hamare masayel

سینگ داغے ہوئے جانور کی قربانی، سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی

سینگ داغے ہوئے جانور کی قربانی

سوال: پڑوا وغیرہ جب بیس بائیس دن کے ہوتے ہیں تو بعض قصاب لوہے کےراڈ سے اسکی سینگ کو داغ دیتے ہیں، جس سے اسکی سینگ ختم ہوجاتی ہے بڑھتی نہیں، کیا ایسے جانور کی قربانی درست ہے؟

المستفتی محمد انور داؤدی ایڈیٹر روشنی

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب:

ایسے جانور جن کی سینگ کو داغ کر یا کیمیکل وغیرہ کے ذریعہ نکلنے سے روک دیا گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، البتہ بلا وجہ بے زبان جانور کو اذیت دینا یا سینگ نکلنے سے روکنے کے لیے داغنا  شرعاً ممنوع ہے۔

الدلائل

ویضحی بالجماء ؛ هي التي لا قرن لها خلقة ، وکذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالکسر.  (رد المحتار:  9/ 467 ، ط : زکریا ، و: 9/ 391 ، ط: دار الکتاب دیوبند ، و: 6/ 323 ، ط: کراچي)

والجماء هی التی لا قرن لها خلقة وکذا مکسورة القرن تجزئ. (بدائع الصنائع زکریا 4/ 216، الفتاوی الهندیة، زکریا قدیم 5/ 297، جدید 5/ 343، مجمع الأنهر، دار الکتب العلمیة بیروت 4/ 171، تبیین الحقائق امدادیه ملتان 6/5، زکریا 6/ 479، التاتارخانیة زکریا 17/ 426، رقم: 27715) فقط.

والله أعلم

تاريخ الرقم: 8- 12- 1440ھ 10- 8- 2019م السبت.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply