Islami Shadi

Islami Shadi aur Miya Biwi ke Huqooq شادی خانہ آبادی

اسلامی شادی خانہ آبادی

اللہ رب العزت   کی نعمتوں میں سے ایک  بڑی نعمت  شادی ہے ، قرآن کریم میں کئی جگہ اس کا ذکر آیا ہے ۔ارشاد باری ہے: {وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا } [النبأ: 8] شادی کے رشتے ترجمہ : ہم نے تم کو جوڑا  بناکر پیدا کیا  ، یعنی  مرد  و عورت کو آپس میں ایک دوسرے کا جوڑا بنایا۔  قرآن  میں ایک دوسری جگہ ذکر ہے: {وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا} [الفرقان: 54] ترجمہ : اللہ ہی کی ذات ہے جس نے پانی (نطفہ منی) سے انسان کو پیدا کیا اور ان کے  درمیان نسب اور  بنائے۔

جوڑے کا انتخاب

قرآن اور حدیث کی تعلیمات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرد کو چاہئے کہ  محرم   عورتیں (جن سے شادی کرنا اسلام میں منع ہے ) جیسے ماں  خالہ پھوپھی  بھتیجی  بھانجی وغیرہ وغیرہ ،،  کے علاوہ  میں اپنے لئے مناسب جوڑے کا انتخاب کرے ؛ قرآن وحدیث  میں انتخاب اور  پسند کا معیار بھی بیان کیا گیا۔ارشاد باری ہے {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: 24] : عورتوں میں سے جوپاک دامن ہوں   ان سے نکاح کرو۔حدیث پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ”. رواه البخاري ومسلم في صحيحيهما(بخارى: 5090، مسلم: 1466) ترجمہ:عورت سے چار وجہ سے شادی کی جاتی ہے اس کے  مال کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر، اس کے حسب نسب کا خیال کر کے، اور اس کے اندر موجود دینداری کی بنیاد پر ، دین دار عورت تلاش کرنا ؛اللہ تیرا بھلا کرے ؛   ورنہ تیرا  ناس ہو اور تو فقیر بن جا ۔

آیتِ کریمہ  اور حدیث شريف سے یہ بات  صاف  معلوم ہوتی  ہے کہ: شادی  کرنے میں اصل معیار  دینداری اور پرہیزگاری ہے  ۔ جو لوگ اس کا لحاظ کرتے ہیں ان کی زندگی پر لطف اور خوشحال ہوتی ہے ۔تقوی اور پرہیزگاری کا خیال کئے بغیر   جب نکاح کیا جاتا ہے تواس نکاح میں  برکت نہیں ہوتی ہے  اور آئندہ  میاں    بیوی میں الفت ومحبت کے بجائے نفرت ودشمنی پیدا ہوجاتی  ہے۔اور بعض مرتبہ طلاق تک  نوبت پہونچ جاتی ہے۔

اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کےخطبہ میں جن آیتوں کا انتخاب کیا سب میں تقوی کاذکر ہے۔

مثلا: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} [النساء: 1] {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 70، 71] ۔

میاں بیوی کے حقوق

قرآن کریم میں ہے {الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ} [النساء: 34]  ترجمہ :مرد حضرات عورتوں پر نگراں ہیں ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: {وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: 19] ترجمہ :    تم عورتوں سے بہتر ین سلوک کرو۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب حجۃ الوداع کا خطبہ دے رہے تھے اور اہم اہم باتوں کی امت کو تعلیم دے رہے تھے اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کا ذکر کیا اور کہا “فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، رواه مسلم عن جابر بن عبد الله”. (1218). ترجمہ : سنو!عورتوں کے حقوق میں اللہ سے ڈرتے رہنا ؛ کیونکہ تم نے انکو اللہ کی امان کے ساتھ حاصل کیا ہے(یہ عورتیں تمہارے  قبضے میں  اللہ کی امانت ہیں ) اور انکی شرمگاہیں تمہارے لئے اللہ نے حلال کی ہیں۔تمہار ا ان پر حق یہ ہے کہ وہ عورتیں تمہارے علاوہ کسی دوسرے سے تعلقات نہ رکہیں  اور اگر ایسا کر بیٹھیں  تو انہیں جائز سزا دو ؛ اور انکا تم پر حق یہ ہے کہ انکے کھانے پینے  رہنے سہنے اور پہننے کا معقول انتظام کرو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان  میاں بیوی کی لائف اسٹائل کے لئے گائڈ لائن ہے  بیوی اگر خیانت نہ کرے اور شوہر اس کے اخراجات کا معقول انتظام کردے تو وہیں بے شمارمسائل اور پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ازواج مطہرات کے ساتھ  ایسا عمدہ اور محبت بھرا سلوک کیا ہے کہ   جس كى نظير ناممكن ہے ، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ  میں جس جگہ سے ماں  عائشہ رضي الله عنها نے پانی پیا تھا اسی جگہ سے پانی پی لیتے ، گوشت کی  ایک ہی بوٹی کو دونوں  آپس  میں شیئر کرکے ایک ہی جگہ سے نونچتے ۔

ازواجِ مطہرات كى حسنِ معاشرت

ازواجِ مطہرات کی زندگیاں حکمرانوں اور مملکت کے سربراہوں کی بیگمات کی زندگیوں سے بالکل الگ تھیں ، عام طور پر باشاہوں کی بیگمات نہایت پر آسائش زندگی گزارتی ہیں، ان کی خدمت اور سہولت کے لیے نعمتوں کی فراوانی اور خدمت گزاروں کی کثرت ہوتی ہے، اقتدار کا نشہ ان کے پاؤں زمین پر نہیں رکھنے دیتا، اس کے بر خلاف ازواجِ مطہرات نے عائلی اور خانگی زندگی عسرت وتنگ دستی میں گزارا ، فاقے پر فاقے کئے، کئی کئی دن تک ان کے گھروں چولہے بھی نہ جلتے تھے ، مگر کیا مجال کہ کبھی بھی ان کی زبان سے کوئی حرفِ شکایت آیا ہو، اگر کبھی کہیں سے کچھ کھانے پینے کا سامان آتا بھی تھا تو اس کو بھی فقیروں اور محتاجوں پر خرچ کر دیتی تھیں۔ خودداری اور جود وسخا میں بھی ان کا کوئی جواب نہیں تھا ، تنگ دستی وعسرت میں بھی انھوں نے خود داری سے سودا نہیں کیا، کفایت شعاری اور بلند حوصلگی ان کاطرہ امتیاز تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے ہی انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے حالات سے واقفیت ہوتی تھی ، انھیں یہ علم تھا کہ آپ سے رشتہ کرنے سے انھیں تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑے گا، آرام و آسائش تج دینا پڑے گا، فاقے پر فاقے کرنے پڑیں گے ، مگر قربان جائیے امت کی ماؤں پر سب کچھ جاننے کے باوجود انھوں نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا جز ہو کر دعوتِ حق کو پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لیے     

کسی کے شوق میں تو نے مزے ستم کے لیے

سوکنوں کے درمیان خوش گوار زندگی

سوکن کا تصور کسی بھی عورت کے لیے قیامت سے کم نہیں تمام تر آسائش و آرام کے باوجود کوئی بھی کوئی عورت یہ نہیں چاہتی ہے کہ اس کا شوہر دوسرا نکاح کرے، اور اکثر یہ دیکھا بھی جاتا ہے کہ عام طور پر سوکنوں کی آپس میں نہیں بنتی، ان کی وجہ سے گھریلو زندگی کا شیرازہ بکھر جاتا ہے، لیکن ازواجِ مطہرات نے مسلم معاشرہ کو مثالی نمونہ پیش کرتے ہوئے سوکنوں کے درمیان خوش گوار زندگی گزاری، بشری تقاضوں کے تحت اگر کبھی کچھ معاملات بھی ہو گئے تو انھیں آپس میں بحسن وخوبی حل بھی کر لیا، ان پاک سیرت نفوس نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کرنے سے نہیں روکا اور نہ ہی ناراض ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عسرت بھری زندگی میں ان کے دئے گئے نان ونفقہ پر راضی رہیں۔ آج کے معاشرہ کے برخلاف ازواجِ مطہرات ایک دوسرے پر حسد نہیں بلکہ رشک کرتی تھیں۔ احادیث کی کتابوں میں ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔

الغرض  باہم  الفت ومحبت کے جو طریقے ہوسکتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواجِ مطہرات ان سبھی کو اپناتے تھے۔  اسی محبت کی بنیاد پر گھر بستا ہے، اور اس میں  امت کے لئے تعلیم اور اہم سبق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *