Surah E Mulk With Urdu Translation

Surah E Mulk With Urdu Translation, Surah Mulk Urdu



Read Surah Mulk In Arabic PDF 71 KB



Read Surah Mulk With Urdu Translation PDF

Surah Mulk In English

سورة ملك تعارف اور فضائل

یہ سورت 67 ویں نمبر پر ہے، یہ مکی سورت ہے اس میں دو رکوع اور تیس آیات ہیں، اس میں زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ عقل و ہوش سے کام لے کر راہ رست اختیار کرو۔ کیونکہ جب یہ نازل ہوئی اس وقت اسلام کا کفر کے ساتھ بڑا سخت تصادم ہورہا تھا۔ لوگوں میں صدیوں سے کافرانہ عقائد سمائے ہوئے تھے جن کو جڑوں سے نکالنا تھا جو کہ آسان کام نہ تھا۔ بہرحال اس سورت کو ہم سات حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں تاکہ آسان طریقہ سے سمجھ میں آجائے۔ ویسے اس کی آیات مضمون کے لحاظ سے بےحد آسان اور عام فہم ہیں۔

1 سب سے پہلے تو اس کائنات کی بےحد منظم ترتیب کا ذکر ہے۔ اور اس منظم کائنات کے خالق کی پہچان کروائی گئی ہے۔

2 ایک غیب کی خبر دی گئی ہے کہ کفر کا انجام اور سزا بےحد ہول ناک ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہو کر کفر سے توبہ کرلیں۔

3 پھر یقین دلایا گیا ہے کہ یہ خبر جھوٹی نہیں کیونکہ خالق کائنات ناقابل یقین حدتک ہر چیز اور تمام مخلوقات کی پوری پوری خبر رکھتا ہے۔

4 چاروں طرف پھیلی ہوئی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس خوبصورتی اور تفصیل سے کہ ہر شخص جو ذرا بھی عقل رکھتا ہو وہ ان چاروں طرف پھیلے ہوئے عجائبات سے اللہ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

5 قیامت کی خبر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں دیدی ہے۔ سمجھ لو کہ وہ بڑا ہی خوفناک دل دہلادینے والا دن ہوگا۔ بہتر ہے کہ اس خبر پر یقین کرلو اور اس دن تیاری شروع کردو۔

6 کفار کی ان بددعاؤں کا جواب دیا گیا ہے جو وہ پیغمبر اور ان کے فرمان برداروں کو دیا کرتے تھے۔ اور سمجھایا گیا ہے کہ بہتر ہوگا اگر وہ اپنی فکر کریں جو ان کی گمراہی پر ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔

7 آخر میں اس عظیم الشان نعمت کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ ہر جاندار کے لیے حیات کا ذریعہ ہے۔ یعنی، پانی بہرحال یہ سورت کچھ اپنا ہی انداز لیے ہوئے ہے۔

 حدیث میں آیا ہے،سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة الم تنزیل، سورة السجدہ اور سورة تبارک (ملک) ہر رات پڑھتے اور سفر و حضر میں کبھی ترک نہ فرماتے۔

مطلب یہ ہے کہ اگر سوچ سمجھ کر اور غوروفکر سے پڑھی جائے تو تیس دن تک اس کا اثر دل و دماغ پر رہتا ہے جو بندے کو راہ راست پر چلنے کی تلقین کرتا رہتا ہے۔ اور یوں انسان شیطان کے غلبہ اور ٹیڑھی راہوں سے بچتے رہنے کی کوشش کرتا ہے اس طرح خود کو دنیاوی اور اخروی سختیوں سے بچا لیتا ہے۔ اسی لیے مختلف روایات میں اس کے بیشمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔

 

سورة الملك

بسم الله الرحمن الرحيم

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (1)

نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

 الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (2)

جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہےاور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی

الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ (3)

جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔ تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاوٴ 7گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟

 ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ (4)

بار بار نگاہ دوڑاوٴ، تمہای نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی۔

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ (5)

ہم نے تمہارے قریب کے آسمان  کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے  اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیّا کر رکھی ہے۔

وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (6)

جن لوگوں نے اپنے ربّ سے کفر کیا ہے ان کے لیے جہنّم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔

 إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ (7)

جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دَھاڑنے کی ہولناک آوازیں سُنیں13 گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی،

تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ (8)

شِدّتِ غضب سے پھٹی جاتی ہو گی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟“

قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ (9)

وہ جواب دیں گے” ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا ، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔“

 وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ (10)

اور وہ کہیں گے ”کاش ہم سُنتے اور سمجھتے تو آج اِس بھَڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے۔“

فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ فَسُحْقًا لِأَصْحَابِ السَّعِيرِ (11)

اس طرح وہ اپنے قصورکا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر۔

 إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ (12)

جو لوگ بے دیکھے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔

وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (13)

تم خواہ چُپکے سے بات کرو یا اُونچی آواز سے ﴿اللہ کے لیے یکساں ہے﴾، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔

 أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (14)

کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ (15)

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے ، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاوٴ خدا کا23 رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔

 أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ (16)

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جَھکو لے کھانے لگے؟

 أَمْ أَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ (17)

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراوٴ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔

وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ (18)

اِن سے پہلے گُزرے ہوئے لوگ جُھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو میری گرفت کیسی سخت تھی۔

 أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ (19)

کیا یہ لوگ اپنے اُوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمٰن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ وہی ہر چیز کا نگہبان  ہے۔

 أَمَّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ (20)

بتاوٴ، آخر وہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمٰن کے مقابلے میں تمہارے مدد کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

 أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ (21)

یا پھر بتاوٴ ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمٰن اپنا رزق روک لے؟ دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اَڑے ہوئے ہیں۔

 أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّنْ يَمْشِي سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (22)

بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو  وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اُٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟

قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ (23)

اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سُننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔

 قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (24)

اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاوٴ گے۔

 وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (25)

یہ کہتے ہیں” اگر تم سچے ہو تو بتاوٴ یہ وعدہ کب پُورا ہوگا؟ “

 قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ (26)

کہو” اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے ، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔“

فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَدَّعُونَ (27)

پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو اُن سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے، اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے۔

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَنْ مَعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَنْ يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (28)

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے  گا؟

 قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (29)

اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے۔

 قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ (30)

اِن سےکہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنووٴں کا پانی زمین میں اُتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لادے  گا؟



Read Surah Mulk In Arabic PDF 71 KB



Read Surah Mulk With Urdu Translation PDF

Surah Mulk Arabic Text

Surah Mulk In English

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply