hamare masayel

سودی قرض لینے والے کی امامت

(سلسلہ نمبر: 827).

سودی قرض لینے والے کی امامت

سوال: بخدمت علمائے کرام و مفتیانِ عظام، دامت برکاتہم!

عرض یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنا کرایہ پر چلانے کے لئے ہوٹل لیا، لیکن کچھ ان کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا کہ وہ ہوٹل کرایہ پر لینے کے بعد چلا سکیں؛ چنانچہ انہوں نے اپنے ایک عالم دوست سے اپنی صورتِ حال بیان کی۔ اس پر مذکورہ عالم صاحب نے بینک سے قرض حاصل کرکے ان کی مالی معاونت کی۔

بعد ازاں، جب اس عالم صاحب سے میں نے کہا کہ اگر مجھے پیسہ کی ضرورت ہو تو کیا میں لون لے سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو بھی ضرورت ہو تو آپ بھی قرض لے لیں؛ لیکن کسی کو یہ بات نہ بتائیں۔

اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ وہ عالم صاحب ایک مسجد میں جمعہ کی امامت کرتے ہیں اور ماہِ رمضان میں تراویح بھی پڑھاتے ہیں۔ تو کیا اس عالم کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً درست ہوگا؟ کیا ان کی امامت مکروہ ہے یا نہیں؟

براہ کرم، شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ والسلام

السائل: محمد شکیل اعظمی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: بلا ضرورت شدیدہ سودی قرض لینا جائز نہیں ، قرآن واحادیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے؛ اس لیے اگر امام نے واقعتاً بلاضرورت سودی لون لیا ہے تو ایسی صورت میں اس کی اقتداء میں نماز مکروہ ہوگی ؛ البتہ بسا اوقات قانونی مجبوریوں کی وجہ سے سودی لون لیے بغیر چارہ نہیں ہوتا اور کچھ شکلوں میں علماء نے بھی ضرورتاً اس کی گنجائش دی ہے ایسی مجبوری میں سودی لون لینے کی گنجائش ہے اور اس کی وجہ سے امامت کی کراہت کا بھی حکم عائد نہ ہوگا ۔ بہتر یہ تھا کہ سوال سے پہلے اس کی تحقیق کرلی جاتی کہ امام نے سودی قرض کس بنا پر لیا ہے ؟ اور اس کے بعد سوال کیا جاتا۔

الدلائل

قال تعالى : ( ( وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَمَ الربا ) ) ( البقرة : 275 )

وعن جابر ، قال : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آكل الربا، ومؤكله ، وكاتبه ، وشاهديه ، وقال : هم سواء (صحيح مسلم ، باب لعن آكل الربا وموكله ، رقم : 106 ) وفي القنية والبغية : يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ( انتهى ) . ( الأشباه والنظائر لا بن نجیم ص : 79 )۔

“(ويكره) (تقديم العبد….(والفاسق) لأنه لا يتهم لأمر دينه”. (فتح القدیر: كتاب الصلاة ، باب الإمامت 1 /350 ط: دار الفكر بيروت).

 والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

16- 9- 1446ھ 17-3- 2025م الاثنین

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply