hamare masayel

والد کے ترکہ میں بیٹیوں کا بھی حصہ ہے

(سلسلہ نمبر: 799)

 والد کے ترکہ میں بیٹیوں کا بھی حصہ ہے

سوال: والد سے 13 ایکٹر زمین، 4 بیٹی اور 4 بیٹوں کو وراثت میں ملی. والد کی دو بیویاں تھیں۔ اور والد کے انتقال بعد دونوں بیویاں حیات تھیں. گویا کل ورثاء میں دو بیوی، چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں. پھر بیٹوں نے 10 ایکٹر زمین فروخت کردیا۔

فی الحال اب صرف 3 ایکٹر بچی ہے۔ اب ایک بیٹی کا دعویٰ یہ ہے کہ مجھ کو اس 13 ایکٹر کے حساب سے حصہ ملے، کیوں کہ بیٹوں (یعنی بھائیوں) نے بیٹی ( یعنی بہن) کی اجازت بغیر یہ زمین بیچا ہے. کیا بیٹی کا مطالبہ شرعا صحیح ہے. واضح ہو، کہ بیٹوں نے، والد کے انتقال کے بعد، یہ زمین فروخت کی تھی، نیز اس 13 ایکٹر زمین میں بیٹیوں کا شرعا کتنا حصہ بنے گا؟ اور جب 10 ایکٹر زمین فروخت کی جاچکی ہے، تو شرعی حصوں کی مانگ کے لیے اس بقیہ تین ایکٹر میں سے لینا کیسا ہے؟

المستفتی: طہ شیرازی۔

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب: صورت مسئولہ میں بر تقدیر صحت تیرہ ایکڑ زمین میں بہن بھائیوں سب کا حصہ تھا، جس کی (حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی کے بعد) شرعاً تقسیم بارہ حصوں میں ہوگی، جس میں سے دو دو حصے چاروں لڑکوں کے اور ایک ایک حصہ چاروں لڑکیوں کے ہوں گے، اس طرح تیرہ ایکڑ میں سے ایک لڑکے کو 2.17 ایکڑ (16.67 پرسنٹ) اور ایک لڑکی کو 1.08 ایکڑ (8.33 پرسنٹ) ملے گا، اس بھائیوں نے جو دس ایکڑ زمین بیچی ہے اس سے حاصل شدہ قیمت ایک ایک لڑکی کو 8.33 پرسنٹ واپس کریں اور بقیہ تین ایکڑ زمین کی تقسیم بھی اسی طرح کریں۔

نوٹ: بہنوں کا حصہ زبردستی لینا سخت گناہ ہے، قرآن وحدیث میں ایسے شخص کو جہنمی قرار دیا گیا ہے۔

الدلائل

قال الله تعالى: لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا. (النساء: 7)

وقال تعالى: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا (النساء: 10).

وقال تعالى: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ. (النساء: 11).

إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] (تبيين الحقائق: 6/ 224).

عن أبي هريرة  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “اجتنبوا السبع الموبقات”.  قيل: يا رسول الله، وما هن؟  قال: ” الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات”. (صحيح البخاري، رقم الحديث: 2766).

 والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

26- 5- 1445ھ 11-12- 2023م الاثنين

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply