hamare masayel

اپنی ولدیت بدلنا جائز نہیں

(سلسلہ نمبر: 578)

اپنی ولدیت بدلنا جائز نہیں

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتی صاحب درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :

 زینب کی شادی ماجد سے ہوئی تھی، اس سے اولاد ہوئی پھر زینب اور ماجد کی طلاق ہو گئی، رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا، زینب اپنی اولاد لیکر الگ ہوگئی اور زینب نے دوسری شادی کرلی دوسرے شوہر کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے بچے بڑے ہوگئے شادی کے لائق ہوگئے،

اب دریافت یہ کرنا ہے کہ وہ بچے جو پہلے شوہر سے ہیں اور دوسرے شوہر کے پاس اپنی ماں کے ساتھ رہ رہے ہیں انکی ولدیت کیا ہوگی مثلا : سرکاری کاغذات، شادی کارڈ وغیرہ پر ان بچوں کی ولدیت کیا لکھی جائے؟ پہلے شوہر کی یا دوسرے شوہر کی؟ جبکہ زینب پہلے شوہر کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتی ہے ۔

از راہ کرم مذکورہ بالا مسئلہ کے سلسلے میں دینی رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

المستفتی: شفیق عالم کانپور۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: اسلام کے شروع زمانے میں لے پالک اور منھ بولے لڑکے کو اپنا بیٹا کہنے کی اجازت تھی لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ حکم دیا کہ بچوں کو ان کے حقیقی والد کی طرف منسوب کر کے پکارا جائے، اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی طرف ولدیت کی نسبت کرنے کی سخت ممانعت آئی ہے؛ اس لئے سرکاری کاغذات وغیرہ ہر جگہ اصلی باپ ہی کا نام لکھنا ضروری ہے، اصلی باپ کے علاوہ دوسرے کے نام کو ولدیت پر لکھنا شرعاً حرام ہے۔

الدلائل

قال الله تعالى: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَo ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ. (سورة الأحزاب: 4, 5).

عن أبي ذر رضي الله عنه، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول : ” ليس من رجل ادعى لغير أبيه، وهو يعلمه، إلا كفر. ومن ادعى قوما ليس له فيهم فليتبوأ مقعده من النار”. (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3508).

عن أبي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “لا ترغبوا عن آبائكم، فمن رغب عن أبيه فهو كفر”. (صحيح البخاري، رقم الحديث: 6768).

 نسبة الولد إلى غير أبيه حرام حقا للشرع. (المحيط البرهاني: 9/ 236).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

24- 5- 1442ھ 9- 1- 2021م السبت.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply