بقلم: محمد ہاشم قاسمى بستوى۔
ذكر بڑى قيمتى چيز ہے، اس ميں بڑى حلاوت اور لذت ہوتى ہے، اور سب سے بڑى بات اس سے الله كا تقرب حاصل ہوتا ہے، جب كوئى بندہ الله رب العزت كا ذكر كرتا ہے، تو الله تعالى اس سے خوش ہوتے ہيں، اسے ياد كرتے ہيں: چنانچہ: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “سو تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو” [البقرہ: 152]۔
اس آيتِ كريمہ ميں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کثرت سے ذكر کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا كہ اللہ کا ذکر ایک عظیم، آسان اور ہلکی پھلکی عبادت ہے۔ اس کے لیے نہ تو کسی دماغی محنت کی ضرورت ہے اور نہ ہی جسمانی، بلکہ یہ صرف زبان کو حرکت دینے کا نام ہے، بس پڑھنے والے كا دل اور دماغ حاضر ہونا چاہئے ۔ اس کا اجر ثواب بہت بڑا ہے، اور اس کے فوائد بھى بے شمار ہیں، جو بندے کو دنیا اور آخرت دونوں میں حاصل ہوتے ہیں۔
الله كے ذكر كا كوئى متعين وقت نہيں ہے، بندہ جب چاہے ہر حال میں اپنے رب کا ذکر کر سکتا ہے، لیکن کچھ اذکار اور دعائيں مخصوص اوقات اور مخصوص تعداد کے ساتھ پڑھى جاتى ہيں، جیسے سونے کی دعائیں، صبح و شام کے اذکار جن کی فضیلت اور برکت کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو انہیں ہمیشہ پڑھتا رہے۔
اذکار و دعاؤں کے فضائل:
بندے كے ايمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
اللہ تعالى سے تعلق برقرار رہتا ہے۔
اللہ رب العزت کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
دل کو سکون اور سینہ ميں کشادگی محسوس ہوتى ہے۔
رزق میں کشادگی اور قرضوں کی ادائیگی ہوتی ہے۔
شیطان کے شر سے حفاظت ہوتی ہے۔
حسد اور نظر بد سے بچاؤ ہوتا ہے۔
جسم کو طاقت اور توانائی میسر آتی ہے۔
نیکیوں اور ثواب میں اضافہ ہوتا ہے۔
گناہوں اور خطاؤں کی مغفرت ہوتی ہے۔
دنیا و آخرت کے تمام رنج وغم، پریشانیوں اور فکر سے نجات ملتی ہے۔
انسانوں، جنوں اور تمام مخلوقات کے شر سے حفاظت ہوتی ہے۔
اللہ کے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ نصیب ہوتا ہے۔
اللہ تعالى ذكر كرنے والے بندے کا ذکر ملأ اعلیٰ (فرشتوں کی مجلس) میں کرتا ہے۔
اللہ تعالى کی نعمتيں اور ان میں برکت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔
یہ تمام فضائل احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔ انہیں پڑھنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس پر ہمیشہ عمل کرنا چاہیے۔
ذيل ميں ہم صبح كو پڑھى جانے والى كچھ دعاؤں كو ذكر كر رہے ہيں، سب سے پہلے قرآنى آيات كو ذكر كريں گے اس كے بعد ان اذكار اور دعاؤں كو ذكر كريں گے جو صحيح احاديث سے ثابت ہيں:
صبح كو پڑھى جانے والى دعائيں قرآنى آيات سے:
(1) آية الكرسي
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم
﴿اللّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾. [آية الكرسى – سورة البقرة 255].
ويسے تو آية الكرسى كے بارے ميں بہت سے فضائل ہيں، ليكن خاص كر صبح كے وقت پڑھنے كے بارے ميں طبرانى كى معجم كبير ميں حديث نمبر [17012] كے تحت حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُن کے پاس کھجور کا ایک ڈھیر (ذخیرہ) تھا جو مسلسل گھٹتا جا رہا تھا۔ چنانچہ ایک رات وہ اُس کی نگرانی کے لیے (چھپ کر) بیٹھ گئے۔ اچانک اُنہیں ایک جانور نظر آیا جو ایک بالغ لڑکے کی شکل جیسا تھا۔ اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اُسے سلام کیا تو اُس نے بھی جواباً سلام کہا۔
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: “تم کون ہو؟ جن ہو یا انسان؟”
اُس نے جواب دیا: “میں جن ہوں۔”
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: “اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔”
جب اُس نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس كا ہاتھ كتے کے پنجے جيسے تھا، اور اُس کے بال بھی کتے کے بال جیسے تھے۔
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حیرت سے کہا: “کیا جنوں کی یہی شکل ہوتی ہے؟”
اُس جن نے جواب دیا: “ساری جن قوم کو معلوم ہو چکا ہے کہ اُن میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں۔”
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: “تم یہاں کیوں آئے ہو؟”
جن بولا: “ہمیں خبر ملی کہ آپ صدقہ خیرات کرنا پسند کرتے ہیں، اس لیے ہم آپ کے کھانے میں سے اپنا حصہ لینے آتے ہیں۔”
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: “پھر ہم تم جنوں سے کیسے بچ سکتے ہیں؟”
جن نے جواب دیا: “سورہ البقرہ کی یہ آیت: ‘اللّٰهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ’ (آیت الکرسی)۔ جو شخص اسے شام کے وقت پڑھے گا، وہ صبح تک ہمارے شر سے محفوظ رہے گا۔ اور جو اسے صبح کے وقت پڑھے گا، وہ شام تک ہمارے شر سے بچا رہے گا۔”
جب صبح ہوئی تو حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اُس خبيث جن نے سچ کہا۔”
توٹ: اس روايت كو امام ہيثمى نے مجمع الزوائد (10/ 118) طبرانى كبير كے حوالے سے ذكر كرنے كے بعد كہا: اس روايت كے تمام راوى ثقہ ہيں۔ وہ اس روايت كے صحيح ہونے كى طرف اشارہ كر رہے ہيں، نيز اس كو ضياء مقدسى نے اپنى كتاب المختارہ حديث نمبر [1260] ميں ذكر كيا ہے، اور كہا ہے كہ: اس حديث كى سند صحيح ہے
(3) سورہ اخلاص
بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ* اللَّهُ الصَّمَدُ* لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ* وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُواً أَحَدٌ﴾.
تين مرتبہ
(4) سورہ فلق
بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ* مِن شَرِّ مَا خَلَقَ* وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ* وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ* وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾.
تين مرتبہ
(5) سورہ ناس
بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ* مَلِكِ النَّاسِ* إِلَهِ النَّاسِ* مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ* الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ* مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ﴾
تين مرتبہ
سورہ اخلاص اور معوذتين كى فضيلت ميں سنن ترمذى حديث نمبر 3575، اور سنن ابو داود حديث نمبر 5082، کے تحت حضرت عبد الله بن خبيب سے روايت ہے، رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے مجھ سے فرمايا: سورۃ اخلاص (قل ھو اللہ احد) اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) صبح اورشام کے وقت تین بار پڑھا کرو، یہ ہر آفت و بیماری ميں تمہارے ليے کافی ہو گی۔
(6) سورہ بقرہ كے شروع كى آخر كى دس آيات
الٓمٓ ﴿1﴾ ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَۛ فِيهِۛ هُدَى لِّلۡمُتَّقِينَ ﴿2﴾ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡغَيۡبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ﴿3﴾ وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ وَبِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ ﴿4﴾ أُوْلَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدَى مِّن رَّبِّهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ﴿5﴾ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَأَنذَرۡتَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تُنذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ﴿6﴾ خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ وَعَلَىٰٓ أَبۡصَٰرِهِمۡ غِشَٰوَةٌ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿7﴾ وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَمَا هُم بِمُؤۡمِنِينَ ﴿8﴾ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَمَا يَخۡدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ ﴿9﴾ فِي قُلُوبِهِم مَّرَض فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡذِبُونَ ﴿10﴾
ان آيات كى فضيلت ميں امام بيہقى كى شعب الايمان حديث نمبر [2188] ميں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: “جو شخص دن کے شروع میں سورۃ البقرہ کی دس آیات پڑھ لے تو اسے شام تک شیطان نزدیک نہیں آتا۔
صبح كے اذكار احاديث ميں:
(1) أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ. [رواه النسائي في عمل اليوم والليلة: 454]
ترجمہ: ميں اللہ سے استغفار اور توبہ كرتا ہوں۔
اس دعا كو روزانہ كم سے كم 100 بار پڑھنے كا اہتمام كرنا چاہئے، اس دعا كے بارے ميں حضرت ابو ہريرہ سے امام نسائى كى عمل اليوم والليلہ ميں حديث نمبر [454] تحت ايك روايت ميں آيا ہے، وہ كہتے ہيں: آپ صلى اللہ عليہ وسلم اس دعا كو كثرت سے پڑھتے تھے، اس كى فضيلت ميں عمل اليوم والليلہ حديث نمبر 455 ميں حضرت عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جسے اپنے نامۂ اعمال میں کثرت سے استغفار ملے۔
(2) أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا الْيَوْمِ، وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهِ، وَخَيْرِ مَا بَعْدَهُ. وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ». [رواه ابن حبان في صحيحه: 963]
ترجمہ: ہم صبح کو پہنچ گئے اور ساری بادشاہت (کے اختیارات) اللہ ہی کے لیے ہیں، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ میں تجھ سے اس دن کی بھلائی مانگتا ہوں، اور جو بھلائی اس میں ہے، اور جو بھلائی اس کے بعد ہے (یعنی آنے والے وقت کی)۔ اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، بڑھاپے سے، بری عمر (کے انجام) سے، دجال کے فتنے سے، اور قبر کے عذاب سے۔
اس دعا كى فضيلت كے بارے ميں صحيح ابن حبان حديث نمبر [963] ميں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے۔
(3) اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ. [رواه ابن ماجه في سننه: 3868]
ترجمہ: اے اللہ! ہم تیری قدرت سے صبح کرتے ہیں، تیری قدرت سے شام کرتے ہیں، تیری ہی قدرت سے ہم جیتے ہیں، تیری ہی قدرت سے ہم مرتے ہیں۔
اس دعا كى فضيلت كے بارے ميں سنن ابن ماجہ حديث نمبر [3868] كے تحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب تم صبح کرو تو یہ دعا پڑھا کرو۔
(4) سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ. [رواه مسلم في صحيحه: 2726]
ترجمہ: میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اور اس کی حمد کے ساتھ، اس کی مخلوقات کی تعداد کے برابر، اس کی ذات کی رضا وخوشنودی کے برابر، اس کے عرش کے وزن کے برابر، اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔
اس دعا كے بارے ميں صحيح مسلم ميں حديث نمبر [2726] كے تحت حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر ان کے پاس سے نکلے، جبکہ وہ اپنی نماز گاہ (مصلّٰی) میں بیٹھی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت واپس آئے، تو وہ اس وقت بھی اپنے مصلى پر بیٹھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرت سے فرمایا: “کیا تم اسی حالت پر بیٹھی ہو جس حالت میں میں نے تمہیں چھوڑا تھا؟” انہوں نے کہا: جی ہاں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” يہاں سے جانے بعد يہ چار کلمات تین بار کہے ہیں۔ اگر تم نے آج صبح سے اب تک جو کچھ بھی پڑھا ہے (تسبیح و تہلیل)، اس کا وزن ان چار کلمات کے مقابلے میں کیا جائے تو یہی چار کلمات اس کے برابر ہوں گے یا اس پر بھاری ہوں گے۔
(5) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. [رواه البخاري: 3293، ومسلم: 2691]
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔
اس دعا كے بارے ميں صحيح بخارى ميں حديث نمبر [3293] اور صحيح مسلم ميں حديث نمبر (2691) كے تحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دن میں سو بار یہ دعا پڑھے تو اس کے لیے دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور وہ اس دن شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا۔
(6) اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ. [رواه أحمد في مسنده: 7961]
ترجمہ: اے اللہ! جو كہ غیب اور ظاہر كى باتوں کا جاننے والا ہے، آسمانوں اور زمینوں كا پیدا کرنے والا ہے، ہر چیز کا رب اور مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے۔
اس دعا كى فضيلت كے بارے ميں مسند احمد حديث نمبر [7961] تحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی كريم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: “مجھے کوئی ایسی دعا بتائیے جسے میں صبح و شام پڑھا کروں۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسى دعا كو صبح شام اور سوتے وقت پڑھ ليا كرو۔
(7) اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. [رواه أبو داود في سننه: 5090]
ترجمہ: اے اللہ! میرے جسم میں مجھے عافیت عطا فرما، اے اللہ! میرى سماعت میں مجھے عافیت عطا فرما، اے اللہ! میری بصارت میں مجھے عافیت عطا فرما، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر سے، اور فقر وغربت سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
اس دعا كے بارے ميں سنن ابو داود حديث نمبر [5090] ميں حضرت عبد الرحمن بن ابى بكرہ سے روايت وہ كہتے ہيں: ميں اپنے والد كو صبح شام تين مرتبہ يہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا تھا، ايك بار ميں نے ان سے پوچھا كہ آپ يہ دعا كيوں پڑھتے ہيں؟ انھوں نے جواب ديا كہ ميں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے سنا تھا اور پھر خود بھی ہمیشہ اسے اپنی دعاؤں کا حصہ بنایا۔ میں آپ کی سنت کی پیروی کرنا پسند کرتا ہوں۔
(8) للهمَّ إنِّي أعوذُ بك من الهمِّ والحزنِ، والعجزِ والكسلِ، والبُخلِ والجُبنِ، وضَلَعِ الدَّينِ، وغَلَبَةِ الرجالِ. [رواه البخاري: 6363]
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم اور اداسی سے، بے بسی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے، اور لوگوں (یعنی دشمنوں) کے غلبے سے۔
اس دعا كے بارے ميں بخارى شريف ميں حديث نمبر [6363] كے تحت حضرت انس رضى الله عنہ سے روايت ہے، وہ كہتے ہيں: ميں برابر آپ صلى الله عليہ وسلم كى خدمت ميں لگا رہتا تھا اور آپ صلى الله عليہ وسلم كثرت سے يہ دعا پڑھتے تھے۔
(9) بِسْمِ اللهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ. [رواه الترمذي في سننه: 3388، أبو داود في سننه: 5088]
ترجمہ: اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص اسے صبح و شام تین تین بار پڑھے گا، وه کسی بھی قسم کے آنے والے نقصان، بیماری، حادثے یا آفت سے ان شاء اللہ محفوظ رہے گا۔ یہ دعا ایک ڈھال کی مانند ہے جو ہر برائی سے بچاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عثمان بن عفان رضى اللہ عنہ سے سنن ترمذى حديث نمبر: [3388]، اور سنن ابو داود ميں حديث نمبر [5088] ميں ايك روايت ہے رسول اللہ صلى اللہ عليہ نے ارشاد فرمايا: جو بندہ ہر دن کی صبح اور ہر رات کی شام میں تین بار یہ دعا پڑھے تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔
ان كے علاوہ اور بہت سارى دعائيں اور اذكار ہيں، ليكن اس مجموعے ميں خاص كر ان دعاؤں كو شامل كيا گيا ہے جن كو صبح كے وقت بھى پڑھنے كا اہتمام كيا جاتا ہے، ان كے فوائد صحيح احاديث سے ثابت ہيں، بس پڑھنے والے كا اعتقاد اور اس كى نيت صحيح ہونا ضرورى ہے، ان شاء الله ضرور فائدہ ہوگا۔
صبح وشام كى دعائيں اور اذكار


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


