بقلم: محمد ہاشم قاسمى بستوى
اسلام ميں دعاؤں كى بڑى اہميت ہے، دعاؤں كو عبادت كى جڑ اور بنياد سمجھا جاتا ہے، الله تعالى بھى چاہتے ہيں كہ اس كے بندے اس دعا كريں، جو بندے الله تعالى سے دعا كرتے ہيں الله تعالى ان سے خوش ہوتا ہے ان كى دعاؤں كو قبول كرتا ہے، اور ان كے كاموں كو پورا كرتا ہے، ان كى مغفرت كرتا ہے، ان كو ترقيات سے نوازتا ہے، اس ليے ہر مسلمان كو چاہئے كہ وہ روزانہ دعاؤں كے پڑھنے كا معمول بنائے، اس مضمون ميں ہم انتہائى مختصر اور پاور فل دعاؤں كو ذكر كر رہے ہيں جو قرآن كى آيتوں اور صحيح احاديث سے لى گئى ہيں:
قرآنى دعائيں:
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (البقرة: 127)
اے ہمارے رب ہماری جانب سے یہ دعا قبول فرما بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے۔
وَتُبْ عَلَيْنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ (البقرة: 128)
اور ہمیں معاف کر دیجئے، بلاشبہ آپ ہی توبہ قبول کرنے والے مہربان ہیں۔
رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة: 250)
ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی کامیابی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہميں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ. [آل عمران – 8].
خدایا ! ہمیں سیدھے رستے لگا دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ڈانوا ڈول نہ کر، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما ! یقینا تو ہی ہے کہ بخشش میں تجھ سے بڑا کوئی نہیں ۔
رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. [آل عمران – 16].
اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا لے۔
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ. [الأعراف – 23].
اے ہمارے پروردگار ! ہم نے تو اپنے آپ پر بڑی زیادتی کرلی ہے، اگر آپ نے ہمیں معاف نہیں کیا اور ہم پر رحم نہیں فرمایا، تو ہم یقینا بڑے نقصان میں پڑجائیں گے ۔
رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. [الأعراف – 47].
اے ہمارے رب ! ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کرنا۔
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ. [الأعراف – 126].
اے ہمارے رب ہم پر صبر اور استقامت کے دروازے کھول دے ہم مریں تو مسلمان ہی مریں
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ. [إبرهيم – 41].
ہمارے رب مجھے اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو اس دن بخش دیجیے گا جب حساب قائم ہوگا۔
رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ. [المؤمنون – 109].
اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے تو، تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ [النوح- 28].
اے میرے پروردگار ! مجھ کو، میرے والدین کو اور جو مسلمان ہو کر میرے گھر میں داخل ہوا اس کو، اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دیجئے، نیز آپ ظالموں کی ہلاکت و بربادی کو اور بڑھا دیجئے۔
احاديث سے چند مختصر دعائيں
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. [رواه أحمد في مسنده: 8798]
ترجمہ: میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔
اس دعا كے بارے ميں مسند احمد حديث نمبر [8798] ميں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شام کے وقت تین بار یہ دعا پڑھے تو اسے اس رات کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے نقصان نہیں پہنچے گا۔ صحيح مسلم حديث نمبر [2708]ٍ ميں ہے كہ: جو رات ميں اس دعا كو پڑھ لے اسے كوئى جيز نقصان نہيں پہونچائے گى۔
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ. [رواه أحمد في مسنده عن أنس: 12107]
ترجمہ: اے دلوں کے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
اس دعا كے بارے ميں مسند احمد حديث نمبر [12107] كے تحت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ہر نماز كے بعد 3 مرتبہ (صحيح مسلم: 591)
سُبْحَانِ الله 33بار، الحمد لله 33 بار الله أكبر 34 بار (صحيح البخاري: 843)
اللهم أَعِنِّي على ذِكْرِكَ، وشُكْرِكَ، وحُسْنِ عبادتِكَ. (سنن الترمذي: 1522)
رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَومَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ. (صحيح مسلم: 709)
اللَّهمَّ إنِّي أسألُكَ عِلمًا نافعًا ورزقًا طيِّبًا وعملًا متقبَّلًا. (سنن ابن ماجه: 925
فجر كى نماز كے بعد۔
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ. [رواه النسائي في عمل اليوم والليلة: 454]
ترجمہ: ميں اللہ سے استغفار اور توبہ كرتا ہوں۔
اس دعا كو روزانہ كم سے كم 100 بار پڑھنے كا اہتمام كرنا چاہئے، اس دعا كے بارے ميں حضرت ابو ہريرہ سے امام نسائى كى عمل اليوم والليلہ ميں حديث نمبر [454] تحت ايك روايت ميں آيا ہے، وہ كہتے ہيں: آپ صلى اللہ عليہ وسلم اس دعا كو كثرت سے پڑھتے تھے، اس كى فضيلت ميں عمل اليوم والليلہ حديث نمبر 455 ميں حضرت عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جسے اپنے نامۂ اعمال میں کثرت سے استغفار ملے۔


Join our list
Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.


