mufti ajmal walid

ایسا كہاں سے لائیں؟كہ تجھ سا كہیں جسے، مولانا محمودالحسن قاسمیؒ

  • Post author:
  • Post published:
  • Post category:Urdu Articles
  • Post comments:0 Comments
  • Post last modified:
  • Reading time:25 mins read

(میرے والد ومربی مولانا محمودالحسن قاسمیؒ، برہی عادل پور، امبیڈكرنگر، 1947ء=2026ء)

بقلم: مفتى محمد اجمل صاحب قاسمی، استاذ تفسير وادب قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد۔

📌 ( دراصل یہ تحریر اپنے ، اور اپنے بچوں اور عزیزوں کے لئے لکھی جارہی ہے ، تاکہ اس کے ذریعہ یادوں کے دیپ جلائے جائیں ،اور سینوں کے داغ تازہ رکھے جائیں ، زیر تذکرہ شخصیت ایک عالم دین کی ہے ، جو گمنام سہی، مگر صاحب علم و عمل ہے، اور لکھنے والا والے کو بھی علم سے نسبت ہے ،اس لیے امید ہے کہ عام قاری کے لیے بھی دلچسپی اور افادیت سے خالی نہ ہو گی )

داغ ہی داغ نظر آتے ہیں کس طرح قلب و جگر کو دیکھوں

نہ وہ محفل ہے، نہ وہ پروانے خاک اے شمع! سحر کو دیکھوں

جو اندیشہ دن گذرنے كے ساتھ ساتھ بڑھتا جارہا تھا، سامنے آہی گیا، جس حادثے كا تصور قلب كو بے چین اورروح كو مضطرب كردیتا تھا، وہ واقع ہوكر رہا، میرےمحبوب اورہردل عزیز والدگرامی قدر حضرت مولانا محمود الحسن قاسمی برہی عادل پور،ہنسور امبیڈكرنگر، یوپی، بروز دوشنبہ، بتاریخ 5/اكتوبر2026ء مطابق 22 /ربیع الثانی 1448ھ، صبح ساڑھے آٹھ بجے چلتے پھر تے ہنستے مسكراتے اچانک ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے، اناللہ واناالیہ راجعون۔

میں حسب معمول صبح کا دوسرا گھنٹہ پڑھا رہا تھا، تدریسی اوقات میں موبائل ساتھ نہیں رکھتا، اطلاع ملی کہ فورا گھر جائیے ، پچاس ساٹھ قدم کا فاصلہ طے کرنے میں دل میں دسیوں اندیشے گذرے، لیکن ذہن ابا کی طرف نہیں گیا، ابھی رات ہی ان سے گفتگو ہوئی، فون بھی انہوں نے ہی کیا تھا، اور حسب عادت ڈھیر ساری دعائیں دے کر گفتگو مکمل کی تھی، گھر پہنچا، خامشی چھائی تھی، چہرے سرخ اور آنکھیں اشکبار تھیں۔ کیا ہوا؟ جواب ندارد۔ بتاؤ کیا ہوا؟ دادا کا انتقال ہو گیا۔ کون دادا؟ اپنے دادا۔ ابا؟ جی۔ کس نے بتایا ؟ فلاں بھائی کا فون آیا تھا۔ اب نظروں کے سامنے اندھیراتھا، بجلی کی ایک رو تھی جو جسم کو بے جان کر گئی، ایک برق تپاں تھی جو شاخ نشیمن جلا گئی، غموں کا ایک طوفان تھا جس میں دل کی ناؤ ہچکولے لینے لگی۔ بچوں کے لیے اپنے آپ کو سنبھالا، کچھ کہنا ممکن نہ تھا، بس یہی کہا کہ فوراً سفر کی تیاری کرو، اور خود بھی گاڑی بلانے کی فکر میں لگ گیا، اور دعا و استغفار میں مصروف ہو گیا ۔اللہ تعالی ان كی مغفرت فرمائے، جوار رحمت میں جگہ دے، اپنا قرب خاص عطافرمائے، جنت الفردوس میں اعلٰی مقام سے نوازے، اورہمارے اوران كےتصور سے بڑھ كر اپنی شایانِ شان اجروثواب سے نوازے، آمین!

ظلمت كدے میں میرےشب غم كاجوش ہے

اک شمع تھی دلیل سحر، سوخموش ہے

وہ عمركی آٹھ دہائیاں پور ی كرنے كے باوجود نہایت صحت مند تھے، بے تكلف چلتے پھرتے ، سائیكل سے بازار چلے جاتے ، نمازیں كھڑے ہوكر پڑھتے ، بڑھاپے كی وجہ سے البتہ ضعف تھا، چند سالوں پہلے ایك سڑک حادثے كا شكار ہوگئے تھے، سرمیں چوٹ آئی تھی، جس كی وجہ سے یاداشت متاثر ہوگئی تھی، اوردن بدن تیزی سے اس میں گراوٹ آتی جارہی تھی، جس كی وجہ سے بہت متفكر اورپریشان رہتے تھے، وہ صبح اشراق اور ناشتے سے فارغ ہوكر پڑوس كے گاؤں ’’بھولے پور‘‘ میں ایک پرانے اہل تعلق كی عیادت كرنے جارہے تھے، راستے میں بے تكلف لوگوں سےملتے اورباتیں كرتے ہوئے گئے، ابھی كچھ دور گئے ہی تھے كہ سائكل سے لڑھک كر گرپڑے، پانچ سات منٹ میں ہی ان كے بھتیجے ڈاكٹر ابوالكلام صاحب پہنچ گئے، ان كےگھر سے كچھ ہی قدم كے فاصلے پر یہ حادثہ پیش آیاتھا، ڈاكٹر صاحب نے علاج كی كوشش شروع كی، لیكن روح قفس سے آزاد ہوچكی تھی۔

اب كیا ستائیں گی ہمیں دوراں كی گردشیں

ہم اب حدود سودوزیاں سےنكل گئے

ابا كا یہ حادثہ جہاں ہوا، وہاں گاؤں كے غیرمسلم لوگوں كے مكانات ہیں، انہیں بیچاروں نےجلدی سے لپک كر‏اٹھایا اوركسی چیزپر لٹایا، موقع پر موجود بعض غیر مسلم خواتین نے بتایا كہ بابا گرنے كے بعد كچھ نہیں بولے، صرف دوبار اللہ، اللہ كہا۔ یہ ذكر اٹھتے بیٹھتے والد صاحب كی زبان پر جاری رہتا، اللہ كے فضل سے وہی ان كی زندگی كا آخری بول بنا، اس خبر کو سن کر دل کو ایسی خنکی اور فرحت ملی جو نا قابل بیان ہے ، وہ بكثرت حسنِ خاتمہ كی دعا كرتے تھے، اورملنے جلنے والوں سے بھی اپنے لیے اسی دعا كی درخواست كرتے تھے، ان كی زبان كےیہ آخری مبارك بول ان شاء اللہ ان كے حق میں حسن خاتمہ كی بشارت ہیں، اللہ تعالی ہم سبھی كو حسن خاتمہ كی سعادت سے بہرہ ور فرمائے آمین!

والد صاحب جنازوں كی تاخیركوبہت ناپسند كرتے تھے، اورٹوكتے بھی رہتے تھے، ان كی تاكید تھی ان كی تدفین میں بس اتنا ہی وقت ركھا جائے جتنے میں قبرتیار ہوجائے، ان كی اولاد كے انتظار میں بھی جنازے میں اس سے زیادہ تاخیر نہ كی جائے، چنانچہ ان كی وصیت كے مطابق بعد نماز ظہر2:30 بچے ان كی تدفین عمل میں آئی، بڑے بھائی مولانا عبد القدوس صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی، اورعلماء، اہل مدارس، اورگاؤں كے علاوہ قرب وجوار كے لوگوں كی بڑی تعداد نماز جنازہ میں شریك ہوئی، میں مغرب تک گھر پہنچ سكتاتھا، دل بہت چاہا كہ نماز جنازہ میں شركت ہوجائے، مگر حكم شریعت كے احترام اوروالد صاحب كی ہدایت كے لحاظ میں مناسب یہی تھا‏كہ تدفین جلدی عمل میں آئے، میں جنازے میں شركت سے تومحروم رہا، لیكن جلدی تدفین باعثِ خیر ثابت ہوئی، عصر كے وقت تیز آندھی اوربارش شروع ہوئی، گاؤں میں تواس كا اثر كم رہا، مگر قرب وجوار میں زیادہ تھا، اگر تاخیر ہوتی، توباہر كے لوگوں كو بہت پریشانی كا سامنا كرنا پڑتا تھا۔ خیر ، منجانب اللہ جو بھی ہوا بہتر ہوا۔اس طرح اک عمركا سوز وساز اورایک فسانۂ حیات مزار میں دفن ہوگیا۔

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی كرے

سبزۂ نورستہ اس گھر كی نگہبانی كرے

مثل ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہوترا

نورسے معمور یہ خالی شبستاں ہوترا

اگلے دن فجر کی نماز کے بعد والد صاحب کی قبر پر حاضری دی، اعزاء واقارب میں پندرہ بیس لوگ پہلے سے ہی پہنچ چکے تھے ، اپنے کو سنبھالنا چاہا، مگر طبیعت بے اختیار ہو گئی، ابا کی لحد سامنے تھی، یقین تھا کہ ان کا وجود اب قبر کی امانت ہو چکا ہے ، مگر دل مانتانہ تھا، ایک معصوم ضدی بچے کی طرح اس کی ضد تھی کہ اُن کو بلاؤں، اُن سے باتیں کروں، ایسا لگتا تھا وہ ابھی بول پڑیں گے۔ کیا قبر پر مردوں سے گفتگو کی جاسکتی ہے ؟ یہ سوال سامنے نہ آیا ہوتا، تو میں بول ہی پڑتا۔ غم کے تھیڑے اٹھتے اور ایک دوسرے پر سر پٹکتے ، کھڑا نہ رہا جاسکا تو بیٹھ گیا، عزیز ایک ایک کر کے جاتے رہے ، جذبات کی رو کچھ تھم گئی ، تو دیر تک دعا و استغفار میں مصروف رہا، اور پھر بو جھل قدموں سے کچھ اس طرح کے خیالوں میں کھویا ہوا وہاں سے رخصت ہوا۔

زمزمے سے جس کے لذت گیر اب تک گوش ہے

کیا وہ آواز اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے ؟

کیا سچ ہے کہ اب اُن کو نہ میں دیکھ سکوں گا ؟

یا دیکھ رہا ہوں میں کوئی خواب گراں آج

جان کی طرح عزیز

وہ میرے دل کے بہت ہی قریب، اور جان کی طرح عزیز تھے۔ ماں کی ممتا، باپ کی شفقت، دادا دادی کا پیار، نانا نانی کا دلار جو بچے کو الگ الگ لوگوں سے ملتا ہے، وہ مجھے بھی ملا، اور بھرپور ملا؛ لیکن وہ ایک ہی شخصیت سے ملا، اور وہ تھے میرے والد گرامی قدر۔ دادا، دادی اور نانا میری پیدائش سے پہلے ہی رخصت ہو گئے۔ چار سال کا ہوا تھا تو نانی رخصت ہوگئیں، اور ان کے دوسال بعد والدہ کی جدائی عمر عزیز کی ساتویں بہار کو خزاں میں تبدیل کرگئی۔ اللہ سب کی مغفرت فرمائے، اور اپنے یہاں کا سکھ چین نصیب فرمائے، آمین۔

یادش بخیر!

میرے بہت ہی منظورِ نظر بڑے ابا جناب منظور الحسن صاحب رحمہ اللہ تھے، عجیب و غریب دلچسپ اور باغ و بہار شخصیت کے مالک۔ وہ لاولد تھے، ہم بھائی بہن ہی ان کی اولاد تھے۔ وہ خاص طور پر مجھے بے حد عزیز رکھتے تھے۔ گھر ہوں، کھیت کھلیان میں ہوں، باغ میں ہوں، پرندوں یا مچھلی کے شکار پر نکلے ہوں، بازار جا رہے ہوں، مسجد جا رہے ہوں، ہر وقت مجھے ساتھ لیے رہتے۔ اور اپنا یہ حال کہ ان کے ساتھ ہوتے ہوئے کھانے پینے اور ہر چیز سے بے خبر۔ ان کا بڑھا ہوا پیار و دلار اور شفقت و محبت ایسی تھی جو اکثر گھر اور باہر کے لوگوں میں تذکرے کا سبب بنتی، جب تک رہے نہال کیے رکھا۔ اُس وقت اُن سے جو لگاؤ تھا، وہ ابا حضور سے بھی نہیں تھا۔ اردو فارسی اچھی جانتے تھے، داستان سرائی اور قصہ گوئی میں بے نظیر، خط بہت نفیس اور پاکیزہ۔ میں نے ان سے فارسی کی کچھ کتابیں بھی پڑھی تھیں اور خوش نویسی بھی سیکھی تھی۔ جب میری عربی تعلیم شروع ہوئی اور عمر اس وقت بارہ تیرہ سال ہو گی، تو وہ بھی اللہ کے پیارے ہو گئے۔ اللہ غریق رحمت فرمائے، آمین!

فرض شناس باپ

اب لے دے کے ابا ہی ہمارے لیے سب کچھ تھے۔ وہ ایک باپ کی طرح ہمارے اوپر کڑی نظر رکھتے۔ بچے کھیل کود میں نماز سے غافل رہتے ہیں۔ گاؤں دیہات میں اس وقت باغوں میں آم، امرود، بیر، بیل، کٹہل اور کھیتوں میں گنے، چنے، مٹر پھلی، کھیرے ککڑی، خربوز تربوز بکثرت ہوتے تھے۔ بعض کھیتوں میں شکر قندی اور مونگ پھلی رہتی، دائیں بائیں کسی تالاب میں سنگھاڑے بھی ہوتے تھے۔ بچے کسی بھی باغ یا کھیت میں گھس کر کچھ بھی توڑ کر کھا لیتے تھے۔ ابا کو ہماری پڑھائی لکھائی کی طرف سے اطمینان تھا، اس لیے کھیل کود کی اجازت تھی؛ مگر ان کی طرف سے یہ واضح ہدایت تھی کہ نماز سے غفلت اور کسی کے باغ یا کھیت سے چوری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہیں اس کا شبہ بھی بعض مرتبہ اگر ہو گیا تو سخت تنبیہ کی۔

پڑوس کا محلہ ہندؤوں کا تھا، ان سے آپسی تعلقات اچھے تھے۔ ان کے یہاں شادیوں میں ناچ گانے ہوتے، اپنے محلے کے بچے بے تکلف تماشہ دیکھنے چلے جاتے۔ فلم بینی کا شوق بھی بچوں میں ہوتا تھا۔ والد صاحب ایسے موقعوں پر بڑی سخت نگرانی کرتے تھے۔ بھائیوں میں سے کوئی چھپ چھپا کر چلا ہی گیا تو چشم پوشی سے کام نہیں لیتے تھے، فوراً اٹھ کھڑے ہوتے اور واپس گھر لا کر سخت تنبیہ کرتے۔ ان کی تنبیہ عموماً زبانی ہی ہوتی تھی، لیکن ایسی ہوتی کہ لوگ پٹائی کو اس سے ہلکا سمجھتے تھے۔ والد صاحب کی برکت سے مجھے الحمد للہ ایسے تماشوں کا شوق نہ ہوا، اور میں ایسی تنبیہوں سے محفوظ رہا۔

مادرِ مہربان

وہ ہمارے لیے ایک مہربان ماں تھے۔ ہم شام کو کھیل کود اور دوڑ بھاگ کر گھر آتے تو دھول مٹی سے نہائے ہوتے تھے۔ وہ ہمارے ہاتھ پاؤں دھلاتے، گھر آتے ہی نیند حملہ آور ہوتی، وہ جلدی جلدی پنکھا جھل کر کھانا ٹھنڈا کرتے اور ہمیں کھلاتے، اور پھر فوراً گھر ہی عشاء اپنی موجودگی میں پڑھواتے۔ وہ اکثر ہمارے چارپائی بھی لگاتے، بڑی بہنیں اگر کسی کام میں ہوتیں تو بستر بھی خود ہی لگا دیتے۔ مچھر تنگ کرتے تو پنکھے بھی جھلتے، کبھی ہاتھ پاؤں پر مچھر بھگانے کی کریم (اوڈو ماس) ملتے۔ رات میں استنجے کا تقاضا ہم میں سے کسی کو ہو جائے تو وہی لے کر جاتے، پھر صبح فجر کے بعد ہمیں اسباق یاد کراتے، قاعدہ اور قرآن یاد کراتے، تختی لکھواتے۔

ہماری دو بڑی بہنیں ہیں، وہ ہم چھوٹے بھائی بہنوں کی خدمت بڑی محبت سے کرتی تھیں۔ بڑی بھابھی صاحبہ بھی آچکی تھیں، وہ بھی بڑی بہنوں کی طرح ہی ہمارا خیال رکھتی تھیں؛ لیکن ابا کو اس کا بھی خیال رہتا تھا کہ وقت سے پہلے ان سب پر کم عمری میں ہی بڑی ذمہ داریاں آ گئی ہیں، اس لیے ہم چھوٹے بھائی بہنوں کی جو خدمت وہ خود کر سکتے تھے، ان کی کوشش ہوتی کہ وہی کریں۔

ہماری بڑی بہن نے بتایا کہ والدہ جب تک حیات تھیں وہ بچوں کے ساتھ باوقار انداز میں رہتے تھے، بچے ان سے ڈرتے تھے، فضول باتیں اور فضول ضد نہیں کر سکتے تھے؛ لیکن جب والدہ رخصت ہو گئیں تو ان کے رویے ریشم میں تبدیل ہو گئے۔ میں اور مجھ سے بڑے بھائی حافظ عبدالرزاق صاحب ان سے ضد کر کر کے اپنی باتیں منواتے، اور میری ایک عادت ہر دم ان سے سوال کرنے کی تھی۔ ہر وقت کیوں ؟ اور کیسے ؟ کی تکرار سے گھر کے لوگ اکتا جاتے، مگر ابا کبھی اف نہیں کرتے تھے۔ ہماری ان جسارتوں کو دیکھتے ہوئے ہمارے بعض خیراندیش یہ بار بار کہتے تھے کہ لگتا ہے یہ دونوں چچا کی گود میں پل کر بگڑیں گے، اور چراغ تلے اندھیرا ہوگا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری چوں و چرا سے تنگ آ کر ہماری بڑی بہن ایک بار بول پڑیں: ”ابا، آپ اسے ڈانٹ کیوں نہیں دیتے؟ ہر وقت یہ آپ کو اپنی بکواس سے تنگ کیے رہتا ہے۔“ ابا آبدیدہ ہو گئے اور گلوگیر آواز میں کہنے لگے: ”ماں تھیں تو ڈانٹ دیا کرتے تھے، بچے ماں کے پاس چلے جاتے تھے؛ اب ڈانٹ دوں گا تو کس کے پاس جائیں گے؟“ ابا کے تحمل کی وجہ سے ہمارے نخرے کچھ زیادہ ہی ہو گئے تھے۔ بات بات میں ناراض، بات چیت بند، کھانا بند۔ ایک مرتبہ اسی طرح ناراض ہو کر گھر کے پیچھے کی طرف جا کر راکھ سے بھری ایک بوری پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ابا آئے اور منانے کے انداز میں کہنے لگے: ”چلو کھانا کھا لو، کیا چمار کے دولھے کی طرح بات بات پر روٹھ جاتے ہو؟ غصہ باقی رکھنے کے لیے سنجیدہ رہنا پڑتا ہے۔“ ”چمار کے دولہے“ پر مجھے بے اختیار اتنی ہنسی آئی کہ میں لوٹ پوٹ ہو گیا، اس طرح ہمارا مون برت نہ چاہتے ہوئے ٹوٹ گیا۔

شفیق بزرگ

گھر کی بڑی بوڑھیاں دادی اور نانی اس زمانے میں بچوں کو سونے سے پہلے قصے کہانیاں سناتی تھیں، بچوں کو اس کا انتظار ہوتا تھا۔ والد صاحب ہمیں اس لطف سے بھی محروم نہیں رکھتے تھے۔ شام کا کھانا کھانے کے بعد وہ لازماً ہمیں کبھی بچوں کی دلچسپی کے لطیفے اور قصے، اور کبھی سیرت رسول اور صحابہ کے واقعات، بزرگوں کی حکایات اور سبق آموز باتیں سناتے۔ بچوں کے لیے ”امنگ“ نامی اردو کا ایک دلچسپ اور مفید رسالہ نکلتا تھا، وہ ضرور لاتے، اور ہمیں اس کا شدت سے انتظار رہتا۔ دادی نانی کے بھوت پریت کے قصوں میں وہ بات کہاں ؟ جو والد صاحب کے سنائے ہوئے قصوں میں ہوتی تھی۔ اس وقت ابا کا تقریباً پورا خاندان ایک ہی گھر میں رہتا تھا، جس میں اندر مختصر سی دیوار کھڑی کر کے بٹوارہ کر لیا گیا تھا۔ ایک طرف صحن میں کوئی بولے تو دوسری طرف صحن میں آواز صاف سنائی دیتی تھی۔ ابا جب اسی طرح کی چیزیں سناتے تو ہر طرف سے بچوں اور عورتوں کے کان انہیں کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ ان قصوں اور حکایتوں نے بچپن میں ہی ہمارے دل میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، بزرگان دین، اور اکابر دیوبند کی محبت کے بیج بو دیے۔ بہت سے بزرگوں کے نام سے واقف ہوئے، ان کے حالات واقعات سے آشنا ہوئے جو بہت بعد میں جا کر ہمارے مطالعے میں آئے۔ اس طرح اہل اللہ کی محبت دل میں اسی وقت سے جاگزیں ہو گئی جب ہمیں محبت کا شعور بھی نہیں تھا:

اس دن سے ہی میں تیرا پرستارِ حسن ہوں

دل کو میرے شعورِ محبت بھی جب نہ تھا

أَتَانِيْ هَوَاهَا قَبْلَ اَنْ أَعْرِفَ الْهَوی

فَصَادَفَ قَلْبًا صَافِیًا فَتَمَكَنَّا

(ترجمہ: میں جانتا بھی نہ تھا کہ محبت کیا ہے؟ اس سے پہلے ہی میں ان کی محبت میں گرفتار ہو گیا، ہمارے دل کی تختی کوری اور سادہ تھی، یہ محبت اس کوری تختی پر آ کر بس نقش ہو گئی۔)

ابا جس دور کے آدمی تھے، اس دور کے لوگ اپنی اولاد کو لاڈ پیار کرتے، گود میں اٹھاتے اور باہر ٹہلاتے ہوئے طبیعت میں حجاب محسوس کرتے تھے، یہ کام دادا وغیرہ کیا کرتے تھے؛ لیکن ابا ہمیں باہر لے کر ٹہلانے نکلتے۔ آم کا موسم ہوتا تو باغ میں لے کر چلے جاتے، اس وقت مضبوط توانا تھے، پیڑ پر چڑھ کر آم توڑ لاتے، اور جیب سے چاقو نکال کر کاٹتے اور کھلاتے۔ کھیتوں میں جاتے، اگر مٹر پھلی اور ساگ سبزی کا زمانہ ہوتو کھیت کی سیر بھی خوب ہوتی۔ ہم ان کے پیچھے پیچھے دوڑتے، کبھی کام بگاڑتے، کبھی بناتے، پھر کچھ بڑے ہوئے تو معاون بھی بننے لگے۔

ہمارا پہلا مدرسہ

کہتے ہیں ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہے، ہمارا پہلا مدرسہ ہمارے ابا تھے۔ مكتب سے ہمیں اتنا خوف آتا تھا کہ مكتب کے مولوی صاحب کی شکل دیکھتے ہی ہم پاؤں سرپر رکھ کر بھاگتے تھے، اور چھپ جاتے تھے۔ وہ عموما ظہر کی نماز پڑھنے گاؤں کی مسجد آتے تھے، جب تک پوری طرح یہ اطمینان نہ ہو جائے کہ مولوی صاحب چلے گئے ہیں، ہم کسی صورت باہر نہ آسکتے تھے۔ ابا نے ہمیں اردو کی پہلی کتاب ابررحمت، اور یسرنا القرآن نامی رسالہ (جو نورانی قاعدے کی جگہ پڑھایا جاتا تھا) شروع کرایا، اور ہمیں آگے بڑھاتے رہے۔ دینی تعلیم کا رسالہ کئی حصے پڑھایا، ہم غالبا پارہ پڑھنے لگے تو ہمیں وہ مكتب لے گئے۔ مولوی صاحب کی موجودگی میں کہنے لگے: ”مولوی صاحب تمہیں ماریں گے نہیں ۔“ کئی دن تک وہ اس طرح مكتب لے گئے، پھر ڈر اور خوف کے سبب جن مولوی صاحب کی ہم صورت نہیں دیکھ سکتے تھے، وہ اتنا ہی ہمیں محبوب ہوگئے (اللہ تعالی عافیت کے ساتھ عمرمیں برکت عطافرمائے)۔ مكتب جانے کے بعد ابا کی حیثیت ٹیوشن ٹیچر کی ہوگئی؛ وہ صبح ہمیں پہلے قرآن اور پھر دوسری کتابوں کا سبق یاد کراتے، تختیاں لکھواتے، سارے ہوم ورک مکمل کراتے۔ مكتب کی پڑھائی کے علاوہ گھر پر والد صاحب کی توجہ کی وجہ سے اکثر میں ہی اپنی کلاس میں فرسٹ آتا تھا۔

بچپن کی رعایت کا ایک انداز یہ بھی

میں پنجم پرائمری مکمل کر چکا تھا، تو آگے مدرسے کی تعلیم کے لیے گھر سے باہر جانا تھا۔ اتفاق یہ کہ اس سال باغ میں آم خوب آئے تھے۔ ابا نے کہا: ابھی تمہیں مدرسہ نہیں بھیجیں گے، آم کھالو؛ جب آم ختم ہو جائیں گے تو مدرسہ بھیجیں گے۔ البتہ اتنا کام ہمارے ذمہ لگایا کہ جب تک گھر رہو بڑے ابا سے فارسی کی پہلی پڑھتے رہو۔ بچوں کے جذبات کی ایسی بھی رعایتیں ہوتی ہیں؟ ہمارے تو مزے آگئے۔ بڑے ابا ہماری سب سے محبوب شخصیت تھے اور ہم ان کو سب سے زیادہ محبوب؛ ویسے بھی ہم ان ہی کے پاس رہتے تھے، صبح ہی چارپائی باغ میں پہنچ جاتی۔ ہم دونوں دن بھر باغ میں رہتے، اور ذوق و شوق سے فارسی کا سبق ہوتا۔ یوں بڑے ابا سے دو تین مہینے پڑھنے کا موقع مل گیا؛ آم بھی خوب کھائے گئے اور پڑھائی بھی ہوتی رہی۔ اس طرح ”آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام“ والی کہاوت خوب صادق آئی۔

 کیا کچھ نہیں سکھایا

میری خواہش تھی کہ حفظ قرآن کروں۔ ہمارے بڑے بھائی جناب مولانا عبدالقدوس صاحب زید مجدہم کو والد صاحب نے سیدھے عالمیت پڑھایا، وہ عالم ہوگئے۔ ان کے بعد کے منجھلے دو بھائی جناب حافظ عبدالغفار و عبدالرزاق صاحبان کو حفظ کرایا، ان دونوں نے حفظ تو مکمل کیا، لیکن آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ اس لیے ابا اس تجربے کو کسی قیمت پر دہرانے کو آمادہ نہ ہوئے؛ وہ ان دنوں مدرسہ نورالاسلام التفات گنج میں پڑھاتے تھے، اور صدر مدرس بھی تھے۔ اپنے ساتھ لے گئے، ہمیں اپنے کمرے میں اپنے ساتھ رکھا، اور جماعت سے الگ رکھ کر پڑھانا شروع کیا۔ کوئی ایک سوا سال پڑھایا ہوگا کہ وہاں انتظامیہ سے ان کے کچھ مسائل ہوگئے، جس کی وجہ سے وہ مجھے وہاں سے ہٹانے پر مجبور ہوگئے؛ ورنہ ان کا ارادہ دو سال مکمل خود ہی پڑھانے کا تھا۔ کاش! وہ پورا ہوگیا ہوتا۔ اس مرحلے میں مدرسہ کی تبدیلی کی وجہ سے بعض اہم بنیادی کتابیں ناقص رہ گئیں، یا سرے سے چھوٹ گئیں، جس کی تلافی صحیح معنوں میں اب تک نہیں ہو پائی۔

التفات گنج میں چوبیس گھٹنے ابا کی معیت حاصل رہتی؛ عصر بعد کی تفریح میں بھی ساتھ رکھتے۔ اس دوران تعلیم کے علاوہ تربیت کی لائن سے جو چیزیں مدرسہ میں ایک بچے کے لیے جاننا ضروری ہوتا ہے، وہ سب سکھائیں: کپڑے دھلنا، بستر بچھانا، کمرے کی صفائی کرنا، برتن دھلنا، اور کھانے بعد انگلیاں اور برتن کیسے چاٹ کر صاف کیے جائیں، نہانے میں صابن کیسے استعمال کریں ؟ جس سے بدن خوب صاف ہو جائے۔ انہوں نے کیا کیا سکھایا، اس کو سمجھنے کے لیے یہ واقعہ یاد کریں: حضرت سلمان فاؓرسی کہتے ہیں: ”مکہ کے مشرک صحابہ کا مذاق بناتے ہوئے کہنے لگے، یہ تمہارا نبی تم ہر چیز سکھاتا ہے؟ یہاں تک کہ ہگنے موتنے کا طریقہ بھی؟“ صحابہ کا جواب تھا: ”بالکل! (جو چیزیں سکھانے کی ہیں وہ تو سکھائی ہی جائیں گی) ہاں! ہمارے پیغمبر نے ہمیں سکھایا کہ ہم استنجے میں دایاں ہاتھ نہ استعمال کریں، ضرورت پوری کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کریں، گوبر اور ہڈی کے ٹکڑوں سے گندگی کی جگہ کو صاف نہ کریں“ (صحیح مسلم: 262) ۔ بلامبالغہ عرض ہے کہ ابا نے ہمیں یہ اور اس جیسی چیزیں سکھائیں۔

محبتوں کی گھنی چھاؤں میں

ابا کی چوطرفہ عنایتوں نے میرے پورے وجود پر شفقتوں کی وہ شبنم افشانی کی اور محبتوں کی ایسی برکھا برسائی، اور ہر طرف سے وہ ہماری زندگی میں ایسے داخل تھے کہ یوں محسوس ہوتا جیسے ان کی شخصیت میرے وجود میں سما سی گئی۔ ابا کو بھی مجھ سے ایسا ہی تعلق تھا؛ اللہ نے ہم میں عجیب ذہنی آہنگی، مزاجی مناسبت اور باہمی انس پیدا کر دیا تھا۔ آج تک معاملہ یہی رہا کہ ابا ہوں تو مجھے ان کے بغیر قرار نہیں، اور میں ہوں تو ان کو میرے بغیر چین نہیں۔ میں گھر جاتا تو ہم دونوں دن کا اکثر حصہ ساتھ گذراتے؛ ساتھ کھانا کھاتے، ساتھ مسجد جاتے، باہر کہیں بیٹھتے تو عموماً میں وہ ساتھ ہوتے، کبھی بازار بھی ساتھ چلے جاتے۔ گھر میں آس پاس ایک چارپائی پر وہ اور ایک پر میں لیٹ کر ہر طرح کی علمی، سیاسی، تاریخی، روزمرہ کے مسائل، حالات و واقعات کے متعلق لمبی لمبی باتیں کرتے۔ ہمارے بڑے بھائی صاحب ہوتے تو رونق اور بڑھ جاتی؛ ان کا مزاج تھا کہ وہ جو کچھ بھی حال فی الحال میں پڑھے ہوتے، آتے ہی اس کی روداد اور حاصل مطالعہ سنا دیتے، جس سے علمی مذاکرے کے لیے کوئی نہ کوئی موضوع ہاتھ آجاتا۔ ابا کا مطالعہ زبردست، معلومات وسیع تھیں؛ مفید باتیں حاصل ہوتیں، عجیب و غریب نكتے سامنے آتے۔ بہت سی دفعہ بھائی صاحب کو ابا کی باتوں سے اختلاف بھی ہوتا، شروع میں مجھے بھی ہوتا تھا؛ لیکن میں نے بہت جلد محسوس کر لیا کہ وہ جو کہتے ہیں، اس کا عموماً کوئی نہ کوئی ماخذ ضرور ہوتا ہے، اور بعد میں ڈھونڈنے پر وہ مل بھی جاتا۔ اس لیے جب کوئی ایسی بات کہتے جو مجھے زیادہ سمجھ میں نہیں آتی، تو میں توقف کرتا، اور اس کے بارے میں غور و فکر کرتا۔ بھائی صاحب اکثر کہتے اور بالکل بجا کہتے کہ ہم تینوں جس طرح کے علمی مذاکرے گھر میں کرتے ہیں، ایسے مفید علمی مذاکرے تو مدرسوں میں بھی میسر نہیں آتے۔

میں جب گھر پر ہوتا ہوں تو صبح کو کچھ دیر احباب کے ساتھ گذارتا ہوں، اور شام کو اکثر ان کے ساتھ چائے نوشی بھی ہو جاتی ہے۔ ابا اندازہ کر لیتے کہ آج کس طرف كو نكلاہوگا، اور پھر ہم دیکھتے کہ ان کی پدرانہ محبت انہیں كشاں كشاں وہیں لے کر چلی آتی۔ آہستہ آہستہ وہ ہماری اس بزم کے بھی ساتھی ہوگئے، اور ہمارے احباب بھی ان سے مانوس ہوگئے۔ ان میں اللہ تعالی نے ایسی سمجھداری دی تھی کہ وہ اپنے وجود سے مجلس بوجھل نہیں ہونے دیتے؛ اپنے وقار اور احترام کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے مجلس کی دلچسپی کی باتیں ہی کرتے۔ ان کے پاس معلومات کا ذخیرہ تھا، باتوں میں ایسی دلکشی تھی کہ ہر کوئی گوش بر آواز رہتا۔ ادھر میں یہ کرنے لگا کہ مجھے اگر کہیں جانا ہوتا تو پہلے کہہ دیتا کہ آج فلاں جگہ جانا ہے، جی چاہے تو چلیں؛ عموماً وہ ساتھ ہو جاتے۔

ابا کی ذات میں ایسی دلکشی تھی کہ میں گھر جاتا تو بہت کم ہی کہیں آتا جاتا؛ بہنوں کو عموماً گھر ہی بلا لیتا، اس طرح ملاقات بھی ہوجاتی، اور گھر کی رونق بھی بڑھ جاتی۔ چھٹی کا جو حصہ گھر سے باہر گذرتا، ایسا لگتا کہ وہ ضائع ہو گیا؛ دوست و احباب اور دوسرے اہل تعلق اپنے یہاں بلاتے، اصرار کرتے، عموماً ان کو بھی آمادہ کر کے گھر ہی پر مدعو کر لیتا۔ ابا کو اہل علم کی آمد سے بڑی مسرت ہوتی تھی؛ ان کو علمی گفتگو کا موقع ہاتھ آجاتا، اچھے مخاطب مل جاتے؛ اس طرح ہمارا وقت بھی بچتا اور ہم سبھی خوش وقت اور خوش کام بھی ہو لیتے۔

یہ آنسو سنبھلتے نہیں ہیں سنبھالے

والدہ کے انتقال کے وقت میں چھوٹا تھا، لیکن خوب یاد ہے کہ ان کے رخصت ہو جانے کے بعد دل میں یہ تمنا بڑی شدت سے ابھرتی کہ کاش! والدہ ابھی چلی آتیں، تو ہم کتنا خوش ہوتے؛ وہ مل جاتیں تو ہم ان سے لپٹ جاتے۔ ہم عمر بچے جب اپنی ماؤں کو اماں کہہ کر پکارتے تو دل پر چوٹ لگتی، اور یہ آرزو اس وقت دل میں طوفان برپا کر دیتی۔ والد کی وفات پر عمر چالیس سے متجاوز ہو چلی ہے؛ عمر کی سنجیدگی نے ایسی بھولی اور معصوم تمناؤں کے لیے گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ ان کی وفات کی خبر مجھ پر بجلی بن کر گری ہے، جس سے میرا وجود ٹوٹ کر بکھر گیا ہے؛ میرے ضبط کے بندھن رہ رہ کر ٹوٹ جاتے ہیں، میں چھوٹے بچوں کی طرح پھوٹ کر رویا ہوں۔ مجھے اپنا دن تاریک اور اپنی زندگی بے کیف محسوس ہوئی ہے؛ مجھے سر پر دھوپ کی تپش کا احساس ہو رہا ہے، اور پاؤں کے نیچے زمین گیلی محسوس ہو رہی ہے۔ میرے گرد اللہ کے فضل سے محبت اور ایثار کرنے والے بھائیوں اور عزیزوں کا ایک خوبصورت بڑا ہالہ ہے، لیکن اس کے باوجود تنہا اور بے سہارا ہونے کا احساس بے چین کر رہا ہے۔ ابا کے نالۂ نیم شبی، آہ سحرگاہی اور خشوع سے لبریز دعاؤں نے میرے گرد ایک حفاظتی حصار بنا رکھا تھا؛ مجھے لگتا ہے کہ وہ حصار اب ٹوٹ چکا ہے، میرا اطمینان رخصت ہو چکا ہے؛ گھر سے باہر نکلتا ہوں یا بچے اسکول جاتے ہیں تو انجانا خوف سا محسوس ہوتا ہے۔

خاک ِمرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا

اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا

 میرے معبود تیرا ہی آسرا ہے ..

اٹھتے بیٹھتے یہ جملہ والد صاحب کی زبان سے بکثرت ادا ہوتا تھا۔ میرے معبود! تیرا یہ گنہگار بندہ بھی تیرے حضور یہ عرض کرتا ہے کہ بس تیرا ہی سہارا ہے، تجھ سے ہی آسرا ہے؛ تو ہی خالق و مالک ہے، تو ہی کارساز اور پالنے والا ہے۔ آدمی کے ماں باپ اور اس کی پرورش کے دوسرے سارے ذرائع تجھ سے ہیں، سب تیرے محتاج ہیں، مگر تیری ربوبیت کسی ذریعہ کی محتاج نہیں ہے۔ ہمارا وجود، ہمارے اہل و عیال اور ہمارا سب کچھ تیری ملکیت ہے؛ تو نے جو لیا، مالک وہ تیرا ہی تھا، تجھے حق تھا کہ تو اسے لے لے۔ ہم دکھی ضرور ہیں، لیکن دل سے اس پر راضی ہیں، اور جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے وہ تیرا ہی فضل و کرم، اور تیری ہی عطا ہے؛ ہم اس پر تیرے شکر گذار ہیں۔ مولا! والد کا وجود باوجود ہمارے اوپر تیرا خاص فضل تھا؛ مالک! کس زبان سے تیرا شکریہ ادا کروں کہ تو نے انہیں لمبی عمر عطا کی، اور ہمیں دیر تک ان کی شفقت کی لذت بخش خنک چھاؤں میں رہنے کا موقع عنایت فرمایا؛ اس کرم پر ہمارا پورا وجود سراپا تیرا شکر ہے۔

مگر مالک! تجھ ہی سے اپنے اس درد کا اظہار ہے کہ اب جب کہ وہ ہاتھ نہیں رہے جو صبح و شام تیرے حضور ہمارے لیے اٹھتے تھے، وہ ہونٹ خاموش ہو گئے جو تجھ سے ہمارے لیے التجا کرتے تھے، تو مولا! اب یہ اندیشہ دل کو کھائے جا رہا ہے کہ کہیں تیرا فضل بھی نہ روٹھ جائے، کہیں تیرے لطف و کرم میں کمی نہ ہو جائے، کہیں وہ حفاظت اور توفیق نہ اٹھ جائے جو ابا کی دعاؤں کے سبب ہماری طرف متوجہ رہتی تھی۔ مولانا! ہم وہی کہتے ہیں جو تیرے نبی مرنے والے پر کہتے تھے کہ اے مالک! جانے والے کی مغفرت فرما، انھیں اپنی رحمتوں کی چادر میں ڈھانپ لے، اور ان کے چلے جانے کے بعد نہ تو ہمیں ان کے اجر و ثواب اور ان کی برکتوں سے محروم فرما، اور نہ ہی فتنوں اور گمراہیوں میں مبتلا کر: ”اَللّهُمَّ لاَ تَحْرُمْنَا أجْرَه، وَلَا تُضِلَّنا بَعْدَہ“، وفي بعض الروایات: ”وَلاتَفْتِنَّا بَعْدَہ“ (أبوداود: 3201)۔ مالک! ہمیں بھی اپنے والد کی خوبیوں اور پاکیزہ صفات کا وارث بنا، اور جس طرح اپنی یاد، ذکر و تلاوت اورعاؤں سے انہیں بڑا حصہ عطا فرمایا تھا، اپنے فضل سے ہمیں بھی عطا فرما۔

جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply