Img Quranic Verses

Quranic Verses With Urdu Translation

Share This
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

حضرت موسی اور حضرت خضر علیہما السلام کا دل چسپ قصہ

وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا (60) فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا (61) فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا (62) قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا (63) قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا (64) فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا (65) قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (66) قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (67) وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا (68) قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا (69) قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا (70) فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا (71) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (72) قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا (73) فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا (74) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (75) قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا (76) فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا (77) قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا (78) أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا (79) وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا (80) فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا (81) وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا (82) [الكهف: 60-82]

مذکورہ آیات کا پس مظر

اس آیت کے پس منظر میں یہ کہا جاتا ہے کہ: ایک بار بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے سوال کیا کہ اس دنیا میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسی علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں ہی اس وقت سب سے بڑا عالم ہوں، چونکہ حضرت موسی علیہ السلام اللہ کے نبی تھے، اور ایک نبی کو اللہ تعالی کی طرف سے وہ تمام علوم سکھائے جاتے ہیں جن کی اللہ کے بندوں کو ضرورت ہوتی ہے، اس لیے موسی علیہ السلام نے اپنی صواب دید پر جواب دے دیا کہ: میں ہی سب سے بڑا عالم ہوں، لیکن اللہ تعالی نے وحی بھیج کر حضرت موسی علیہ السلام کی تنبیہ کی، اور بتایا کہ اے موسی تم سے بڑا عالم میرا وہ بندہ ہے جو دو دریا کے ملنے کی جگہ( سنگم) کے پاس رہتا ہے۔

 

حضرت موسی علیہ السلام کے دل میں اس بندے سے ملنے کاشوق پیدا ہوا، اور وہ سوچنے لگے کہ آخر وہ کون بندہ ہے جو مجھ سے بھی زیادہ جانکار ہے، حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے پوچھا اے میرے پروردگار! وہ بندہ مجھے کس سنگم پر ملے گا ؟ اللہ تعالی نے جواب دیا کہ تم اپنی زنبیل میں ایک مچھلی لے لو، اور سمندر کے کنارے کنارے چلتے رہو جہاں پر وہ مچھلی نکل کر پانی میں چلی جا ئے گی میرا وہ بندہ تم کو وہیں پر ملے گا۔ چونکہ حضرت موسی علیہ السلام کو اس بندے سے ملنے کا شوق تھا ہی اس لیے فورا اپنے ایک نوجوان شاگرد اور خادم یوشع بن نون اور اللہ تعالی کی ہدایت کے مطابق ایک مچھلی کو ساتھ میں لے کر اس بندے کی تلاش میں نکل پڑے، آگے آیات میں اسی قصہ کی طرف اشارہ ہے، اب ہم آپ کے سامنے ان آیات کا با محاورہ ترجمہ پیش کر رہے ہیں :

مذکورہ آیات کا با محاورہ ترجمہ

اور جب حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے نوجوان شاگرد یوشع بن نون سے کہا: میں مسلسل سفر کرتا رہوں گا حتی کہ میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ یعنی سنگم پر یہونچ جاؤں چاہے مجھے اس کے لیے صدیوں تک سفر کرنا پڑے۔

تو جب وہ دونوں سنگم کے پاس پہونچے تو اپنی مچھلی کو ساتھ لے جانابھول گئے، اور مچھلی چپکے سے سمندر میں چلی گئی۔

جب وہ دونوں چلتے چلتے سنگم سے بہت آگے چلے گئے، اور دوپہر دھل گئی تو حضرت موسی نے اپنے نوجوان خادم سے کہا : لاؤ کھانا کھا لیں ، یقیناًاس سفر سے ہم بہت تھک گئے ہیں۔

اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم کہ جس وقت ہم چٹان پر آرام کر رہے تھے، میں مچھلی کے بارے میں آپ سے بتانا بھول گیا تھا، مچھلی عجیب طریقے سے سمندر میں راستہ بنا کر چلی گئی تھی، اور یقیناًشیطان ہی نے مجھے بھلایا تھا تاکہ ہم مزید سفر میں پریشان ہوں۔

حضرت موسی علیہ السلام نے کہا: برخوردار! وہ تو وہی جگہ تھی جہاں پر ہمیں اللہ نے اس نیک بندے سے ملاقات کے بارے میں بتایا تھا، وہ دونوں اپنے نشاناتِ قدم کو تلاش کرتے ہوئے واپس لوٹے۔

جب وہ دونوں دوبارہ سنگم پر پہونچے تو وہاں پر ہمارے اس نیک بندے یعنی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جس کو ہم نے اپنی طرف سے خاص رحمت عطا کی تھی ، اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا جس کو علمِ لدنی اور علمِ باطن کہا جاتا ہے، یہ بڑا عجیب علم ہوتا ہے ، اس علم کو جاننے والا اللہ تعالی کی طرف سے سکھائی ہوئی غیب کی باتوں تو جانتا ہے، اس علم کی رو سے بظاہر کوئی کام غلط ہوتا ہے، دیکھنے والا اس کے فاعل کو برا بھلا بھی کہتا ہے ، اس پر نکیر کرتا ہے، لیکن مآل کے اعتبار سے وہ عین شریعت کے مطابق ہوتا ہے، اس طرح کی نکیر کی بات حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ بھی پیش آئی تھی جبسا کہ اگلی آیات سے معلوم ہو رہا ہے۔

حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت خضر سے کہا : میں اللہ تعالی کے حکم کے مطابق آپ کوتلاش کرتے کرتے یہاں آیا ہوں، اور آپ کی ہمنشینی میں رہ کر کچھ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

حضرت خضر نے جواب دیا: مجھے کوئی اعتراض نہیں ، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ میرے بہت سے افعال پر صبر نہ کرنے کی وجہ سے زیادہ دن نہیں ٹک سکتے۔ پھر جس چیز کا آپ کو تجربہ اور علم نہیں ہے، اور جو چیز بظاہر خلافِ شرع ہو بھلا آپ اس کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔

حضرت موسی علیہ السلام نے جواب دیا: ان شاء اللہ میں آپ کے سارے کاموں پر صبر کرنے کی کوشش کروں گا ، اور آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔

حضرت خضر جواب دیا: اگر یہ بات ہے تو آپ میرے ساتھ رہ مجھ سے کچھ علم سیکھ سکتے ہیں، لیکن میری ایک شرط ہے کہ جب تک میں خود ہی کسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں آپ مجھ کو نہیں ٹوکیں گے، اور نہ ہی اس کے بارے میں مجھ سے سوال کریں گے، حضرت موسی نے کہا: ٹھیک ہے۔

اس معاہدہ کے بعد دونوں چل پڑے ، اور ایک کشتی پر سوار ہوگئے ، وہ بندہ کشتی پر سوار ہوتے ہی کشتی کے کچھ تختوں کو توڑ دیا، کشتی کے تختوں کو توڑنا بظاہر یہ کام غلط تھا، اس لیے موسی علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا اور فوراً ٹوک پڑے کہ بھائی تو نے یہ کیا کشتی کو توڑ کر کشتی والوں کو ڈبانا چاہتا ہے ، یقیناًیہ بہت بری بات ہے۔

اس بندے نے کہا: اے موسی! کیامیں نے آپ سے نہیں کہا تھا آپ میرے کاموں پر صبر نہیں کر سکتے۔

حضرت موسی نے کہا: جناب معاف کیجئے میں بھول گیا تھااب دوبارہ آپ کو نہیں ٹوکوں گا۔

خیر دونوں اور آگے بڑھے راستے میں ان کو ایک بچہ ملا حضرت خضرنے اس بچے کو قتل کر دیا ، موسی علیہ السلام کو برداشت نہ ہوا فوراً ٹوک پڑے کہ تو نے ایک معصوم بچے کو ناحق قتل کر دیا یہ انتہائی قبیح اور نا پسندیدہ کام ہے۔

حضرت خضرنے جواب دیا: میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ صبر کی استطاعت نہیں رکھ سکیں گے۔

حضرت موسی نے کہا: مجھے ایک موقع اور دیجئے اگر اس کے بعد میں آپ سے کوئی سوال پوچھوں ، یا ٹوکوں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رہنے دینا، یقیناًآپ میری طرف سے ہر طرح کا جواز پا چکے ہیں۔

حضرت خضر نے کہا ٹھیک ہے، پھر وہ دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہونچے، وہ بھوک سے نڈھال ہو چکے تھے، گاؤں والوں سے کھانا مانگا، لیکن انھوں نے ان کو اجنبی سمجھ کر ان کی میزبانی سے انکار کر دیا، گاؤں میں چلتے چلتے حضرت خضر نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرنے کے قریب تھی، انھوں نے اس دیوار کو سیدھا کر دیا، حضرت موسی یہاں بھی خاموش نہ رہ سکے کہنے لگے: بھائی ایک تو گاؤں والوں نے ہم کو کچھ کھلایا پلایا نہیں اوپر سے آپ ان پر احسان کر رہے ہیں ، کم سے کم دیوار سیدھی کرنے ہی اجرت لے لیتے ، اس سے ہم کو ایک وقت کا کھانا مل جاتا۔

حضرت خضر نے کہا: بس اب آگے ہم اور آپ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ،آپ بار بار اپنے وعدے کو توڑ چکے ہیں اب میری اور آپ کی جدائی کا وقت آگیا ہے لیکن جانے سے پہلے پہلے میں اپنے ان تمام افعال کی حقیقت سے آپ کو آگاہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس پر آپ صبر نہ کر سکے۔

جہاں تک کشتی کے تختوں کے توڑنے کا تعلق تھا تو وہ کشتی غریب مزدوروں کی تھی جس سے ان کی روزی روٹی چلتی تھی، اور ان کے پیچھے ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا جو ہر نئی کشتی کو زبردستی لے لیتا تھا ، اس لیے میں نے کشتی کو توڑ کر عیب دار بنا دیا تاکہ وہ ظالم بادشاہ کے ہاتھ سے بچ جائے۔

اور رہا تعلق اس لڑکے کا جس کو میں نے قتل کیا تھا تو اس لڑکے کے ماں باپ دونوں مومن تھے، تو ہمیں اس بات کا ڈر تھا کہ وہ ناشکری اور سرکشی کرتے ہوئے ان دونوں پر ناقابلِ برداشت بوجھ نہ ڈال دے، اس لیے آپ کے رب نے چاہا کہ ان کو پاکبازی اور رحم کے اعتبار سے ان کو بہترین متبادل عطا کرے اس لیے میں اس لڑکے کو قتل کردیا۔

اور رہی بات اس دیوار کو سیدھا کرنے کی تو وہ دیوار شہر میں رہنے والے دو یتیم بچوں کی تھی، اس دیوار کے نیچے خزانہ تھا، ان بچوں کا باپ ایک نیک انسان تھا، اس لیے آپ کے رب نے یہ ارادہ کیا کہ وہ بچے بڑے ہوکر اس خزانے کو نکالیں، اس لیے میں دیوار کو سیدھا کر دیا تھا، یہ تمام کام جو میں کئے اے موسی یہ سب آپ کے رب کے حکم سے تھا میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا، اور ان سب کاموں میں یہی حکمتیں پوشیدہ تھیں جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔


Share This
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *