hamare masayel

نکاح میں فاسق لوگوں کی گواہی

  • Post author:
  • Post published:
  • Post category:نکاح
  • Post comments:0 Comments
  • Post last modified:
  • Reading time:1 min read

(سلسلہ نمبر: 796)

نکاح میں فاسق لوگوں کی گواہی

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک نکاح ہوا اور تمام گواہ فاسق لوگ تھے، تو یہ نکاح شرعاً درست ہوا یا نہیں؟

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب: مذکورہ بالا نکاح شرعاً صحیح ہے، کیونکہ نکاح کے تمام گواہ فاسق ہوں تو بھی نکاح درست ہوجاتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ نکاح کے گواہ دیندار لوگ ہوں۔

الدلائل

وشرط حضور شاهدین …… ولو فاسقين، الخ. (رد المحتار: 4/ 87-92، زكريا).

وأما عدالة الشاهد فليست بشرط لانعقاد النكاح عندنا فينعقد بحضور الفاسفين. (بدائع الصنائع: 2/ 53، زكريا).

أن كل من يصلح ولياً أو مزوجاً لنفسه بنفسه يصلح شاهداً في النكاح، كالأعمى والمحدود في القذف والأخرس والمغفل والسكران إذا كان يعقل النكاح. (الفتاوى التاتارخانية: 4/ 36).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

24- 5- 1445ھ 9-12- 2023م السبت


🧰 آپ کی دینی زندگی کے لیے مفید اسلامی ٹولز


اپنی دینی زندگی کو مزید آسان بنائیں! زکوٰۃ، وراثت اور عدت کا حساب لگائیں، قرآن و حدیث کی تلاش کریں، روزمرہ کی دعائیں اور اذکار پڑھیں، نماز کے اوقات اور قبلہ کی سمت معلوم کریں، اور دیگر مفید اسلامی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ تمام ضروری آن لائن ٹولز اور دینی وسائل آپ کے لیے ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔


✨ اسلامی ٹولز ملاحظہ کریں

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply