بقلم: محمد ہاشم قاسمى بستوى
يقينا ذکر روح کی غذا ہے، یہ وہ چیز ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ سے جوڑتى ہے، یہ ایک ذریعہ ہے جس سے مسلمان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، ذكر اللہ تعالى سے ہمارے تعلق کو مضبوط کرتا ہے، اور ہمیں شیطان کے وسوسوں،اور ہر قسم كےنقصانات اور ہر طرح کی آفت ومصيبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ يقينا اللہ تعالیٰ کے ذکر پر پابندی کرنے میں دنیا اور آخرت دونوں میں بڑى كاميابى كا راز پنہاں ہے۔
صبح و شام کے اذکار اور دعاؤں ميں سے بعض اہم اذکار ايسے ہيں جنہيں ہر مسلمان کوروزانہ پڑھنا چاہیے۔ ان كے پڑھنے سے الله كا قرب حاصل ہوتا ہے، الله تعالى دعا كرنے والوں سے خوش ہوتا ہے، ان كے گناہوں كو معاف كرتا ہے، ان پر اپنے انعام واكرام كى بارش كرتا ہے، اور ذكر كرنے والے بندوں كا تذكرہ فرشتوں کے مجمع میں كرتا ہے، يقينا الله كے ذكر سے اسے ياد كرنے سے انسان كے دل كو سكون ملتا ہے، اسے ايسى فرحت وخوشى اور ايسى لذت محسوس ہوتى ہے جو دنيا كى كسى چيز سے بھى نہيں محسوس ہوتى ہے، واقعى اللہ تعالیٰ کا ارشاد برحق ہے:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ [الرعد: 28]
ترجمہ: جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں۔ سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔
اسى طرح صحيح بخارى اور مسلم كى ايك حديث ميں وارد ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً. [صحيح البخاري: 7405، صحيح مسلم: 2675]
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا ہوں جیسا وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے۔ جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ مجھے لوگوں کے سامنے یاد کرے تو میں اسے فرشتوں کی ایسی مجلس میں یاد کرتا ہوں جو ان سے بہتر ہے۔ اگر میرا بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔ اگر وہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں ایک بازو قریب ہوتا ہوں۔ اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔
ذکر کے فضائل میں عمومی طور پر اور خصوصاً صبح و شام کے اذکار کے متعلق طور پراحاديث ميں تاكيد آئى ہے اس ليے ذيل ميں ہم صبح شام كے اذكار كو ذكر كر رہے ہيں:
صبح وشام كے اذكار قرآنى آيات سے
(1) آية الكرسي
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم
﴿اللّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾. [آية الكرسى – سورة البقرة 255].
ترجمہ: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو سدا زندہ ہے جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے جس کو نہ کبھی اونگھ لگتی ہے، نہ نیند۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے ( وہ بھی) اور زمین میں جو کچھ ہے ( وہ بھی) سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے ؟ وہ سارے بندوں کے تمام آگے پیچھے کے حالات کو خوب جانتا ہے، اور وہ لوگ اس کے علم کی کوئی بات اپنے علم کے دائرے میں نہیں لاسکتے، سوائے اس بات کے جسے وہ خود چاہے، اس کی کرسی سارے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوئے ہے، اور ان دونوں کی نگہبانی سے اسے ذرا بھی بوجھ نہیں ہوتا، اور وہ بڑا عالی مقام، صاحب عظمت ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو، تمہارے ساتھ اللہ کی طرف سے ایک محافظ رہے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔ [صحیح بخاری: 2311]
(2) سورہ بقرہ كى آخر كى دو آيتيں
﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾. [سورة البقرة: 285- 286]
ترجمہ: یہ رسول (یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور (ان کے ساتھ) تمام مسلمان بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے ( کہ کسی پر ایمان لائیں، کسی پر نہ لائیں) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (اللہ اور رسول کے احکام کو توجہ سے) سن لیا ہے، اور ہم خوشی سے (ان کی) تعمیل کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم آپ کی مغفرت کے طلبگار ہیں، اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کرجانا ہے۔
ترجمہ: اللہ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتا، اس کو فائدہ بھی اسی کام سے ہوگا جو وہ اپنے ارادے سے کرے، اور نقصان بھی اسی کام سے ہوگا جو اپنے ارادے سے کرے۔ (مسلمانو! اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ) اے ہمارے پروردگار اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو ہماری گرفت نہ فرمایئے۔ اور اے ہمارے پروردگار ہم پر اس طرح کا بوجھ نہ ڈاليے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اور اے ہمارے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیے جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرمایئے، ہمیں بخش دیجیے اور ہم پر رحم فرمایئے۔ آپ ہی ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس لیے کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں نصرت عطا فرمایئے۔
ان دونوں آيتوں كے پڑھنے كى فضيلت ميں بخارى شريف حديث نمبر [5008] اور مسلم شريف [808] ميں ايك روايت ہے جو حضرت ابو مسعود بدرى سے مروى ہے، رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا: “جو شخص رات میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے، تو وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی۔ يعنى يہ دونوں آیات پڑھنے والے کو ہر اس چیز کے شر سے بچاتی ہیں جو اسے تکلیف پہنچا سکتی ہے۔
(3) سورہ اخلاص
بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ* اللَّهُ الصَّمَدُ* لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ* وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُواً أَحَدٌ﴾.
تين مرتبہ
(4) سورہ فلق
بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ* مِن شَرِّ مَا خَلَقَ* وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ* وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ* وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾.
تين مرتبہ
(5) سورہ ناس
بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ* مَلِكِ النَّاسِ* إِلَهِ النَّاسِ* مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ* الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ* مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ﴾
تين مرتبہ
سورہ اخلاص اور معوذتين كى فضيلت ميں سنن ترمذى حديث نمبر 3575، اور سنن ابو داود حديث نمبر 5082، کے تحت حضرت عبد الله بن خبيب سے روايت ہے، رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے مجھ سے فرمايا: سورۃ اخلاص (قل ھو اللہ احد) اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) صبح اورشام کے وقت تین بار پڑھا کرو، یہ ہر آفت و بیماری ميں تمہارے ليے کافی ہو گی۔
صبح وشام كے اذكار احاديث نبوى سے
(6) اللهمَّ إنِّي أعوذُ بك من الهمِّ والحزنِ، والعجزِ والكسلِ، والبُخلِ والجُبنِ، وضَلَعِ الدَّينِ، وغَلَبَةِ الرجالِ. [رواه البخاري: 6363]
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم اور اداسی سے، بے بسی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے، اور لوگوں (یعنی دشمنوں) کے غلبے سے۔
اس دعا كے بارے ميں بخارى شريف ميں حديث نمبر [6363] كے تحت حضرت انس رضى الله عنہ سے روايت ہے، وہ كہتے ہيں: ميں برابر آپ صلى الله عليہ وسلم كى خدمت ميں لگا رہتا تھا اور آپ صلى الله عليہ وسلم كثرت سے يہ دعا پڑھتے تھے۔
(7) بِسْمِ اللهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ. [رواه الترمذي في سننه: 3388، أبو داود في سننه: 5088]
ترجمہ: اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
اس دعا کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص اسے صبح و شام تین تین بار پڑھے گا، وه کسی بھی قسم کے آنے والے نقصان، بیماری، حادثے یا آفت سے ان شاء اللہ محفوظ رہے گا۔ یہ دعا ایک ڈھال کی مانند ہے جو ہر برائی سے بچاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عثمان بن عفان رضى اللہ عنہ سے سنن ترمذى حديث نمبر: [3388]، اور سنن ابو داود ميں حديث نمبر [5088] ميں ايك روايت ہے رسول اللہ صلى اللہ عليہ نے ارشاد فرمايا: جو بندہ ہر دن کی صبح اور ہر رات کی شام میں تین بار یہ دعا پڑھے تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔
(8) يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ. [السنن الكبرى: 10333، شعب الإيمان: 745]
ترجمہ: اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! اے ساری کائنات کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے ذریعے فریاد کرتی ہوں۔ میرے سارے معاملات درست فرما دے اور مجھے ایک پل کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔
اس دعا كو نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سکھائی تھى، امام بيہقى كى سنن كبرى حديث نمبر [10333] اور شعب الايمان ميں حديث نمبر [745] ميں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تمہیں کیا چیز روکتی ہے کہ تم وہ وصیت سنو جو میں تمہیں کرتا ہوں؟ تم صبح و شام اس دعا كو پڑھا کرو۔
(9) اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. [رواه البخاري: 6306]
ترجمہ: اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی طاقت بھر تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں اپنے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیرے احسان کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، سو تو مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔
اس دعا كى فضيلت ميں بخارى شريف حديث نمبر [6306] ميں حضرت شداد بن اوس رضى الله عنہ سے روايت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص اس دعا كو صبح كو پورے یقین کے ساتھ پڑھے اور اسی دن شام ہونے سے پہلے فوت ہوجائے، وہ جنت ميں جائے گا، اور جو شخص رات میں اسے پورے یقین کے ساتھ پڑھے اور صبح ہونے سے پہلے فوت ہوجائے، وہ بھی جنت والوں میں سے ہوگا۔
(10) اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. [رواه أبو داود في سننه: 5090]
ترجمہ: اے اللہ! میرے جسم میں مجھے عافیت عطا فرما، اے اللہ! میرى سماعت میں مجھے عافیت عطا فرما، اے اللہ! میری بصارت میں مجھے عافیت عطا فرما، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر سے، اور فقر وغربت سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
اس دعا كے بارے ميں سنن ابو داود حديث نمبر [5090] ميں حضرت عبد الرحمن بن ابى بكرہ سے روايت وہ كہتے ہيں: ميں اپنے والد كو صبح شام تين مرتبہ يہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا تھا، ايك بار ميں نے ان سے پوچھا كہ آپ يہ دعا كيوں پڑھتے ہيں؟ انھوں نے جواب ديا كہ ميں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے سنا تھا اور پھر خود بھی ہمیشہ اسے اپنی دعاؤں کا حصہ بنایا۔ میں آپ کی سنت کی پیروی کرنا پسند کرتا ہوں۔
(11) اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ. [رواه أبو داود في سننه: 5069، والبيهقي في الدعوات الكبير: 40]
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری گواہی دیتا ہوں، اور تيرے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کی، اور تیری تمام مخلوقات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک تو ہی اللہ ہے، تيرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم تيرے بندے اور رسول ہیں۔
اس دعا كے بارے ميں ابو داود شريف ميں حديث نمبر [5069]، اور دعوات كبير ميں حديث نمبر [40] كے تحت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘جو شخص صبح یا شام ايك بار یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک چوتھائی حصے کو آگ سے آزاد کر دے گا۔ اور جو اسے دو بار پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے آدھے حصے کو آزاد کر دے گا۔ اور جو اسے تین بار پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا۔ اور جو اسے چار بار پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے پوری کی پوری آگ سے آزاد کر دے گا۔
(12) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. [رواه البخاري: 3293، ومسلم: 2691]
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔
اس دعا كے بارے ميں صحيح بخارى ميں حديث نمبر [3293] اور صحيح مسلم ميں حديث نمبر (2691) كے تحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دن میں سو بار یہ دعا پڑھے تو اس کے لیے دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور وہ اس دن شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا۔
(13) سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ. [رواه مسلم في صحيحه: 2726]
ترجمہ: میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اور اس کی حمد کے ساتھ، اس کی مخلوقات کی تعداد کے برابر، اس کی ذات کی رضا وخوشنودی کے برابر، اس کے عرش کے وزن کے برابر، اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔
اس دعا كے بارے ميں صحيح مسلم ميں حديث نمبر [2726] كے تحت حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر ان کے پاس سے نکلے، جبکہ وہ اپنی نماز گاہ (مصلّٰی) میں بیٹھی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت واپس آئے، تو وہ اس وقت بھی اپنے مصلى پر بیٹھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرت سے فرمایا: “کیا تم اسی حالت پر بیٹھی ہو جس حالت میں میں نے تمہیں چھوڑا تھا؟” انہوں نے کہا: جی ہاں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” يہاں سے جانے بعد يہ چار کلمات تین بار کہے ہیں۔ اگر تم نے آج صبح سے اب تک جو کچھ بھی پڑھا ہے (تسبیح و تہلیل)، اس کا وزن ان چار کلمات کے مقابلے میں کیا جائے تو یہی چار کلمات اس کے برابر ہوں گے یا اس پر بھاری ہوں گے۔
(14) أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ. [رواه النسائي في عمل اليوم والليلة: 454]
ترجمہ: ميں اللہ سے استغفار اور توبہ كرتا ہوں۔
اس دعا كو روزانہ كم سے كم 100 بار پڑھنے كا اہتمام كرنا چاہئے، اس دعا كے بارے ميں حضرت ابو ہريرہ سے امام نسائى كى عمل اليوم والليلہ ميں حديث نمبر [454] تحت ايك روايت ميں آيا ہے، وہ كہتے ہيں: آپ صلى اللہ عليہ وسلم اس دعا كو كثرت سے پڑھتے تھے، اس كى فضيلت ميں عمل اليوم والليلہ حديث نمبر 455 ميں حضرت عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جسے اپنے نامۂ اعمال میں کثرت سے استغفار ملے۔
(15) أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. [رواه أحمد في مسنده: 8798]
ترجمہ: میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔
اس دعا كے بارے ميں مسند احمد حديث نمبر [8798] ميں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شام کے وقت تین بار یہ دعا پڑھے تو اسے اس رات کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے نقصان نہیں پہنچے گا۔ صحيح مسلم حديث نمبر [2708]ٍ ميں ہے كہ: جو رات ميں اس دعا كو پڑھ لے اسے كوئى جيز نقصان نہيں پہونچائے گى۔
(16) اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ. [رواه أحمد في مسنده: 7961]
ترجمہ: اے اللہ! جو كہ غیب اور ظاہر كى باتوں کا جاننے والا ہے، آسمانوں اور زمینوں كا پیدا کرنے والا ہے، ہر چیز کا رب اور مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے۔
اس دعا كى فضيلت كے بارے ميں مسند احمد حديث نمبر [7961] تحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی كريم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: “مجھے کوئی ایسی دعا بتائیے جسے میں صبح و شام پڑھا کروں۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسى دعا كو صبح شام اور سوتے وقت پڑھ ليا كرو۔
(17) أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا الْيَوْمِ، وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهِ، وَخَيْرِ مَا بَعْدَهُ. وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ». [رواه ابن حبان في صحيحه: 963]
ترجمہ: ہم صبح کو پہنچ گئے اور ساری بادشاہت (کے اختیارات) اللہ ہی کے لیے ہیں، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ میں تجھ سے اس دن کی بھلائی مانگتا ہوں، اور جو بھلائی اس میں ہے، اور جو بھلائی اس کے بعد ہے (یعنی آنے والے وقت کی)۔ اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، بڑھاپے سے، بری عمر (کے انجام) سے، دجال کے فتنے سے، اور قبر کے عذاب سے۔
اس دعا كى فضيلت كے بارے ميں صحيح ابن حبان حديث نمبر [963] ميں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے، اور شام كے وقت بھى یہی دعا پڑھتے تھے اور شام كى دعا ميں “أَصْبَحْنَا” کی جگہ “أَمْسَيْنَا” کہتے تھے۔
(18) اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ. [رواه ابن ماجه في سننه: 3868]
(19) اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ. [رواه ابن ماجه في سننه: 3868]
ترجمہ: اے اللہ! ہم تیری قدرت سے صبح کرتے ہیں، تیری قدرت سے شام کرتے ہیں، تیری ہی قدرت سے ہم جیتے ہیں، تیری ہی قدرت سے ہم مرتے ہیں،
اے اللہ! ہم تیری قدرت سے شام کرتے ہیں، تیری قدرت سے صبح کرتے ہیں، تیری ہی قدرت سے ہم جیتے ہیں، تیری ہی قدرت سے ہم مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹ كر آنا ہے۔
اس دعا كى فضيلت كے بارے ميں سنن ابن ماجہ حديث نمبر [3868] كے تحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب تم صبح کرو تو یہ دعا پڑھا کرو، اور شام كے وقت بھى يہى دعا پڑھو
(20) يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ. [رواه أحمد في مسنده عن أنس: 12107]
ترجمہ: اے دلوں کے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
اس دعا كے بارے ميں مسند احمد حديث نمبر [12107] كے تحت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
ان كے علاوہ اور بہت سے اذكار ہيں جو صبح وشام ميں پڑھے جاتے ہيں ليكن طوالت كى وجہ سے انہيں درج نہيں كيا گيا، اس مضمون ميں صرف انہيں اذكار اور دعاؤں كو شامل كيا گيا ہے جو عام طور صبح اور شام دونوں وقت پڑھى جاتى ہيں اور وہ صحيح يا حسن احاديث سے ثابت ہيں۔ ان دعاؤں كے بڑے فوائد ہيں، اگر پڑھنے والا عاجزى وانكسارى، پورى توجہ اور شوق، سچى لگن اور تڑپ، صحيح نيت اور صدق دل سے پڑھے تو ان شاء اللہ ضرور فائدہ ہوگا، اللہ تعالى ہم سب كو ان دعاؤں كو خلوصِ نيت كے ساتھ پڑھنے كى توفيق دے آمين۔


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


