرکاری اسکیم کا آپ نے تذکرہ کیا ہے، اگر وہ صحیح اور واقع کے مطابق ہے، تو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، یہ حکومت کی طرف سے قرض حسنہ اور تبرع وتعاون کی شکل ہے۔

الدلائل

قال الله تعالى: ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ (البقرة: 245).

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  “من أنظر معسرا أو وضع عنه ؛ أظله الله في ظله”. (صحيح مسلم: كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/ بَابُ حَدِيثِ جَابِرٍ الطَّوِيلِ، رقم الحديث: ٣٠٠٦).

“التبرع بذل المكلف مالا أو منفعة لغيره في الحال أو  المآل بلا عوض بقصد البر والمعروف غالباً”. (الموسوعة الفقهية ٦٥/١٠ باب التبرع).

“اتفقت الأمة على مشروعية التبرع، و لم ينكر على ذلك أحد” (الموسوعة الفقهية ٦٦/١٠).

 هي (الهبة) تمليك العين بلا عوض، هذا في الاصطلاح، وفي اللغة هي التبرع والتفضل بما ينفع الموهوب له مطلقا. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: ٥/ ٩١).

هذا ما ظهر لي والله أعلم وعلمه أتم وأحكم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

10- 2- 1442ھ 28- 9- 2020م الاثنين.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply