hamare masayel

وراثت سے محروم کرنا جائز نہیں، وراثت کے احکام

(سلسلہ نمبر: 545)

وراثت سے محروم کرنا جائز نہیں

سوال: ایک باپ کے صرف چار لڑکی ہیں ایک لڑکی ماں باپ کی خدمت کرتی ہے اور ایک لڑکی ماں باپ سے ناراض ہے، اب معلوم یہ کرنا ہےکہ جو لڑکی ناراض ہےاس کو وراثت سے محروم کیا جا سکتا ہے، اور اسی طرح اس لڑکی کو زیادہ حصہ دیا جا سکتا ہے؟ کیا یا وصیت کی جا سکتی ہے گھر کی یا جنگل کی زمین کی؟ شریعت کے حکم سے مطلع فرمائیں، کرم ہوگا۔

 المستفتی: محمد عالمگیر رحیمی ثم نوریؔ میرٹھی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: کسی وارث کو وراثت سے محروم کرنا جائز نہیں، اگر کوئی محروم کردے تو شرعاً اس کا کوئی اعتبار بھی نہیں ہے، یعنی اگر کچھ مال چھوڑ کر مرا ہے تو  جس وارث کو محروم کیا ہے اس کو بھی شرعی حصہ ملے گا۔

البتہ جو بیٹی والدین کی خدمت کررہی ہے اس کو اپنی زندگی میں کچھ الگ سے دینا چاہے تو دے سکتے ہیں بشرطیکہ دوسری بیٹی کو نقصان پہونچانا مقصود نہ ہو، اور اگر پورا مال زندگی میں ہبہ کردے تو وہ لڑکی مالک تو بن جائے گی لیکن والد گنہ گار  ہوگا اور آخرت میں اس کو جواب دینا پڑے گا۔

اسی طرح وارث کے لئے اگر وصیت کی جائے تو دوسرے ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی، اگر دوسرے ورثاء راضی ہوں گے تو وصیت پر عمل کیا جائے گا ورنہ نہیں۔

الدلائل

قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٌ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۗ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ (النساء: 11).

وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصيةلوارث “. (سنن أبي داود، رقم الحديث: 2870).

وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة. (سنن ابن ماجه، رقم الحديث: 2703).

ولو وهب جمیع ماله من ابنه جاز، وهو آثم نص علیه محمد. (الفتاویٰ البزازیة علی هامش الفتاویٰ الھندیة، کتاب الهبة/ الجنس الثالث في هبة الصغیر: 6/ 237 زکریا).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

15- 4- 1442ھ 1- 11- 2020م الثلاثاء.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply