Azadi india

یومِ آزادیِ ہند، ہندوستان كى آزادى پر ايك مختصر اور جامع تقرير

یومِ آزادیِ ہند، ہندوستان كى آزادى پر ايك مختصر اور جامع تقرير

بقلم: محمد ہاشم بستوى

اے وطن تجھ پہ قرباں مری جان و تن

سارے دیسوں سے نیارا ہے میرا وطن

محترم صدرِ محفل، معزز اساتذہ کرام، مکرم مہمانانِ گرامی اور میرے عزیز ساتھیو!

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حاضرين كرام! آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں! آج کی صبح اپنے دامن میں ایک تاریخ، ایک داستان، ایک انقلاب اور ایک عہد لے کر آئی ہے۔ آج وہ دن ہے جب غلامی کی طویل شب نے آزادی کی تابناک صبح کے سامنے سر جھکایا تھا، اور اس سرزمین نے اپنی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا تھا۔ مگر سوال یہ ہے: کیا آزادی صرف جشن کا نام ہے؟ کیا یہ صرف پرچم لہرانے، ترانے گانے اور نعرے بلند کرنے کا نام ہے؟

نہیں! نہیں! نہیں!

آزادی ہماری قربانیوں کا ثمر ہے، ہماری جدوجہد کا حاصل ہے، ہمارے پختہ عزم کی فتح ہے، اور ذمہ داری کی ابتدا ہے۔ اس آزادی کے پیچھے نہ جانے کتنی ماؤں کی دعائیں، کتنے گھروں کے اجڑے چراغ، کتنے نوجوانوں کی جوانیاں اور کتنے ہی جاں نثاروں کا لہو شامل ہے۔ اس حقیقت کو فیض احمد فیض نے یوں بیان کیا ہے:

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

پس آج اگر یہ جشن کا دن ہے تو یہ شکر اور احسان مندی کا دن بھی ہے، وطن کے سپوتوں اور جانثاروں کی یاد کا دن ہے، آزادی کے سر فروشوں اور ان کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے:

عزیز ساتھیو! وطن صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں! یہ ہماری یادوں، خوابوں، جذبات اور شناخت کا نام ہے۔ یہ وہ گلیاں ہیں جہاں ہمارا بچپن گزرا، یہ وہ فضا ہے جس میں ہم نے سانس لی، یہ وہ سرزمین ہے جس سے ہماری محبت کا رشتہ نسلوں سے جڑا ہے، یہ وہ چمن ہے جس کو ہمارے اسلاف نے خونِ جگر سے سینچا ہے، یہ وہ گلشن ہے جس کی آبیاری ہمارے آباء و اجداد نے کی ہے۔

بہار اب جو گلشن میں آئی ہوئی ہے

یہ سب پودا نہیں کی لگائی ہوئی ہے

محترم حاضرین! ہندوستان کی اصل قوت اس کی گوناگونی، رنگارنگی، رواداری اور باہمی اخوت میں ہے۔ مختلف زبانیں، تہذیبیں اور مذاہب اس گلشن کے جدا جدا پھول ہیں۔ ہمیں اختلاف کو دشمنی، تنوع کو کمزوری اور آزادی کو بے راہ روی نہیں بننے دینا ہے؛ بلکہ محبت، احترام، اتحاد اور امن کو اپنی طاقت بنانا ہے:

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں، ہم وطن ہیں، ہندوستاں ہمارا

میرے عزیز ساتھیو! آج ہم قربانیوں کو یاد کر رہے ہیں، مگر ایک سوال ہم سے بھی ہے: کیا ہم اس آزادی کے حقیقی وارث ہیں؟ وارث صرف وہ نہیں جو میراث حاصل کرے؛ وارث وہ ہے جو میراث کی حفاظت بھی کرے۔ آزادی ہمیں ملی ہے، اب اسے مضبوط رکھنا ہمارا فرض ہے۔ طالب علم علم و ہنر حاصل کرے، استاد کردار سازی کرے، تاجر دیانت کو شعار بنائے، ملازم فرض شناسی اختیار کرے اور ہر شہری قانون، امن اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرے۔

کیونکہ: وطن صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں رہتا؛ وطن اپنے شہریوں کے کردار سے محفوظ رہتا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

لہٰذا سوال یہ نہیں کہ وطن نے ہمیں کیا دیا؟ سوال یہ ہے کہ ہم نے وطن کو کیا دیا، اور آئندہ کیا دینے والے ہیں؟

میرے نوجوان ساتھیو! آپ کے ہاتھ میں آج کتاب ہے تو کل قیادت ہوگی؛ آج قلم ہے تو کل تاریخ لکھی جائے گی۔ آپ کا علم، آپ کی محنت، آپ کی دیانت اور آپ کا کردار ہی آنے والے ہندوستان کی صورت گری کرے گا۔ اس لیے یہ وطن ہم سے صرف نعرہ نہیں، کردار مانگتا ہے؛ صرف دعویٰ نہیں، ثبوت مانگتا ہے؛ صرف جشن نہیں، تعمیر مانگتا ہے۔

آئیے! آج اس پرچم کے سائے میں عہد کریں کہ ہم علم کو اپنا ہتھیار، محنت کو اپنا شعار، دیانت کو اپنا کردار، اتحاد کو اپنی طاقت اور خدمتِ وطن کو اپنا مقصد بنائیں گے۔ ہم نفرت کے بجائے محبت، انتشار کے بجائے اتحاد، مایوسی کے بجائے امید اور بے عملی کے بجائے جدوجہد کا راستہ اختیار کریں گے۔

آج کا ہمارا کردار ہی کل کی تاریخ بنے گا۔ آئیے! آزادی کا جشن صرف پرچم لہرا کر نہیں، بلکہ اپنے کردار کو بلند کر کے منائیں۔

یہ آزادی سلامت رہے! یہ وطن آباد و شاداب رہے! اس کی عزت، عظمت اور سر بلندی ہمیشہ قائم رہے!

ہندوستان زندہ باد!

ہندوستان پائندہ باد!

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply