hamare masayel

زندہ جانور وزن سے خریدنا

زندہ جانور وزن سے خریدنا

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وعلماء عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زندہ مرغی یا بکرا بکری وزن سے خریدنا درست ہے یا نہیں؟جبکہ مرغی میں عموم بلوی ہے؟ برائے کرم مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی: عبد الرب اعظمی قاسمی

الجواب باسم الملهم للصدق والصواب

 زندہ جانور کو روپئے پیسے کے عوض تول کر خریدنا جائز اور درست ہے؛ گرچہ اس صورت میں گوشت کی مقدار مجہول ہوتی ہے لیکن چونکہ اس زمانے میں وزن اور تول سے زندہ جانوروں کی خرید فروخت ہونے لگی ہے، اس بنا پر معمولی جہالت نزاع  کا  سبب نہیں ہوتی؛ لہٰذا بیع درست ہے۔ (مستفاد: احسن الفتاوی دہلی 6/ 497، ایضاح المسائل ص 158).

الدلائل

لو باعه بالأثمان وإن باعه بحیوان بغیر مأکول اللحم جاز فی ظاهر قول أصحابنا، وهو قول عامة الفقهاء، وفي المحلی: قال أبوحنیفة وأبویوسف: یجوز بیع اللحم بالحیوان؛ لأن الحیوان لیس من مال الربو، وهو بیع موزون بغیر موزون. (أوجز المسالک 5/ 105، فتح القدیر، دارالفکر، مصری قدیم 27/7، کوئٹه 167/6، زکریا 7/ 25، شامي، زکریا 415/7، کراچی 180/5، حاشیة چلپی، إمدادیه ملتان 91/4، زکریا 460/4)

والله أعلم

 تاريخ الرقم:  28/5/1440هـ 4/2/2019م الاثنين

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply