Habiburrahman Azmi Ki Hadeesi Khidmaat

شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ اور احادیث پران کی خدمات

Share This
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقالہ نگار: امداداللہ امیرالدین مئوی قاسمی

خادم التدریس جامعہ مفتاح العلوم، مئو

ای میل: [email protected]

ہندوستان میں علم حدیث کا آغاز

سرزمین ہند، جو قرونِ اولی ہی سے احادیث شریفہ کے زمزموں سے آشنا، اور بہت سے محدثین کا گہوارہ بن چکی تھی،لشکر اسلام کی معیت میں آنے والے محدثین عظام کے فیوض سے یہ خطہ منور ہورہا تھا، ان کے خرمنہائے علمیہ کی خوشہ چیں جماعت رفتہ رفتہ علوم حدیثیہ کا لشکر جرار بن گئی، جو بر صغیر( ہندوپاک) کے ملکی وانتظامی نشیب وفراز سے کھیلتا، عروج وزوال سے لڑتا آگے رواں دواں رہا،عہد سلطنت میں حدیث شریف کی نمایاں خدمت کی سعادت صاحب “مشارق الانوار” علامہ رضی الدین حسن بن محمد الصغانیؒ (ت:۶۵۰ھ) کو بھی حاصل ہوئی جو لاہور سے جاکر بغداد میں مقیم ہوگئے تھے، پھر شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ (ت:۱۰۵۲ھ) کا زریں عہد آیا، جس نے ہندوستان میں حدیثی انقلاب برپا کردیا، ملک کا دار السلطنت شہر دہلی علم حدیث کا بھی مرکز بن گیا۔ غرض ان محدثین کا لگایا یہ شجرہ طوبی پھولتا پھلتا رہا، اس کی شاخیں عروج وارتقاء کی منزلیں طے کرتی، اور حوادث کی موجوں سے ٹکراتی رہیں، تاآنکہ مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (ت: ۱۱۷۶ھ) کا ورود مسعود ہوا، اور احادیث طیبہ کی ترویج وترقی، اور درس وتدریس کے جدید اسلوب اور رہنما نقوش وجود میں آئے، جن سے فضاء ہند قال اللہ قال الرسول کے نغمے سے جھومنے لگی، حضرت شاہ صاحبؒ، جو احکام شرعیہ کے اسرار وحِکم کی معرفت اور جزرسی کی بناء پر’’حکیم الامت‘‘ اور بر صغیر کی علمی وعملی فضا میں ایک صالح انقلاب پیدا کرنے کی وجہ سے بجا طور پر ’’امام الہند‘‘ کہے جانے کے مستحق ہیں، آپ کی علمی وراثت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (ت:۱۲۳۹ھ)، حضرت شاہ اسحاق محدث دہلویؒ (ت:۱۲۶۲ھ)، حضرت شاہ عبدالغنی مجددیؒ (ت:۱۲۹۶ھ) کے واسطوں سے نقل ہوتی دبستانِ دیوبند پہنچی، اور نشو ونما کے نئے افق چھونے لگی، حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ (ت: ۱۲۹۷ھ)، حضرت مولانا یقوب نانوتویؒ (ت:۱۳۰۰ھ)، حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ (ت:۱۳۰۲ھ)، اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (ت:۱۳۲۳ھ) جیسے علوم و حِکم کے پہاڑوںاور شہ سواروں نے علم حدیث کی ایسی آبیاری کی، اور مدارس ومکاتب کا جال بچھا کر ایسی نشر واشاعت کی کہ سر زمین ہند کا چپہ چپہ احادیث کی کرنوں سے منور ہوگیا۔ [1]

پروفیسر شمس تبریز خان، شعبۂ عربی لکھنؤ یونیورسٹی لکھتے ہیں: “بلاد عربیہ کے بعد اسلام، علوم اسلامیہ اور اسلامی تہذیب وثقافت سے ہندوستان کا جو دیرینہ، گہرا اور ہمہ گیر تعلق رہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، جس کی شروعات حضرت آدم علیہ السلام کے ورودِ ہند سے ہوتی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث شریف سے اس تعلق کی تجدید ہوتی ہے کہ مجھے مشرق کی جانب سے ٹھنڈی ہوا آتی محسوس ہوتی ہے، اور وہ متعدد احادیث اور آثار بھی اس تعلق کو مضبوط بناتے ہیں جنھیں مولانا غلام علی آزاد بلگرامیؒ (ت: ۱۲۰۰ھ) نے “سبحة المرجان” کے شروع میں درج کیا ہے۔…. ویسے تو علوم اسلامیہ کی ہر شاخ میں ہندوستانی علماء نے اپنی ذہانت وفطانت، دانائی وطباعی اور جدت وعبقریت کے نمونے پیش کیے ہیں خصوصاً حدیث وفقہ اور تفسیر وکلام کے میدانوں میں بڑے کارنامے انجام دیے ہیں لیکن حدیث نبوی سے ان کا تعلق عشق کی حد تک پہنچ گیا ہے اور انھوں نے شروع سے آج تک حدیث نبوی سے اپنے قلبی وذہنی، طبعی وجذباتی تعلق کے جس طرح مظاہرے کیے ہیں ان کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اسی وجہ سے حدیث شریف کی خدمت کے اُنھیں ایسے مواقع ملے جو عالم اسلام میں کسی اور کو نہیں ملے اور انھیں اس سلسلے میں اولیت وافضلیت کی سعادت حاصل ہوئی‘‘۔[2]

ہندوستان میں علم حدیث کا عروج وارتقاء

دسویں صدی ہندوستان کے اندر علم حدیث کے اصل فروغ کا زمانہ ہے،اس صدی کے اندر بہت سے محدثین کرام اسلامی دنیا سے ہند تشریف لائے اور حدثنا وأخبرنا کی صدائے جاں فزا وروح افزا سے قلوب کو گرمایا، استاذ محترم حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوریؒ فرماتے ہیں: “ہندوستان میں صہبائے مدینہ کے میخواروں اور خدمت گذاروں کی پاکیزہ روایت شیخ علی متقی ؒ، شیخ محمد طاہر پٹنیؒ، اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ، سے ہوتی ہوئی مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے ذریعہ نہایت جامعیت کے ساتھ آگے بڑھی اور حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے اولاد واحفاد اور سلسلۂ تلامذہ کے واسطہ سے علماء دیوبند اس کے حاملین وامین قرار پائے، جنھوں نے اس امانت کو قریہ قریہ پہنچا کر گھر گھر کو اس کے نور سے منور کردیا، خاص طور پر حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا احمد علی محدث سہارن پوریؒ، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارن پوریؒ، امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ وغیرہ حضرات کے ذریعہ حدیث نبوی کی وہ خدمت ہوئی کہ قرون ماضیہ کی یاد تازہ ہوگئی، …..ان ہی خدمات کے آثار ومظاہر کو دیکھ کر مصر کے صاحب نظر عالم اور باخبر مبصر علامہ سید رشید رضا مرحوم علماء ہند کی بلند پایہ خدمتِ حدیث کے اعتراف پر مجبور ہوئے اور ان کا قلم اس اعترافِ حقیقت پر مجبور ہوا کہ اگر ان قرون اخیرہ میں علماء ہند نے فنون حدیث کی خدمت کا بیڑا نہ اٹھایا ہوتا تو یہ علوم زوال کا شکار ہوجاتے۔

…..حضرت محدث اعظمیؒ اس روشن تاریخ کے تسلسل کا ایک زریں کردار تھے، واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان میں علم وفن کے آسمان پر جو نامور علماء آفتاب وماہتاب بن کر چمکے اور ان کے غروب کے بعد بھی اہل علم ان کے زندہ وجاوید آثار سے استفادہ کرتے ہیں ان شخصیات میں حضرت مولانا کا نام نہایت ممتاز ہے، بیسویں صدی میں عالم اسلام بشمول ہندوستان میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ، علامہ زاہد کوثریؒ اور شیخ احمد محمد شاکرؒوغیرہ کے بعد علوم حدیث کے تابناک افق پر جو ستارے نہایت آب وتاب کے ساتھ نمودار ہوئے ان میں شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، وغیرہ کے ساتھ ایک نہایت نمایاں نام محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی ؒکا بھی ہے، اور بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دور کے نامور خدام حدیث کی کوئی فہرست بھی مولانا ؒکے نام کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی‘‘ ۔ [3]

خطۂ اعظم گڈھ کی تاریخی حیثیت

 مولانا حکیم عزیز الرحمن صاحب اعظمیؒ (ت:۱۴۳۰ھ) لکھتےہیں: “شبلی نعمانیؒ جیسا ہمہ جہت با کمال اسی اعظم گڈھ نے پیدا کیا، عبدالسلام ندویؒ جیسا برجستہ نگار جن کے مسودہ کی کبھی تبییض نہیں کرنی پڑی، حافظ حمیدالدین فراہیؒ جیسا عالم علوم قرآن، سہیل اعظمیؒ جیسا ذکی وذہین بدیہہ گو شاعر جس نے کم سے کم ۲۵ہزار اشعار اردو فارسی میں کہے ہوں گے، گو زمانہ نے صرف دوہزار اشعار محفوظ رکھے، جنھوں نے اپنے ایک مصرع میں اعظم گڈھ کی علمی تاریخ مرتب کر دی ہے، اسی اعظم گڈھ نے پیدا کیا : ؂                 جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیر اعظم ہوتا ہے

اعظم گڈھ نے صرف علوم ظاہری کے ماہرین ہی پیدا نہیں کیے، بلکہ یہاں اہل اﷲ اور خدا رسیدہ بزرگوں کا ایک بڑا طبقہ بھی پیدا ہوا، مولانا شاہ عبدالغنیؒ (ت:۱۳۸۳ھ)، مولانا شاہ وصی اﷲؒ (ت:۱۳۸۷ھ) ان کے سرخیل ہیں، جن کے بارے میں علامہ ابراھیم بلیاویؒ (ت:۱۳۸۷ھ) صدر المدرسین نے فرمایا کہ یہ دونوں بزرگ اس دور کے حاجی امداداﷲؒ (ت:۱۳۱۷ھ) ہیں، اور مؤخر الذکر سے خود علامہ نے باوجود شاگرد ہونے کے بیعت کی اور خلعت خلافت سے نوازے گئے، مولانا عبدالرحمن مبارکپوریؒ (ت:۱۳۵۳ھ)، حافظ عبداﷲ غازیپوریؒ (ت:۱۳۳۷ھ)، مصطفی اعظمیؒ (ت:۱۴۳۹ھ) جیسے محدثین بھی یہیں پیدا ہوئے۔

وہ آفتاب علم وآگہی بھی اسی زمین سے طلوع ہواجس کو دنیا محدث کبیر علامہ حبیب الرحمن الاعظمی کے نام سے جانتی ہے، جس کی تیز کرنوں سے علم حدیث کے مخفی گوشے منور ہو گئے، جس سے رجال حدیث کی دو صدی کی تاریخ آئینہ بن کر سامنے آگئی، نام، زمانہ، ولدیت، لقاء، معاصرت، وطنیت، احتیاط وتورع پرسیر حاصل بحث کرکےان کا مقام، ان کی حیثیت واضح فرمادی‘‘۔ [4]

محدث کبیر علامہ حبیب الرحمن الاعظمیؒ کے مختصر حالات

امیر الہند اول، محدث کبیر، ابوالمآثر حضرت مولاناحبیب الرحمن الاعظمیؒ قصبۂ مئو کے ایک علم وتقوی کے پیکر گھرانے میں سن ۱۹۰۱ء مطابق ۱۳۱۹ھ میں پیدا ہوئے،آپ کا تاریخی نام “اختر حسن” ، “ابو المآثر” کنیت اور “الاعظمی” نسبت سے مشہور ہیں ،آپ کے والد کا اسم گرامی مولوی محمد صابر(ت: ۱۳۶۵ھ) ہے، اسلامی علوم وفنون میں یکتائے زمانہ اور یگانۂ روزگار تھے، تفسیر وحدیث، فقہ وتاریخ، لغت وادب، اور تراجم وتذکرہ ہوں، یامنطق و فلسفہ، اور علم کلام یا فن شاعری، ہر ایک میں آپ کو نمایاں مقام اور عبقری حیثیت حاصل ہے، آپ کی علمی گہرائی وگیرائی اور دقت نظری، اور اس پر بلا کا حافظہ علماء ہند وبیرون ہندسب کے نزدیک مسلّم ہے، آپ کے علمی شاہ کاروں میں محدثانہ رنگ پوری طرح نمایاں ہے،مئو شہر کبھی ضلع اعظم گڑھ کا ایک اہم ترین حصہ ہوا کرتا تھااور اب بذات خود ضلع بن چکا ہے اورعلمی ، فکری، سیاسی ،سماجی اورملی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے،یہیں آپ نے شعور کی منزلیں طے کیں اور ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم مئو، مظہرالعلوم بنارس اوردارالعلوم دیوبند جیسی مشہور ومعروف علمی ودینی درسگاہوں کے یگانہ زمانہ اور ماہر فن اساتذہ کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ، علم کی بساط پر تابندہ نقوش چھوڑنے والی ان شخصیات نے محدث کبیرؒ کی ساخت وپرداخت میں نمایاں کردار ادا کیا، آپ نےعلامہ انور شاہ کشمیریؒ(ت: ۱۳۵۲ھ)، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ (ت:۱۳۶۹ھ)، مولانا عبد الغفارعراقی مئویؒ (ت:۱۳۴۱ھ)، مولانا کریم بخش سنبھلیؒ (ت:۱۳۶۱ھ) وغیرہ جیسی نابغہ روزگار شخصیات کے دامن علم وتربیت سے وابستہ ہوکر پورے شوق ونشاط اور ولولہ وحوصلہ کے ساتھ اپنی علمی تشنگی بجھائی ، اور فطری ذہانت وفطانت سے کتاب وسنت اور دیگر علوم وفنون میں کامل دستگاہ حاصل کی۔

آپ نے تعلیم وتعلم کے خوشگوار مراحل سے گذرنے کے بعد تدریس کے میدان میں قدم رکھا اوردیکھتے دیکھتے ایک کامیاب مدرس کی حیثیت سے شہرت کے بام عروج پر پہنچ گئے ،اور مدارس کی دنیا میں بطور خاص آپ کے فیضان علم ومعرفت کا چرچا عام ہوگیا، جس کے زیر اثر تشنگان علوم دینیہ آپ کی خدمت میں کشاں کشاں آنے لگے اور حسب صلاحیت واستعداد اکتساب فیض کرنے اور اپنی علمی پیاس بجھانے میں ہمہ تن مصروف ہوگئے، جس کا اچھا ثمرہ اوربہترنتیجہ یہ سامنے آیا کہ نہایت قلیل مدت میں مولانا محمد منظور نعمانیؒ(ت:۱۴۱۷ھ)،مولانا محمدحسین بہاری ؒ (ت:۱۴۱۲ھ)، مولانا عبدالستار معروفیؒ (ت:۱۴۱۴ھ)،مولانا عبدالجبار مئویؒ(ت:۱۴۱۴ھ)، مفتی ظفیرالدین مفتاحیؒ(ت:۱۴۳۲ھ) ، مولانا ضیاء الحسن اعظمی،اورمولانا سعیدالرحمن اعظمی جیسے اکابر علماء، نامورادباء، ممتازمحدثین، اور بافیض اصحاب درس وافتاء پیدا ہوئے اوراپنے اپنے میدان میں نمایاں علمی ودینی خدمات انجام دے کر ملک وملت کا نام روشن کیا ۔

علوم وفنون کا یہ آفتابِ نیم روز تقریبا نوے سال اپنی شعائیں بکھیرتا اور تہذیب وثقافت کے نئے نئے دریچے وا کرتا ہوا بالآخر ۱۰/ رمضان المبارک ۱۴۱۲ھ مطابق ۱۶/ مارچ ۱۹۹۲ء بروزپیر عین افطار کے وقت جب عشرۂ رحمت ختم ہوا چاہتا تھا، ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا، البتہ رحمن کا یہ حبیب اپنی جاودانی خدمات کا بڑا سرمایہ ورثے میں دیتا گیا، آسماں ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے۔ [5]

علامہ اعظمیؒ کو خالق کونین نے بہت ساری خوبیوں سے نوازا تھا، بے شمار علوم وفنون سے آپ کو حظ وافر عطا کیا تھا، بطور خاص حدیث اور علوم حدیث سے آپ کو خاص رغبت اور مناسبت تھی، علم حدیث سے رغبت اور اس سلسلے میں آپ کی دلی تڑپ کی غماز وہ تحریر ہے جو آپ نے ’’مسند حمیدی‘‘ کے مقدمہ میں تحریر فرمائی ہے، فرماتے ہیں:’’وکنت أود منذ أعوام أن لو وفق اللہ أحدا من أھل العلم أن یفتش عما بقي من ھذہ المسانید فی خزائن الکتب فإن ظفر بشیئ منھا قام بتصحیحه ونشرہ، لکان خدمة لا تنسی ومنة في رقاب أھل العلم وکان أیضا دفاعا مجیدا عما رمی به أعداء الحدیث مصنفي الصحاح من أنھم وضعوا الأحادیث التي أودعوھا کتبھم ،کنت أود ھذا وکانت ھذہ الأمنیة دائما نصب عینی حتی عثرت علی نسخة من مسند الحمیدي فی مکتبة دارالعلوم (بدیو بند،الھند)فطرت فرحا وشکرت اللہ تعالی‘‘}[6]برسوں سے میری یہ خواہش تھی کہ کاش اﷲ تعالی کسی صاحب علم کو توفیق دیتا کہ کتابوں کے خزانوں میں مسند کے طرز پر مرتب اور دستبرد زمانہ سے محفوظ ان کتابوں کو تلاش کرتا، ان میں سے اگر کوئی کتاب اس کے ہاتھ لگ جاتی تو تصحیح کر کے شائع کر دیتا، تو یہ ایک ناقابل فراموش خدمت اور اہل علم پر ایک بڑا احسان ہوتا، اور اس سے دشمنان حدیث کے اس بہتان تراشی کا دفاع اور جواب ہو جاتا کہ صحاح ستہ میں جو حدیثیں موجود ہیں، ان کو ان کے مصنفین نے اپنی طرف سے وضع کر لیا ہے، یہ تمنا ہمہ وقت میرے پیش نظر رہتی تھی ، یہاں تک کہ مجھے دارالعلوم دیوبند کے کتب خانے میں مسند حمیدی کا ایک نسخہ دستیاب ہوا اورمیں خوشی سے جھوم اٹھا اور اللہ تعالی کا شکرادا کیا{۔

علامہ اعظمیؒ کی محدثانہ شان علماء اسلام کی نظر میں

محدث کبیر شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ کی شخصیت،آپ کی عظیم حدیثی خدمات، اورآپ کےعلمی مقام کے معترف ملک و بیرون ملک کے صدہا علماء کرام ہیں، جن میں امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ(ت:۱۳۵۲ھ)، حکیم الامت حضرت تھانویؒ(ت:۱۳۶۲ھ)،علامہ شبیر احمد عثمانیؒ(ت:۱۳۶۹ھ)، علامہ زاہد الکوثریؒ(ت:۱۳۷۱ھ)،  علامہ سید سلیمان ندویؒ(ت:۱۳۷۳ھ)،شیخ احمد محمد شاکرؒ(ت:۱۳۷۷ھ)، سابق شیخ الازہر ڈاکٹر عبد الحلیم محموؒد(ت:۱۳۹۸ھ)، شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ(ت:۱۴۱۷ھ) جیسے اساطین علم اور مشاہیر کے نام ملتے ہیں، یہاں مشتے از خروارے کے طور پر بعض اساطین علوم نبوت کےچند وہ اقوال نقل کیے جارہے ہیں جو آپ کی محدثانہ شان کے اعتراف سے عبارت ہیں:

بیرون ہند کے چندعلماء کرام

۱- شیخ احمد محمد شاکرؒ(ت:۱۳۷۷ھ) جلیل القدر محدث، مشہور محقق اور نامور ادیب نے’’مسند احمد‘‘ پر  علامہ اعظمیؒ کے استدراکات کو بسر وچشم قبول کرتے ہوئے اظہار تشکر اور علمی عظمت و رفعت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا تھا: لقد جاءني كتابكم الأول النفيس…. أما استدراكاتكم فكلها نفيسة غالية، ولا أقول هذا مجاملة…. وأشكركم خالص الشكر على هذه العناية الجيدة، وأرجو أن تزيدوني من إشاراتكم وإرشاداتكم، خدمة للسنة النبوية المطهرة، وأنتم ، كما رأيت من عملكم، من أعظم العلماء بها في هذا العصر، فالحمدلله على توفيقكم…. ثم أكرر الرجاء أن لا تحرموني من آرائكم النيرة وتحقيقاتكم النفيسة.[7] }آپ کا والا نامہ موصول ہوا….جہاں تک آپ کے استدراکات کا سوال ہے تو سب کے سب عمدہ اور بیش قیمت ہیں، اور میں یہ بات بطور خوشامدنہیں کہہ رہا ہوں …. اس عظیم توجہ فرمائی پر آپ کا خلوص دل سے شکر گزار ہوں، اور امید رکھتا ہوں کہ حدیث پاک کی خدمت کے جذبے سے مجھے مزید مشوروں اور رہنمائیوں سے نوازیں گے،آپ کے اس عظیم عمل کو دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ آپ اس زمانہ میںسنت نبویہ کے ایک عظیم ترین عالم ہیں۔ فالحمد للہ علی ذلك، آخر میں پھر میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اپنی قیمتی آراء اور تحقیقات سے محروم نہ رکھئے گا۔اھ{۔

۲-ڈاکٹر عبد الحلیم محمودؒ سابق شیخ الازہر مصر (ت: ۱۳۹۸ھ) جن کے بارے میں اتفاق ہے کہ صدیوں میں ایسے بلند پایہ شخص مصر کے امام اکبر ہوتے ہیں،حج کے موسم میں ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں مصر، سعودیہ،ہندو پاک کے علماء کے ایک مجمع میں جس میں علامہ محمود حسنین مخلوف ، علامہ اعظمی ،علامہ سید ابوالحسن علی ندوی ، اور مولانا منظور نعمانی بھی موجود تھے، شیخ الازہر نے علماء کے اس مجمع میں حدیث شریف اور فن رجال میں مولانا اعظمی کے مقام بلند کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : ’’إننی أشھد أنہ إذا کان فی العالم کلہ من یستحق أن یلقب بالمحدث الأعظم فھذا ھو‘‘. }میں شہادت دیتا ہوں کہ اگر سارے عالم میں کوئی ’’محدث اعظم‘‘ کے خطاب کا مستحق ہے تو یہ شخص ہیں{۔

اسی طرح شیخ حسنین ذہبی وزیر اوقاف مصر ڈابھیل کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے مولانا اعظمی کے بارے میں کہا :“أعتقد أنه لیس له مثیل في علم الحدیث في کافة الھند”}میرا خیال ہے کہ علم حدیث میں پورے ہندوستان میں ان کی کوئی نظیر نہیں{۔ شیخ الازہر ڈاکٹر عبدالحلیم محمودؒ اس مجلس میں موجود تھے ، فورا ٹوکتے ہوئے اضافہ فرمایا :’’ بل في الدنیا کلھا فیما نعلم‘‘}بلکہ ہمارے علم کے مطابق پوری دنیا میں ان کی کوئی مثال نہیں ہے{۔[8]

معروف محقق ونقّاد شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ (ت:۱۴۱۷ھ) علامہ زاہد الکوثریؒ (ت:۱۳۷۱ھ) کی مشہور تصنیف “فقه أھل العراق وحدیثھم” میں بطور تکملہ وتذییل، ہند وپاک کے چالیس علماء ومحدثین کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سےتینتیس علامہ بنوریؒ (ت:۱۳۹۷ھ)کے مرتب کردہ، اور آخر کے سات(۷) شیخ کے قلم سے ہیں، اس تکملے میں نمبر (۳۹) پر حضرت شیخ علامہ اعظمیؒ کے تعارف میں یوں رطب اللسان ہیں:  ’’العلامة ،المحدث البارع، الفقيه، الشيخ حبيب الرحمن الأعظمي، صاحب التعليقات البديعة، والتحقيقات النادرة، العالم بالرجال والعلل، وتعليقاته وتحقيقاته السنية، على “سنن سعيد بن منصور”، و “الزهد” لابن المبارك، و “مسند الحميدي”، واستدراكاته على الشيخ أحمد شاكر في تعليقه على “مسند أحمد”، ثم تعليقاته الحافلة  على “مصنف عبدالرزاق” الذي يطبع الآن بعون اللہ، كلها تنطق بسموّ فضله وبسطة يديه في هذا العلم الشريف، وقد قارب السبعين أو جاوزها، أمدّ اللہ في عمره ونفع به‘‘. [9]}علامہ، ماہر فن محدث، فقیہ مولانا حبیب الرحمن الاعظمیؒ، انوکھی تعلیقات اور نادر تحقیقات کے حامل، علم رجال اور علل کے شناور، جن کی بیش بہا تعلیقات وتحقیقات سے سنن سعید بن منصور، حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کی کتاب الزہد، اور مسند حمیدی مزین ہیں، مسند احمد کی شیخ احمد شاکرؒ کی تحقیق پر آپ کے استدراکات ہیں، نیز حال ہی میں زیور طبع سے آراستہ ہونے والی مصنف عبد الرزاق پر آپ کی جامع تعلیقات ہیں، یہ سارے کارنامے آپ کی رفعتِ شان، اور حدیث پاک کے تعلق سے آپ کی وسعت علمی کے غمّاز ہیں، آپ کی عمر تقریبا ستر (۷۰) سال یا اس سے زائد ہوچکی ہے، اللہ تعالی آپ کی عمر دراز کرے اور آپ کا نفع جاری رکھے، آمین۔{واضح رہے کہ حضرت شیخ کی یہ تحریر ۱۳۹۰ھ کی ہے۔

اسی کتاب کے مقدمے کے حاشیے میں مصنف عبد الرزاق کے تعلق سے بر سبیل تذکرہ حضرت شیخ، علامہ اعظمیؒ کا ذکر خیر اِن الفاظ میں کرتے ہیں:  بتحقيق العلامة المحدث المحقق الجليل، المشهود له بالبراعة في هذا الفن من أهله، الشيخ حبيب الرحمن الأعظمي -حفظه اللہ ورعاه- [10]}علامہ، محدث، عظیم محقق مولانا حبیب الرحمن الاعظمیؒ کی تحقیق سے آراستہ ہے، جن کی اس فن میں مہارت اہل فن کے نزدیک مسلّم ہے{۔

 شیخ عابد الفاسی الفہری فاس (مراکش) کی مشہور لائبریری خزانۃ جامعۃ القرویین کے محافظ ونگراں اور عالم وفاضل شخص تھے، مصنَّف عبد الرزاق علامہ اعظمیؒ کی تحقیق سے شائع ہونے کے بعد جب ان کے پاس پہنچی ہے، تو انھوں نے ۳۰؍ جولائی ۱۹۷۳ء کو مکتوب اسلامی بیروت کے پتہ پر ایک خط لکھا، اس خط میں علامہ اعظمی کے مرتبہ ومقام اور ان کی جلالت علمی کے متعلق فرماتے ہیں: إنَّ الشیخ حبیب الرحمن الأعظمي ھذا أجدرُ الناس بتحقیق کتب السنة والتعلیق علیھا، فھو أحدُ أفراد ھذا العصر الذي ھیَّأ نفسه وھیَّأہ اﷲ تعالی لی لتجدید ھذا الدین تصدیقًا لقول النبي علیه السلام: إنَّ اﷲ یبعث علی رأسِ کل مائة سنة من یُجدِّد لھذہ الأمة أمرَ دینِھا.…}شیخ حبیب الرحمن اعظمیؒ موصوف کتب حدیث کی تحقیق وتعلیق کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، وہ ایسے یکتائے زمانہ ہیں جنھوں نے خود کو تیار کیا اور اﷲ نے ان کو اس دین کی تجدید کے لیے مہیا فرمایا، رسول اﷲکی اس حدیث کے مصداق جس میں آپؐ نے فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہر سو سال پر ایک ایسا شخص پیدا کرے گا، جو اس امت کے لیے دین کی تجدید کرے گا{۔[11]

واقعہ یہ ہے کہ عرب محدثین کو علامہ اعظمیؒ کی تحقیقات علمیہ نے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ مولانا غلام محمد وستانوی صاحب “کشف الاستار” کے تازہ ایڈیشن میں ” کلمة الناشر” کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں، اور بجا لکھتے ہیں کہ “وله براعة تامة ومھارۃ کاملة في علم الحدیث حتی شھد له بذالك من أھل العلم والفضل من العرب والعجم علی حد سواء”۔

ہندوستانی علماء کرام

 علم وادب کے شہ سوار علامہ سید سلیمان ندویؒ(ت:۱۳۷۳ھ) کے سوانح نگار شاہ معین الدین ندوی رقم طراز ہیں: ’’مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ اگرچہ سید صاحبؒ سے عمر میں بہت چھوٹے تھے، لیکن حدیث اور فقہ پر گہری نظر تھی، اس لیے سید صاحب ان کی بڑی قدر کرتے تھے، اور فقہی مسائل میں ان سے مشورہ کرتے تھے‘‘۔[12]

 مولانا عامر عثمانیؒ (ت:۱۳۹۲ھ) لکھتے ہیں: ’’مولانا اعظمیؒ فن حدیث میں قابل رشک براعت ومہارت کے سرمایہ دار ہیں،اور صرف ہند وپاک ہی کے نہیں دنیائے عرب کے ارباب نظر بھی ان کے کمال تبحر کے معترف ہیں‘‘۔ [13]

مولانا ابو الوفاء افغانیؒ (ت:۱۳۹۵ھ) کا شمار اپنے دَور کے بلندپایہ اہل علم وتحقیق میں ہوتا تھا، انھوں نے علامہ اعظمیؒ کی تحقیق سے آراستہ ’’کتاب الزہد والرقائق‘‘ پر اپنی تقریظ میں لکھا ہے: ’’ فقد اطلعت علی ’’کتاب الزھد ‘‘ للإمام ابن المبارك رحمه اللہ، الذي رتب أصوله وصححها وعلق عليه العلامة اللبيب الحبيب مولانا الشيخ حبيب الرحمن الأعظمي-لا زال ناصرا للسنة ومدّ فيوضه- فوجدته ماهرا للعلوم، حاويا بها، أمينا لرواياته، حل في تعليقه مشكلات الكتاب، وخرج أحاديثه وآثاره، وقدّمه بمقدمة ثمينة مفيدة تدل على سعة اطلاعه، وطول باعه، قلّ له نظير في علماء زماننا‘‘.[14]]میں نے ابن مبارکؒ کی کتاب الزہد والرقائق دیکھی، جس کے اصول کی ترتیب اور تصحیح وتعلیق علامہ لبیب وحبیب مولانا شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ -خدا ان سے ہمیشہ حدیث وسنت کی خدمت لیتا رہے، اور ان کے فیض میں اضافہ ہوتا رہے- نے کی ہے، میں نے ان کو علوم کا ماہر وجامع اور روایات کا امین پایا، انھوں نے اپنی تعلیقات میں کتاب کے مشکل مقامات کو حل کیا، اس کی احادیث وآثار کی تخریج کی، اور اس پر ایک قیمتی اور مفید مقدمہ لکھا، جس سے ان کی وسعت معلومات اور ید طولیٰ کا پتہ چلتا ہے، ہمارے زمانے کے علماء میں ان کی نظیر کم ملے گی]۔

 مشہور ادیب مولانا عبد الماجد دریابادیؒ(ت:۱۳۹۶ھ) فن حدیث میں آپ کی مہارت اور آپ کے علمی مقام کا تعین کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:’’ہندوستان کے خادمانِ حدیث اور ماہرین علم حدیث کی اگر مختصر ترین فہرست تیار کی جائے، تو اس میں چوٹی کا نام مولانا حبیب الرحمن (مئو- ضلع اعظم گڈھ) کا ہوگا‘‘۔ [15]

مزید فرماتے ہیں:’’علمی تحقیق وتدقیق اب تک مستشرقین ہی کا حصہ سمجھی جاتی رہی ہے، مولانا اعظمی سلَّمہ اﷲ نے عین اسی رنگ میں ڈوب کر ہندوستان کا نام سارے عالم اسلامی میں بلند کر دیا ہے‘‘۔ [16]

 مشہور مصنف مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ(ت:۱۴۰۵ھ)کی کتاب ’’صدیق اکبرؓ‘‘ پہلی بار طبع ہوئی تو اس میں بہت سی خامیاں اور غلطیاں رہ گئیں تھیں، بہت سے اہل علم حضرات نے آپ کی توجہ اس طرف مبذول فرمائی، تصحیح کے لئے آپ کی نگاہ محدث کبیرؒ پر پڑی، لکھتے ہیں: ’’پھر مولانا حبیب الرحمن اعظمی کو -جن سے بڑھ کر فن حدیث اور اسماء الرجال کا محقق اور مبصر میرے نزدیک آج انڈ وپاک میں کوئی عالم نہیں ہے- دیرینہ نیاز مندی کی بنا پر خط لکھا…‘‘۔ [17]

 علامہ اعظمیؒ کے ایک معاصر مبصر جناب شوکت علی خاں ڈائریکٹر مولانا ابو الکلام آزاد عربک اینڈ پرشین انسٹی چیوٹ -ٹونک- راجستھان نےآپ کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے: ’’وأخیراً نقدِّم تحیاتنا إلی رجل عظیم جلیل لہ مکانة عظیمة في العلم والفضل في عصرنا الراھن حضرۃ صاحب الفضیلة الشیخ حبیب الرحمن الأعظمي، الذي له خدمات جلیلة في مجال الحدیث النبوي الشریف الواسع، ولم نجد أحدًا في ھذا الحقل علی مقربۃ منه، ومن ھنا تستحق أرض الھند أن تفتخر بعبقریته التي وُلِدت من بطنھا وترعرعت علی ظھرھا، وشبَّ في أحضانھا، وتخدم علم الحدیث فیھا حیث لا یوجد مثیل لھا‘‘.[18]] اخیر میں ہمارا سلام اور نیک تمنائیں ایک جلیل القدر اور عظیم ہستی کی خدمت میں پیش ہے، جن کو ہمارے موجودہ زمانے میں علم وفضل میں بڑا مقام حاصل ہے۔ یعنی محترم فضیلت مآب شیخ حبیب الرحمن الاعظمی جن کی فن حدیث کے وسیع میدان میں گراں قدر خدمات ہیں اور ہم نے اس میدان میں کسی کو ایسا نہیں پایا جو آپ کے مرتبہ کے قریب تک پہنچ سکا ہو، بنا بریں سر زمین ہند کو ان کی عبقریت پر بجا طور پر ناز ہے، جو اس کی کوکھ سے پیدا ہوئے، اسی کی گود میں نشو ونما پائی اور اسی کی پشت پر جوان ہوئے، اور اسی سر زمین میں رہ کر علم حدیث کی بے مثال خدمت انجام دے رہے ہیں]۔

 مؤرخ اسلام قاضی اطہر مبارک پوریؒ(ت:۱۴۱۷ھ) تحریر فرماتے ہیں: ’’احادیث رسول کے ان نادر ونایاب اور قدیم وعظیم ذخیروں کی اشاعت کے بعد ان میں سے کئی ایک فوٹو کے ذریعہ بیروت میں شائع ہوئے اور پورے عالم عرب اور عالم اسلام کے اہل علم کو ان استفادہ کا موقع ملا اور حضرات مولانا کی علم حدیث میں عبقریت سے واقف ہوئے، جس کی وجہ سے مولانا کی شخصیت علم حدیث میں مرجع بن گئی اور ہندوستان وپاکستان کے اہل علم سے زیادہ ان حضرات نے ان کتابوں اور مولانا کی ذات سے علمی ودینی فائدہ اٹھایا۔ہم نے متعدد بار یہ منظر دیکھا کہ مولانا ایام حج میں حرم شریف کے سامنے مدرسہ فخریہ کے چھوٹے سے دفتر میں تشریف رکھتے تھے اور مصر وشام، حجاز اور افریقہ کے اہل علم مولانا کی خدمت میں نیاز مندانہ انداز میں حاضر ہو کر استفادہ کرتے تھے اور قدماء کے طریقہ پر ان سے حدیث کی روایت کی سند لیتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا ہندستان میں علم حدیث کے آخری سالار قافلہ تھے‘‘۔ [19]

 مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ(ت:۱۴۲۰ھ) حضرت محدث کبیر کی وفات پر اپنے تأثرات میں لکھتے ہیں: ’’حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمیؒ کی وفات سے علوم دینیہ بالخصوص فن حدیث کے سلسلے میں جو عظیم علمی خسارہ ہوا ہےاور خلا پیدا ہوا ہے، اس کا احساس بہت لوگوں سے زیادہ اس عاجز کو ہے، جس کی بر صغیر ہند وپاک ہی نہیں، ممالک عربیہ اور مرکز اسلام پر بھی نظر ہے اور وہاں کے علماء، اساتذہ، مصنفین ومحققین سے بہت سے لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ واقف ہے،علم حدیث خاص طور پر عالمی وعلمی پیمانہ پر جس انحطاط کا شکار ہے اور اس فن شریف کی واقفیت میں جو سطحیت ….. پیدا ہوگئی ہےاور خاص طور پر حدیث وروایات صحیحہ اور فقہ حنفی کے درمیان تطبیق اور اس علمی حقیقت کے ثابت کرنے میں کہ مذہب حنفی حدیث کے خلاف نہیں ہے، اور امام ابو حنیفہؒ اور ان کے تلامذہ اور خلفائے کبار محض قیاس وذہانت پر اعتماد نہیں کرتے تھے، ان کا ماخذ استنباط احکام میں آیات واحادیث ہی ہوتی تھیں، اس موضوع کے سامنے رکھتے ہوئے حضرت مولانا کے ارتحال سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ اور بھی قابل افسوس وتشویشناک ہے‘‘۔ [20]

 عالم اسلام کی ایک مایۂ نازاور محقق شخصیت ڈ اکٹر حمید اﷲ صاحب حیدر آبادی ثم فرنساویؒ (ت:۱۴۲۳ھ) نے حضرت محدث کبیرؒ کے نام، جس وقت محدث اعظمیؒ مصنف عبد الرزاق کی نگرانی کے سلسلے میں بیروت میں مقیم تھے، ایک خط لکھا جس میں تحریر فرمایا: ’’شاہ ولی اﷲ ثانی کی یہ خدمت حدیث عند اﷲ ماجور، عند الناس مشکور ہوگی‘‘۔[21]

 مولانا حکیم عزیز الرحمن صاحب اعظمیؒ (ت:۱۴۳۰ھ) لکھتےہیں: ’’ اگر مولانا علم حدیث کے امیرالمؤمنین نہ ہوں ممکن ہے، مگر آپ رجال حدیث کے امیرالمؤمنین بلا شک وشبہہ ہیں، اس درجہ کا عالم رجال اخلاف میں کہیں نظر نہیں آتا، اسلاف میں بھی معدودے چند ہیں۔ مولانا اعظمی مخطوطات حدیث نبوی کے سب سے بڑے عالم تھے، آپ اس سلسلہ میں اس بات کی سعی فرماتے کہ قدیم سے قدیم تر مخطوطہ سامنے آجائے، اس لئے کہ دور نبوت سے قرب کی وجہ سے ان میں صیانت ودیانت کا عنصر غالب رہتا ہے، بہ نسبت بعد کے مخطوطات کے کہ اس میں متاخرین نے متقدمین کی طرح احتیاط نہیں برتی، چنانچہ ان کی بالغ نگاہی کا ثبوت جامع عبدالرزاق کے مخطوطہ کے سلسلہ میں ڈاکٹر حمیداﷲ جیسے کثیر المطالعہ، مخطوطات پر نظر رکھنے والے عالم اور حضرت مولانا کے درمیان جو استدرا کی مکاتبت ہوئی اور اس کے جامع معمر بن راشد ہونے کی تردید مولانا نے فرمائی، اس سلسلہ میں طویل مکاتبت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مولانا کی تحقیق کو تسلیم کر لیا یہی نہیں۔ بلکہ ان کو شاہ ولی اﷲ ثانی کے لقب سے یاد فرمایا‘‘۔[22]

 حضرت مولانا حنیف صاحب ملیؒ رقمطراز ہیں کہ :دارالعلوم دیوبند کی تاریخ میں حضرت علامہ انور شاہ صاحب اور حضرت مولانا ظہیرالدین شوق نیموی کے بعد مولانا نے اس بساط جرح و تعدیل اور تحقیق و جستجو کو اپنی فراست سے اس سلیقہ سے آراستہ کیا ہے کہ جس پر دارالعلوم دیوبند ہمیشہ فخر کرتا رہے گا ۔ ہندوستان اگرچہ حدیث کی خدمت میں بغداد و عراق کے علمی سقوط کے بعد سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے تاہم جن بزرگوں نے خون جگر دے کر اسے سینچا اور اس مقدس علم کو آسمان ہفتم تک پہونچایا ان میں مولانا حبیب الرحمن اعظمی کا نام سر فہرست ہے ۔ اس فکر و نظراور تحقیق و جستجو کے کاوش طلب میدان میں مولانا نے اس بے سروسامانی کے باوجود ملت کو جو عظیم سرمایہ عطاکیا اسے جانبداری کی حد بندیوں سے بالا تر ہوکر تسلیم کرلینا اور مولانا کے حدیثی تبرکات کو عملا اپنانا ہی ان کی عظیم خدمات کا سب سے زیادہ مؤثر اور انمول اعتراف ہوگا۔ [23]

استاذ محترم حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوریؒ (ت:۱۴۳۸ھ) لکھتے ہیں:’’ حضرت محدث کبیر کا نام، اقلیم علم وفن کے تاجداروں میں بہت نمایاں اور ممتاز ہے وہ درحقیقت علماء کی اس جماعت سے تعلق رکھتے تھے جن کا امتیاز علوم وفنون کی جامعیت ہوتی ہے، لیکن ان کا اختصاصی میدان علم حدیث اور اسماء الرجال تھا، اور وہ ہندوستان میں خدمت حدیث کی تابناک روایت کی ایک روشن کڑی تھے۔ [24]

 بحر العلوم استاذ محترم حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی دامت برکاتہم فرماتے ہیں: ’’یوں تو مولانا کو جملہ علوم وفنون پر حیرت انگیز قدرت ومہارت حاصل تھی، لیکن ان کا اصلی میدان علم حدیث تھا، اور اس مبارک ومقدَّس فن کے ساتھ ان کا شغف والہانہ تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی خدمت اور نشر واشاعت کے لیے انھوں نے اپنی پوری زندگی کو وقف کر دیا تھا۔ اس علم کے ساتھ غایت درجہ لگاؤ اور تعلق کی ابتدا شاید اس سے ہوئی ہو کہ انھوں نے جب ہوش سنبھالا، تو ان کا علاقہ غیر مقلدیت کی زد میں تھا، اور پورے علاقے میں حدیث کے نام پر زور وشور سے غیر مقلدیت کی تبلیغ وتشہیر ہو رہی تھی، کئی ایسے علماء جنھوں نے دہلی میں سید نذیر حسین صاحب وغیرہ سے حدیث کا درس اور عدم تقلید کا نظریہ حاصل کیا تھا، وہ وہاں سے آ کر علاقے میں اس کی ترویج واشاعت میں مصروف تھے۔ مولانا نے عنفوان شباب سے ہی اس کا بھر پور مقابلہ کیا، بلکہ ان کے جواب میں کئی رسائل انھوں نے اپنے زمانۂ طالب علمی ہی میں تصنیف کیے۔ اہل حدیث کی حقیقت اور عمل بالحدیث کے ان کے دعوے کو واشگاف کرنے، اور حنفیہ پر حدیث کی مخالفت کے ان کی طرف سے لگائے جانے والے الزام کو رد کرنے اور اس کا مُسکت جواب دینے کے لیے حدیث کے جملہ فنون میں درک اور تبحُّر وتعمُّق ضروری تھا، چنانچہ مولانا نے علم حدیث اور اس سے متعلق تمام فنون کا نہایت گہرائی وگیرائی اور خوب باریک بینی سے مطالعہ کیا، اور اس کے ہر شعبے میں غیر معمولی براعت ومہارت بہم پہنچائی۔ ان کی یہ مہارت آگے چل کر کتب احادیث کی تحقیق واشاعت میں بہت معاون بنی، اور انھوں نے حدیث کی بہت سی امہات الکتب کو دریافت کر کے ان کو تعلیق وتحشیہ کے بعد شائع کیا‘‘۔[25]

 مولانا برہان الدین سنبھلی دامت برکاتہم استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء فرماتے ہیں: ’’چونکہ محدث اعظمیؒ نے زیادہ تر متقدمین محدثین عظام مثلا محدث عبدالرزاق صنعانیؒ اور ابن ابی شیبہؒ (جو استاذ تھے امام بخاریؒ کے بھی) وغیرھم کی تصنیفات سے اعتناء رکھا، ان کے حواشی لکھے، اور انھیں ایڈٹ کیا، ان کی ہر طرح علمی خدمت کی، اس بنا پر موصوف کا احادیث شریفہ کے نقد ونظر اور جانچ پرکھ کے معاملے میں وہی ذوق بن گیا، جو متقدمین (دوسری صدی ہجری سے لے کر پانچویں صدی ہجری تک کے محدثین) کا تھا، یعنی ہر روایت کے راوی کا پوری طرح جانچ پڑتال اور تحقیق کے بعد مرتبہ متعین کرنا، پھر روایت میں جتنے راوی آئے ہیں، ان سب کی حیثیات ملحوظ رکھ کر ان کی مرویات کا درجہ طے کرنا، یہ ذوق پانچویں صدی ہجری کے بعد برابر برابر کم ہوتا رہا، یہاں تک بعد میں گویا بالکل ختم ہوگیا، اب شاید ہی بر صغیر میں اس ذوق کا کوئی حامل ملے، راقم کی نظر میں موصوف کے علاوہ قریبی زمانہ میں صرف دو شخص اور اس ذوق کے حامل ہوئے ہیں، علامہ شوق نیمویؒ اور مولانا یوسف بنوریؒ ان کے علاوہ اور کوئی نظر میں نہیں۔[26]

حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم علامہ اعظمیؒ کی وفات حسرت آیات کے موقعہ سے اپنے تأثرات میں رقم طراز ہیں: ’’حضرت مولانا بین الاقوامی شخصیت کے مالک تھے، اور فن حدیث میں ان کا مقام بہت بلند تھا، ان کی وفات سے علوم حدیث کے حاملین اور مسلمان علماء اور رہبران ملت کی صف میں غیر معمولی نقصان ہوا ہے، جس کی تلافی جلد مشکل ہے، حضرت مولانا کی شفقتوں سے میں ذاتی طور پر متمتع ہوا ہوں، اور عقیدت ومحبت کا بہت قریبی تعلق رکھتا ہوں، اور ان کو اپنا استاذ سمجھتا رہا ہوں، اور ان کے وجود کو ملت اسلامیہ کا قیمتی سرمایہ تصور کرتا رہا ہوں‘‘۔ [27]

 پروفیسر شمس تبریز خان شعبۂ عربی، لکھنؤ یونیورسٹی، لکھنؤ لکھتے ہیں: ’’فقیہ وقت ومحدث عصر حضرت مولانا حبیب الرحمن الاعظمیؒ علماء ومحدثین ہند کے اسی چودہ سو برسوں کے سلسلۃ الذہب کی مضبوط قیمتی کڑی تھے، جنھوں نے علمائے راسخین وفضلائے محققین کے علم وفضل اور تحقیق وتدقیق کی شاندار دیرینہ روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے آگے بڑھایا اور حدیث وسنت کے مدفون ومجہول ذخائر کو حیاتِ نو بخشی اور اس کے فیض سے خود بھی بقائے دوام کے مستحق ہوگئے‘‘۔ [28]

علامہ اعظمیؒ کی حدیثی خدمات کی اجمالی فہرست

’’صاحب البیت أدری بما فیہ‘‘ کےمصداق حضرت محدث کبیرؒ کےسوانح نگار اور آپ کے نبیرہ استاذ محترم ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی دامت برکاتہم نے حضرت محدث کبیرؒ کی تصانیف کا ایک خاکہ پیش کیا ہے، ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں:’’ اس فہرست میں صرف وہ تصانیف درج کی گئی ہیں، جو کتابوں اور رسائل کی شکل میں ہیں، ان کے علاوہ ۱۰۰ سے زائد مقالات ومضامین ہیں، جو مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوئے تھے، اور اب وہ ’’مقالات ابو المآثر‘‘ کی شکل میں ۳ جلدوں میں طبع ہو چکے ہیں‘‘،[29]  ان خدمات کو تین قسموں میں منقسم کیاگیا ہے :

(۱)تحقیقات وتعلیقات:

(۱)مصنف عبدالرزاق (۱۱جلد)        (۲) مصنف ابن ابی شیبه (تقریبا۱۲جلد)          (۳) مسند حمیدی (۲جلد)

(۴) کتاب الزهد والرقائق(۱جلد)     (۵) کشف الأستار للبزار(۲جلد)        (۶) الحاوی لرجال الطحاوی (۱جلد) (۷) مختصر الترغیب والترہیب (۱جلد)          (۸) سنن سعید بن منصور(۲جلد)      (۹) مسند إسحق ابن راہویه (۲جلد)(۱۰) المطالب العالیة بزوائد المسانید الثمانیة (۴جلد)      (۱۱) تلخیص خواتم جامع الأصول في بیان الأسماء والکنی والأبناء والألقاب والأنساب الواردۃ في الکتب الستة (۱جلد)        (۱۲) فتح المغیث بشرح ألفیة الحدیث (۱جلد) (۱۳) کتاب الثقات (۱جلد)    (۱۴) مجمع بحار الأنوار (۵جلد)۔

(۲) استدراکات وتعقبات:

حضرت محدث الاعظمیؒ کے خامۂ گہر بار نے بے شمار مصنفین ومحققین کے تسامحات اور ان کی فروگذاشتوں پر گرفت کی ہے،ان استدراکات وتعقبات علمیہ نے آپ کی عظمت وسطوت کو عروج بخشا، علمی دنیا ان کی بدولت آپ کے بہت سے مآثر وجوہر سے آشنا ہوئی، جن کو اگر مرتب کر کے شائع کیا جائے، تو خاصی ضخیم اور بیش بہا کتاب تیار ہو جائے گی۔ ان میں سے شیخ احمد محمد شاکرؒ کی ’’مسند احمد‘‘کی تحقیق پر علامہ اعظمیؒ کے انتقادات اور استدراکات بہت زیادہ ہیں، جن کا ایک حصہ تو’’ مسند احمد‘‘کی پندرہویں جلد میں شیخ نے شامل اشاعت کیا ہے، اور دوسرا حصہ بھی علامہ اعظمیؒ نے شیخ کی خدمت میں بھیجا تھا، مگران تک یہ حصہ پہونچنے سے پہلے پیام اجل پہنچ گیا،رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔ یہ حصہ اور آگے کے بہت سارے استدراکات مجلہ “البعث الاسلامی” (ج۴، ش۱)، مجلہ “ترجمان الاسلام” بنارس (علامہ اعظمیؒ پر خصوصی اشاعت)، اور مجلہ “المآثر” (ج۱، ش۴، ج۲، ش۱) کے صفحات کی زینت بن چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ پر آپ کے تقریباً ایک سو اسی (۱۸۰)قیمتی استدراکات ہیں، جو مجلہ “المآثر” کے (جلد ۱۰، شمارہ ۱، تاجلد ۱۸، شمارہ ۳) بائیس قسطوںمیں شائع ہوئے ہیں، اسی طر ح’’سنن کبری للبیہقی‘‘ پر کیے گئے استدراکات بھی مجلہ “المآثر” (جلد۱۸شمارہ ۴، ج۱۹ش۱، ج۱۹ش۳، ج۲۰ش۲، ج۲۱ش۱) میںپانچ قسطوں میں شائع ہوئے ہیں، جن کی تعداد تقریباً ستاون(۵۷) ہے، اور تہذیب التہذیب پر آپ کے استدراکات “المآثر” (ج ۷ ش ۴،ج۸ ش ۱،ج۸ ش ۳، ج۸ ش۴، ج ۹ ش ۱، ج ۹ ش ۲) میں تقریبا (۵۳) کی تعداد میں چھ قسطوں میں اشاعت پذیر ہوئے ہیں، نیز “تثقیف اللسان وتلقیح الجنان” پر استدراکات “المآثر” کے (جلد۶ شمارہ۳) میں، “الرفع والتکمیل” سے متعلق استدراکات (جلد۶ شمارہ۴) میں، “الاجوبۃ الفاضلة” سے متعلق (جلد۷ شمارہ۱) میں، “تاج العروس من جواہر القاموس” سے متعلق (جلد۷ شمارہ۲) میں، کتاب ’’العلل‘‘ پر استدراکات (جلد۷ شمارہ۳) میں، “تعجیل المنفعة بزوائد الأئمة الاربعة” سے متعلق  (جلد۹ شمارہ۴) میں شائع ہوکر تشنگامان علوم نبویہ کو سامان تسکین فراہم کررہے ہیں۔

(۳)تصانیف وتالیفات:

۱- ابطال عزا داری (مطبوعہ)  ۲-احکام النذر لاولیاء اﷲ (مطبوعہ)

۳-ارشاد الثقلین (مطبوعہ)

۴-الازھار المربوعہ (مطبوعہ)

۵-الاعلام المرفوعہ (مطبوعہ)

۶-اعیان الحجاج (مطبوعہ )

۷-انساب وکفاء ت کی شرعی حیثیت (مطبوعہ)

۸-اہل دل کی دل آویز باتیں (مطبوعہ)

۹-بناء عائشہ صدیقہؓ (مطبوعہ)

۱۰-تبصرہ بر شہید کربلا ویزید (مطبوعہ)

۱۱-تحقیق اہل حدیث (مطبوعہ)

۱۲-تذکرۂ علماء

۱۳-ترجمہ کتاب الترغیب والترھیب

۱۴-ترجمہ موطا امام مالک

۱۵-تعدیل رجال بخاری (مطبوعہ)

۱۶-تعزیہ داری ودیگر مراسم عزا داری سنی نقطۂ نظر سے (مطبوعہ)

۱۷-التنقید السدید علی التفسیر الجدید (مطبوعہ)

۱۸-تنبیہ الکاذبین بجواب تنبیہ الناصبین

۱۹-الحجج القویہ علی حرمۃ سجدۃ التحیہ

۲۰-دار الاسلام اور دار الحرب (مطبوعہ)

۲۱-دست کار اہل شرف (مطبوعہ)

۲۲-دفع المجادلہ (مطبوعہ)

۲۳-دنیا میں پارچہ بافی کے مرکز (مطبوعہ)

۲۴-دیوبندیوں سے چند سوالات کا جواب (مطبوعہ)

۲۵-رکعات تراویح (مطبوعہ)

۲۶-رکعات تراویح مزیَّل برد انوار مصابیح (مطبوعہ)

۲۷-الروض المجود فی تقدیم الرکبتین عند السجود (مطبوعہ)

۲۸-رہبر حجاج (مطبوعہ)

۲۹-السیر الحثیث الی تنقید تاریخ اہل الحدیث

۳۰-سیرۃ طحاوی

۳۱-شارع حقیقی (مطبوعہ)

۳۲-عظمت صحابہ (مطبوعہ)

۳۳-قاضی نامہ بجواب جولاہہ نامہ

۳۴-کشف المعضلات (مطبوعہ)

۳۵-لغات حدیث

۳۶-مسئلۂ تقلید

۳۷-مفتاح النحو

۳۸-مقدمۂ معارف الحدیث(مطبوعہ)

۳۹-مولوی ثناء اﷲ اور بحث تقلید (مطبوعہ)

۴۰-نصرۃ الحدیث (مطبوعہ)

چند حدیثی خدمات کا تفصیلی تعارف

علامہ اعظمیؒ کی جملہ حدیثی خدمات کےتفصیلی تعارف کے لیے یقینا ایک دفتر درکار ہے، یہ مختصر مقالہ اس کا قطعاً متحمل نہیں ہوسکتا، ذیل میں مختصراً کچھ کتابوں کا تعارف پیش ہے، جو حضرتؒ کی سوانح حیات اور آپ پر لکھے گئے مقالات سے مستعار ہے:

 کتاب الزہد والرقائق

 یہ دوسری صدی ہجری کے نامور عالم محدث مجاہد حضرت عبداللہ بن المبارک ؒ (ت:۱۸۱ھ) کی تصنیف ہے جس میں تذکیر وموعظت کی احادیث جمع کی گئی ہیں، یہ بھی غیر مطبوعہ شکل میں خال خال ہی کتب خانوں میں موجود تھی، محدث کبیر نے اس کے تین مخطوطہ نسخوں کی مدد سے صحیح نسخہ تیار کیا، اس کی احادیث کی تخریج کی، مشکل الفاظ کی توضیح کی، اور فہرست سازی کے علاوہ ایک مقدمہ تحریر فرمایا، اور آخر میں نعیم بن حماد کی وہ روایات جو سرے سے مروزی کے نسخے میں نہیں ہیں، ان کو الگ سے آخر کتاب میں یکجا کردیا گیا ہے، یہ زائد روایات جن کی تعداد ۴۳۶ ہے، کتاب الزہد کے آخری ۱۳۲ صفحات پر مرقوم ہیں۔

اس کتاب کی اہمیت وافادیت کے تعلق سے ایک تقریر میں علامہ اعظمیؒ نے اپنے تاثر ات کا اظہار یوں فرمایا: ’’میں بتانا چاہتاہوں کہ صحاح ستہ ہماری بنیادی کتابوں میں ہیں ، حدیث کا دار ومدارانھیں کے اوپر ہے ،مگر وہ حدیثیں کن بنیادی کتابوں سے لی گئی ہیں ؟ وہ یہ سب کتابیں ہیں ،ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کتابوں کو بر سرعام لایا جاتا،تاکہ بعد کی کتابوں کی تصدیق ہوتی، بخاریؒ نے اگر کہا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا، اور میں نے فلاں سے اور اس نے عبداللہ بن المبارکؒ سے سنا ، تو اس کتاب کو دیکھ کر اس کی تصدیق ہو سکتی ہے کہ بخاریؒ نے غلط نہیں کہا ، اس کتاب میں یہ حدیث موجود ہے ، کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ ہوتی کہ بخاریؒ نے ایسے ہی گڑھ لیا ہے ، جیسا کہ منکرین حدیث کا فرقہ کہتا ہے ، ان چیزوں کی نہایت ضرورت تھی ،اور یہ حدیث کی ایک بہت عظیم الشان خدمت ہے‘‘۔ [30]

یہ بیش قیمت کتاب ایک ضخیم جلد میں ۱۳۸۵ھ میں علمی پریس مالیگاؤں سےچھپ کر مجلس احیاء المعارف مالیگاؤں سے اشاعت پذیر ہوئی۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ نے آپ کی اس خدمت کو بڑے اچھے انداز میں سراہا ہے، لکھتے ہیں: “مولانا حبیب الرحمن الاعظمی نے اس پر جو محنت کی ہے وہ بس دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، اور اس کی داد وہی لوگ دے سکتے ہیں جو خود اس میدان کے مرد ہوں”۔[31]

مصنف عبد الرزاق

 یہ عظیم کتاب دوسری صدی ہجری کے مشہور امام حدیث، عبدالرزاق بن ہمام صنعانی (ت:۲۱۱ھ) کی تصنیف ہے جس کی اکثر روایات ثلاثی ہیں، اکیس ہزارسے زائد احادیث کا یہ عظیم مجموعہ بھی تشنۂ طباعت چلا آرہا تھا، مولانا اعظمیؒ نے اس پر دس سال محنت کی، متعدد نسخوں سے اس کی تصحیح کی، احادیث کی تخریج اور تحقیق وتعلیق سے اس کو مزین کیا،ایک مبسوط مقدمہ بھی لکھنے کا آپ کا ارادہ تھا، جو مستقل ایک جلد میں چھپتا، اس کا خاکہ اور مواد آپ کے ذہن میں مصور تھا، مگر افسوس کہ صفحۂ قرطاس پر منتقل نہ ہوسکا۔

 مصنف عبد الرزاق کی تحقیق وتعلیق کی وجہ سے محدث اعظمی کا علمی دنیا پر عموماً اور احناف پر خصوصاً اتنا بڑا احسان ہے کہ ملت کبھی اس سے سبکدوش نہیں ہوسکتی۔ مولانا ڈاکٹر مسعود الاعظمی نے اس کتاب کے متعلق بڑا درست تبصرہ لکھا ہے’’اس کتاب پر علامہ اعظمی کی تعلیقات اور ان کے فنی وتحقیقی نکات ان کے علم ومعرفت فضل وکمال، وسعت مطالعہ، ذہانت وفطانت، فہم وذکاوت اور جامعیت واستحضار کا عجیب وغریب اور حیرت انگیز نمونہ پیش کرتے ہیں اور اس کے مطالعہ کے بعد آدمی ورطۂ حیرت میں پڑجاتا ہے کہ مختصر اور بقدر ضرورت تعلیقات وحواشی سے کس طرح دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے، اور عقل حیران رہ جاتی ہے کہ گیارہ ضخیم جلدوں کی کتاب کو جو اکیس ہزار تینتیس (۲۱۰۳۳) روایتوں پر مشتمل ہے کس طرح ایک شخص نے تن تنہا ایک ایک لفظ کی تحقیق وتصحیح کرکے اشاعت کے قابل بنایا ہے ۔ [32]

حضرت محدث کبیرؒ کی تعلیقات وحواشی سے آراستہ ہوکر علم حدیث اور اسلامی ثقافت کا یہ عظیم الشان سرمایہ گیارہ ضخیم جلدوں میں پہلی بار ۱۳۹۲ھ میں بیروت سے طبع ہوکر مجلس علمی ڈابھیل سے شائع ہوا، اور اساطین علوم نبویہ سے خراج تحسین وصول کیا، علمی دنیا میں ایک عظیم اضافہ ہوا،  ایک بڑا ذخیرۂ حدیث زمانے کے دستبرد سے محفوظ ہوگیا،علامہ اعظمیؒ کے حصے میں ایک زبردست سعادت آئی، آپ کی شہرت کو عروج ہوا، چنانچہ ماقبل میں گذرا کہ مشہور عالم ڈاکٹر حمیداﷲؒ حیدرآبادی ثم فرانسوی نے، جو خود مخطوطات کے بڑے ماہر تھے،مصنف عبدالرزاق کی طباعت کے سلسلے میں محدث کبیرؒ کی مساعی دیکھ کر آپ کو ’’شاہ ولی اﷲ ثانی‘‘ قرار دیاتھا۔ اورواقعہ یہ ہے کہ یہ علامہ اعظمیؒ کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔

مسند حمیدی

یہ امام ابوبکر عبد اللہ بن زبیر بن عیسی القرشی المکی(ت:۲۱۹ھ) کی تصنیف ہے ،جو بنو اسدبن عبد العزیٰ کے ایک بطن حُمید بن اسامہ کی طرف منسو ب ہوکر ’’حمیدی‘‘ سے معروف ہیں ،حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے ’’ جزم کل من ترجم البخاری بأن  الحمیدی من شیوخہ فی الفقہ و الحدیث‘‘،[33]]امام بخاری کے سارے ہی ترجمہ نگاروں نے یقین کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ فقہ و حدیث میں حمیدی ان کے استاذ ہیں[،اس مسند کے بارے میں مولانا اعظمی علیہ الرحمۃکا خیال ہے کہ یہ اولین مسانیدمیں سے ہے، لکھتے ہیں: “قلت : ومن قدماء مصنفی المسند ابوبکر عبد اللہ بن الزبیر الحمیدي، المتوفی سنة تسع عشرۃ و مائتین و ظنی أنه أول من صنف المسند بمکة و ھو أقدم موتا من الحماني و مسدد، فھو أول و أحق بأن یعد من أوائل من صنف المسند”[34]]میرا ماننا ہے کہ مسند کے اولین مصنفین میں ابو بکر عبد اللہ بن زبیر حمیدی بھی ہیں جن کی وفات ۲۱۹ ھ میں ہے ،اور میرا خیال ہے کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے انھوں نے ہی مسند کو ترتیب دیا ہے ، اور ان کی وفات حمانی(ت:۲۲۸ھ) اور مسدد (ت:۲۲۸ھ) سے پہلے ہے ، لہذا یہ زیادہ مستحق ہیں کہ انھیں اوائل مصنفین مسند میں شمار کیا جائے]۔ مسند حمید ی میں مذکور احادیث کی تعداد تیرہ سو (۱۳۰۰) ہے ،جن میں اکثر احادیث مرفوع ہیں ، کچھ تعداد صحابی یا تابعین پر موقوف احادیث کی بھی ہے،کتاب کی ابتدا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث سے ہوتی ہے ، اور اختتام حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث پر ہوتاہے۔یہ مسند غیر مطبوعہ شکل میں چلی آرہی تھی، حضرت محدث اعظمیؒ نے اس کے چار الگ الگ نسخوں سے ایک صحیح نسخہ تیار کیا اور اس پر تعلیقات کے علاوہ ایک جامع مقدمہ لکھا، مولانا اعظمی کی تحقیق کے ساتھ مسند حمیدی کی طباعت پہلی دفعہ ۱۳۸۲ھ = ۱۹۶۲ ء میںمجلس علمی ڈابھیل ،سملک گجرات سے ہوئی ۔[35]

 ’’مسند حمیدی‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئےمولانا عبد الماجد دریابادیؒ تحریر فرماتے ہیں: ’’اس کتاب کا پتہ لگانا بجائے خود ایک کارنامہ تھا، چہ جائیکہ اس کی پوری ترتیب وتہذیب، تصحیح ومقابلہ، تحشیہ اور متعدد فہرستوں اور اشاریہ ودیباچہ وغیرہ کا اضافہ، یہ سعادت وکرامت ایک ہندوستانی محقق مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے حصہ میں آئی ہے، جس پر انھیں علمی ودینی طبقہ کی طرف سے جتنی بھی مبارک باد دی جائے کم ہے‘‘۔[36]

سنن سعید بن منصور

حافظ سعید بن منصور بن شعبہ خراسانی، ابو عثمان مروزی، طالقانی(ت:۲۲۷ھ) ایک بلند پایہ محدث ہیں۔ جوزجان میں پیدا ہوئے، بلخ میں نشو ونما پائی اور حصول علم کی خاطر شہر شہر پھرے، آخر میں مکہ میں سکونت اختیار کی اور وہیں ان کا انتقال ہوا، سن ولادت کے بارے میں اصحاب سیر خاموش ہیں، البتہ ان کی وفات مشہور قول کے مطابق ۲۲۷ہجری میں ہوئی۔ [37]

آپ کی یہ تالیف احکام کے سلسلے میں ایک جلیل القدر کتاب اور کتب ستہ سے قدیم تر بھی ہے، حافظ ابن کثیرؒ نے سعید بن منصور کے تذکرے میں لکھا ہے :“صاحب السنن المشھورۃ التي لا یشارکھا فیھا إلا القلیل”[38]]آپ اس مشہور سنن کے مصنف ہیں جس میں چند ہی لوگ ان کے ہم پلہ ہوسکتے ہیں[، قا ضی اطہر مبارکپوری تحریر فرماتے ہیں: “سا تویں صدی ہجری کے مشہور محدث حافظ ابو العباس احمد بن عبد اﷲ محب الدین طبری مکیؒ (ت:۶۷۴ھ) نے حج ومناسک کی مشہور کتاب “القریٰ لقاصد ام القریٰ” میں سنن سعید بن منصور سے بہت زیادہ احادیث وآثار نقل کئے ہیں، اس کا شاید ہی کوئی صفحہ اس کی احادیث وآثار سے خالی ہو‘‘۔ [39]

سنن سعید بن منصور کی تحقیق آسان نہ تھی، اس لیے کہ ڈاکٹر حمیداللہ صاحبؒ کو اس کا صرف ایک ہی نسخہ دستیاب ہوسکا تھا،جو مولانا محمد میاں سملکیؒ جوہانسبرگ کے واسطے سے حضرت تک پہونچا،علامہ اعظمیؒ سنن سعید بن منصورکے سلسلے میں اپنی جد وجہد کے بارے میں خودلکھتے ہیں کہ: “إنا تحملنا في تحقیق الکتاب وتصحیح نصوصه عناءًا کثیرًا لأن النسخة کانت وحیدۃً فلم نجد بداً من أن نتصفح ألوف الصفحات ونفتش عن أحادیث ھٰذا الکتاب في غیرہ من جوامع الحدیث”[40]]اس کتاب کی تحقیق اور نصوص کی تصحیح میں ہم نے بہت مشقتیں برداشت کیں، اس لیے کہ نسخہ ایک ہی تھا، چنانچہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ ہم ہزاروں صفحات کی چھان بین کریں اور اس کتاب کی احادیث کو دوسرے مجموعہائے حدیث میں تلاش کریں]۔چنانچہ اس عظیم علمی ورثہ کی تحقیق میںعلامہ اعظمیؒ کی کوششوں کو دیکھ کر ڈاکٹر حمیداﷲ ؒنے مولانا ابراہیم میاںصاحب زادہ مولانا محمد میاںؒ کے نام ایک خط میں لکھاکہ: مولانا اعظمی سنن سعید بن منصور کی تحقیق کیا کر رہے ہیں، کتاب کو چار چاند لگارہے ہیں۔ [41]

یہ کتاب علامہ اعظمیؒ کی تعلیقات، تحقیقی حواشی،اور کلمۃ المحقق کے علاوہ ڈاکٹر حمیداللہ صاحبؒ کے بیش قیمت مقدمے کے ساتھ دو جلدوں میں ۱۳۸۷ھ اور ۱۳۸۸ھ میں مجلس علمی ڈابھیل سے شائع ہوئی۔[42]

اس کی تحقیق واشاعت پر حیرت واستعجاب کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبد الماجد دریابادیؒ تحریر فرماتے ہیں:’’کتاب کی تہذیب وتدوین اور تحشیہ وغیرہ کا کام مولانا اعظمی کا کیا ہوا ہے اور حیرت ہوتی ہے ان میں اس کام کی اتنی سلیقہ مندی اور مہارت بغیر یورپ گئے اور مستشرقین کی صحبت اٹھائے کیسے پیدا ہو گئی ہے‘‘۔ [43]

مولاناشاہ معین الدین ندوی(ت:۱۳۹۴ھ) اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:’’…سنن سعید بن منصور مجلس علمی ڈابھیل نے شائع کی ہے… مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے اسکو ایڈٹ کیا ہے، ان کا نام تصحیح وتحشیہ اور ترتیب وتہذیب وغیرہ کی صحت وخوبی کی پوری ضمانت ہے… ایک اہم کتاب کا اضافہ ہو اجس کے لئے فاضل مرتب اور مجلس علمی دونوں اہل علم کے شکریہ کے مستحق ہیں‘‘۔[44]

مصنف ابن ابی شیبه

امام ابو بکر بن أبی شیبہ (ت:۲۳۵ھ) کی یہ مایۂ ناز تالیف حدیث کی امہات کتب میں شامل،احادیث وآثار کا عظیم الشان سرمایہ ہے، مؤلف امام بخاری کے استاذ اور مشہور محدث ہیں، اس بے مثال کتاب میں احناف کے مستدلات بھی بکثرت ملتے ہیں، یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی چھپ چکی تھی، لیکن اس کی شایان شان تحقیقی کام اس پر نہیں ہوسکا تھا، حضرت مولاناؒنے بعض اہل علم کے اصرار پر اس عظیم کتاب کی بھی تصحیح اور تحقیق وتعلیق کا کارنامہ انجام دیا، اس کے سابقہ تین ایڈیشن اور تین قلمی مخطوطات کی روشنی میں تقریبا ساڑھے گیارہ جلدوں کی خدمت ہوچکی تھی، لیکن ابھی چار جلدیں ہی زیور طبع سے آراستہ ہوئی تھیں کہ وہ پریس جس میں طباعت ہورہی تھی، بند ہوگیا، باقی جلدیں عرصۂ دراز تک معرض التواء میں پڑی رہیں، بالآخر چند سالوں پہلے  شیخ محمد عوامہ دامت برکاتہم کی تحقیق سے پوری کتاب چھبیس جلدوں میں زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہے، جن میں آخر کی پانچ جلدیں فہرست پر مشتمل ہیں، حضرت شیخ نے اس میں علامہ اعظمیؒ کی تمام تر تحقیقات کو ان کے نام کے ساتھ سمو دیا ہے، جزاھما اللہ خیرا ۔[45]

کشف الاستار عن زوائد البزار

علامہ نورالدین ہیثمیؒ(ت:۸۰۷ھ) نے علم حدیث کے حوالے سے بڑا کام کیا ہے۔ “مجمع الزوائد”، “مواردالظمآن”، “بغیة الباحث” کے علاوہ علامہ نے جو بڑا کام کیا ہے، وہ ایک عظیم محدث عبدالخالق البزار کی کتاب “البحر الزخار” کے زوائد کا ہے، جس کا نام انھوں نے “کشف الاستار” رکھا ہے۔ محدث کبیرؒ اپنے کلمۃ المحقق کے آغاز میںلکھتے ہیں: “فإن للعلامة الحافظ نور الدین علی بن أبی بکر الھیثمي منة في رقاب علماء الحدیث کافة، حیث یسر لھم العثور والاطلاع علی ما لا یوجد فی الکتب الستة من الأحادیث النبویة، وأوردھا أئمة آخرون في دواوینھم”[46]]تمام علماء حدیث کی گردنوں پرعلامہ ہیثمیؒ کااحسان ہے کہ انھوں نے ان احادیث سے استفادہ کی راہ کو آسان بنا دیاجو صحاح ستہ میں نہیں پائی جاتی ہیں، اور دوسرے مجموعوں میں موجود ہیں[، یہ کتاب بھی مخطوط کی شکل میں تھی، محدث اعظمیؒ کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ اس کی تحقیق کرکے اس کو طباعت سے آشنا کیا، نیز آپ کے حکم سے آپ کے جاں نثار شاگرد رشید مولانا عبدالجبار صاحبؒ نے کشف الاستار کی روایات کو مجمع الزوائد میں تلاش کرکے اس پر منقول علامہ ہیثمیؒ کے کلام کو حاشیہ میں نقل کیا ہے، جس سے کتاب کی افادیت دوچند ہوگئی۔

علامہ اعظمیؒ اس کتاب کی تحقیق سے ۱۳۹۹ھ میں فارغ ہوئے، چنانچہ آپ نے مقدمہ سے فراغت کی تاریخ ۵/جمادی الاخری ۱۳۹۹ھ تحریر فرمائی ہے، اس کا پہلا ایڈیشن اسی سال مؤسسۃ الرسالۃ بیروت سے اشاعت پذیر ہوا تھا،[47] ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی اور مولانا غلام محمد وستانوی صاحبان دامت برکاتہما انتہائی تبریک وتحسین کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس کتاب کو دوسری بار چار جلدوں میں بطرز بیروت نئی شان کے ساتھ شائع کیا ہے۔ جزاھم اﷲ خیرا۔

مجمع بحار الانوار

اس کتاب کے تعارف میں علامہ اعظمیؒ فرماتے ہیں: ابن الاثیرؒ کے بعد ہندوستان کے مایۂ ناز محدث علامہ محمد طاہر گجراتیؒ (ت:۹۸۶ھ) نے ’’مجمع بحار الانوار‘‘ تصنیف فرمائی، جس میں انھوں نے الفاظ حدیث کی شرح وتوضیح میں ’’نہایہ‘‘ کے ساتھ شروح احادیث کے خلاصے بھی درج کردئیے ہیں، اور اس لحاظ سے اس کی قدر وقیمت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، حق یہ ہے کہ یہ کتاب ہندوستان کے لیے بہت بڑا سرمایۂ عزت وافتخار ہے‘‘۔[48]

 یہ علمی شاہ کار’’نول کشور پریس‘‘ لکھنؤ، سے متعدد بار چھپنے کے بعدبالآخر علامہ اعظمیؒ کی تصحیح اور تعلیقات وحواشی سے آراستہ ہوکر ۱۳۸۷ھ میں ’’دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد‘‘ سے پانچ ضخیم جلدوں میں شائع ہوا، جو اہل علم کے نزدیک معتبر اور متداول ہے، یہ کتاب فن غریب الحدیث کی جامع ترین تصنیف، اور متعدد کتابوں کا کشیدہ عطر ہونے کے ساتھ حدیث کے معانی اور مشکل مقامات کی ایک بہترین اور مفید شرح بھی ہے۔

الحاوی لرجال الطحاوي

امام طحاوی (ت:۳۲۱ھ) کی دو اہم تصانیف “شرح معانی الآثار” اور “مشکل الآثار” کے احوالِ رجال پر مشتمل یہ محدث اعظمیؒ کا ایک تجدیدی کارنامہ ہے، ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی تحریر فرماتے ہیں: “یہ کتاب علامہ اعظمیؒ کے فضل وکمال کا شاہکار ہے، ان کے خامۂ گہر بار کی عظیم الشان یادگار، بحث وتفحص، نقد ونظر اور تلاش وجستجو کا زندہ جاوید نمونہ؛ عرق ریزی، جگر کاوی اور پتہ ماری کی حیرت انگیز مثال ہے۔ یہ کتاب علم ومعرفت کا ایسا زندہ نقش ہے جو اپنے مصنِّف کو مِزِّیؒ، ذہبیؒ اور ابن حجرؒ جیسے نادرۂ روزگار اور یگانۂ زمانہ تذکرہ نگاروں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔ علامہ اعظمیؒ نے اپنی اس کتاب میں امام طحاوی کی دو کتابوں کے راویوں کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دھاگے میں پرونے کا کام کیا ہے”۔[49]اس کتاب کی اہمیت اس واقعہ سے آشکارا ہوتی ہے کہ محدث کبیرؒ کے استاذ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کو اس کی اطلاع ملی تو انھوں نے آپ کو ایک خط میں لکھا: “کاش (الحاوی) چھپ جاتی تو ہم کو بھی اپنے کام میں مدد ملتی، حق تعالی کوئی سامان فرمادیں، ان شاء اللہ مناسب موقع پر کوئی کوشش ہوسکی تو دریغ نہ ہوگا”۔[50]مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدۂ، اب تک یہ شاہ کار طباعت سے محروم ہے۔

نصرۃ الحدیث

دفاع حدیث اور ردّ ِانکار حدیث کے موضوع پراس علمی شاہ کار کی تصنیف کا پس منظر مولانا ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی یوں بیان کرتے ہیں: ’’منکرین حدیث نے مسلمانوں کے اس شرف کو جس میں ان کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے خاک میں ملانا چاہا اور احادیث شریفہ کی عظیم الشان اور بلند وبالا عمارت پر تیشہ زنی کرنی چاہی محدثین پر حدیثوں کے وضع وافتراء کی تہمت لگاکر مسلمانوں کے قلوب کو احادیث کی طرف سے بیزار اور منحرف کرنا چاہا لیکن خدا کا شکر ہے ان کا وار کامیاب نہ ہوسکا اور ان کی تمام تر مساعی ذمیمہ ورزیلہ راکھ تلے دب کر رہ گئیں، علامہ اعظمیؒ نے اس فتنے کا زبردست تعاقب کیا اور نصرۃ الحدیث جیسی بے نظیر کتاب لکھ کر منکرین حدیث کے نخل آرزو کی جڑ ہی کاٹ دی اور ضلالت وگمراہی کو رواج دینے کی ان کی تمام امیدوں اور حوصلوں پر پانی پھیر دیا ‘‘۔ [51]

نصرۃ الحدیث ضخامت میں مختصر ہونے کے باوجود اس قدر جامع اور حدیث کی تاریخی واسنادی حیثیت سے اتنی مدلل ہے کہ عہد بہ عہد اس کی ترتیب وتدوین اس کے حفاظت کے اصول وضوابط اسماء الرجال کے قوانین محدثین کی بے لوث قربانیوں اور اس راہ میں ان کی جد وجہد ان کی حیرت انگیز احتیاط ان کی امانت ودیانت ، ان کی بے مثل حافظے کی قوت کا پورا منظر نامہ ناظرین کے سامنے آجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب طبقۂ علماء ومحققین میں انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھی گئی، مجدد وقت حضرت تھانویؒ نے اس کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک مکتوب میں لکھا ’’میں اپنے ضعف وعذر سے خود شرمندہ ہوں اور ہدیہ بسر وچشم قبول کرتا ہوں اور دعائے نافعیت کرتا ہوں، جس جس جگہ سے رسالہ نظر پڑا بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں ایسا جامع اور محقق نہ لکھ سکتا تھا‘‘۔ [52]اس کتاب کی طبع ثانی میں تینتالیس (۴۳) صفحات پر مشتمل محدث کبیرؒ کے وقیع مقدمہ کا اضافہ ہے۔

 مشہور ادیب و قلم کار ماہر القادری (ت: ۱۳۹۸ھ) ماہنامہ “فاران” میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: “احادیث رسول کو مجروح کرنے اور انھیں (معاذ اللہ) ناقابل اعتبار ٹھہرانے کے لئے منکرینِ رسالت جو وسوسے مسلمانوں کے دلوں میں ڈال رہے ہیں اور جو نکتے تراش رہے ہیں اس کتاب نے نہ صرف ان کا ازالہ کیا ہے بلکہ اس قسم کے تمام شیطانی وساوس اور منافقانہ الزامات کی جڑ کاٹ دی ہے اسی دور کا ایک منافق ہے جو ادب اور صحافت کی دنیا میں ’’حق گو‘‘ کے نام سے مشہور ہے اس کے ایک ایک الزام کے فاضل مؤلف نے پرخچے اڑا دیئے ہیں”۔ [53]  نصرۃ الحدیث کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی نے اس کا عربی ترجمہ بھی کیا ہے، جو مؤسسۃ علوم القرآن بیروت نے دار رحاب مدینہ اور منار النشر والتوزیع کے اشتراک سے شائع کیا ہے۔

اختتامیہ

واقعہ یہ ہے کہ شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ کے مآثر کا بیان اتنے مختصر مقالے میں تقریبا ناممکن ہے،سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لیے، نیز ہمیں اپنی بے بضاعتی اور کم مائگی کا احساس واعتراف بھی ہے، اس لیے بحر العلوم استاذ محترم حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی دامت برکاتہم کے اس اقتباس پر مقالہ ختم کرتے ہیں، حضرت فرماتے ہیں: “اس وقت حدیث پر کام کرنے والوں کا ایک جم غفیر ہے، اور بے شبہہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں روزانہ نئی نئی کتابیں تحقیق وتعلیق کے بعد سامنے آ رہی ہیں؛ لیکن مولانا کے کاموں کی جو قدر وقیمت ہے وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہے، مولانا کے تعلیقات وحواشی کا ایک جملہ اور ایک لفظ دوسروں کے کئی کئی صفحات پر بھاری ہوتا ہے، مولانا کی تحریروں میں جو علم کی پختگی، فن کی باریکی، گہرائی وگیرائی، فراست کا نور اور اخلاص کی لذت وحلاوت ہوتی ہے، وہ ان کی امتیازی وانفرادی شان ہے”۔[54]یقینا حضرت محدث کبیرؒ ان نفوس قدسیہ میں سے تھے جن کو قرون وسطیٰ کے محدثین ومحققین کے کاروان عزیمت ودعوت کا بچھڑا ہوا فرد کہا جاتا ہے تویہ مبالغہ آرائی نہیں ہے۔

مراجع ومآخذ

(۱)“البدایۃ والنھایة”: حافظ ابن کثیر دمشقیؒ۔(۲)”بر صغیر پاک وہند میں علم حدیث”: عبد الرشید عراقی۔

(۳)”تذکرۂ حضرت محدث الاعظمیؒ”: مرتب: ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی۔(۴)”تھذیب التھذیب”: حافظ ابن حجر عسقلانیؒ۔(۵)”حیات ابو المآثر”: ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی۔(۶)”حیات سلیمان”: شاہ معین الدین ندوی۔(۷)”خطبات ابو المآثر”: شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ۔(۸)”الدیباجۃ علی ابن ماجہ”: مولانا لطیف الرحمن بہرائچی۔(۹)”سنن سعید بن منصور”: تحقیق: شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ۔(۱۰)”صدیق اکبر”: مولانا سعید احمد اکبرآبادی۔(۱۱)”فقہ أھل العراق وحدیثھم”: علامہ زاہد الکوثری۔(۱۲)”کشف الاستار”: تحقیق: شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ۔(۱۳)”مآثر ومعارف”: قاضی اطہر مبارکپوریؒ۔(۱۴)”محدث الھند الکبیر”: مولانا سعید الرحمن الاعظمی۔(۱۵)”مسند حمیدی”: تحقیق: شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ۔(۱۶)”مقالات ابو المآثر”: شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ۔(۱۷)”مولانا حبیب الرحمن الاعظمیؒ اور ان کی علمی خدمات”: ڈاکٹر محمد صہیب۔(۱۸)”نصرۃ الحدیث”: شیخ حبیب الرحمن الاعظمیؒ۔(۱۹)”ہندوستان اور علم حدیث”:مولانا فیروز اختر ندوی۔

مجلات ورسائل

“برہان”، لکھنؤ۔  “ترجمان الاسلام”، بنارس۔ “الجمعیۃ”، دہلی۔   “صدق جدید”، لکھنؤ۔”المآثر”، مئو۔  “معارف”، اعظم گڈھ۔


حواشی

[1] تفصیل کے لیے دیکھیں: ہندوستان اور علم حدیث، بر صغیر پاک وہند میں علم حدیث۔

[2]  مولانا حبیب الرحمن الاعظمی اور ان کی علمی خدمات : ص۱۷،۱۸۔

[3]  ایضاً: ص ۳۰،۳۱۔

[4]  حیات ابو المآثر: ۱/۴۴۔

[5]  دیکھیں: حیات ابو المآثر، مولانا حبیب الرحمن الاعظمی اور ان کی علمی خدمات، تذکرۂ حضرت محدث الاعظمی۔

[6]  حیات ابو المآثر:۲/۵۵۸،بحوالہ مقدمہ مسند حمیدی۔

[7]  محدث الھند الکبیر: ص۳۵،۳۶۔

[8]  مولانا حبیب الرحمن الاعظمی اور ان کی علمی خدمات : ص۴۷۳۔

[9]  فقہ أھل العراق وحدیثھم :ص۸۲۔

[10]  ایضاً: ص۴۔

[11]  حیات ابو المآثر:۱/۵۹۳۔

[12]  حیات سلیمان:ص۶۳۸۔

[13]  مجلہ ’’المآثر‘‘ اشاعت خاص۱۴۴۰ھ: ص۲۲۴۔

[14]  حوالۂ بالا:ص۲۲۲،۲۲۳۔

[15]  صدق جدید لکھنؤ:۲۵/اگست ۱۹۶۸ء۔

[16]  صدق جدید لکھنؤ: ۶/مارچ ۱۹۶۸ء۔

[17]  مقدمہ”صدیق اکبر”طبع دوم: ص۲۷۔

[18]  مقدمہ الدیباجہ علی ابن ماجہ: ۱/۱۱۔

[19]  “ترجمان الاسلام” محدث اعظمی نمبر ۱۹۹۲ء:ص ۴۷۔

[20]  مجلہ ’’المآثر‘‘ اشاعت خاص۱۴۴۰ھ: ص۲۰۔

[21]  حیات ابو المآثر: ۱/۵۶۵۔

[22]  ایضاً: ۱/۴۵۔

[23]   “ترجمان الاسلام” محدث اعظمی نمبر ۱۹۹۲ء:ص ۲۱۶۔

[24]  مولانا حبیب الرحمن الاعظمی اور ان کی علمی خدمات : ص ۲۹۔

[25]  تذکرۂ حضرت محدث الاعظمیؒ: ص۶۱۔

[26]  حوالۂ بالا: ص۷۳۔

[27]  ہفت روزہ “الجمعیۃ”محدث اعظمی نمبر:ص۹،۱۰۔

[28]  مولانا حبیب الرحمن الاعظمی اور ان کی علمی خدمات : ص ۲۱۔

[29]  تذکرۂ حضرت محدث الاعظمیؒ: ص۳۷،۳۸۔

[30]  خطبات ابو المآثر: ص۱۹۸۔

[31]  “برہان” ج۶۰ ش۱ ص۶۷۔

[32]  حيات ابو المآثر: ۲/۶۱۵۔

[33]  مقدمۃ مسند الحمیدی :ص ۷۔

[34]  حوالۂ بالا: ص۲۔

[35]  حیات ابو المآثر:۲/۵۶۰۔

[36]  صدق جدید لکھنؤ: ۶/مارچ ۱۹۶۴ء۔

[37]  تہذیب التہذیب: ۴/۷۹۔

[38]  البدایۃ والنہایۃ:۱۰/۲۱۵۔

[39]  مآثر ومعارف: ص۲۱۹۔

[40]  سنن سعید بن منصور، کلمۃ المحقق:ص۸۔

[41]  حیات ابو المآثر:۲/۵۸۱۔

[42]  ایضاً:۲/۵۸۲۔

[43]  صدق جدید لکھنؤ ۲/اگست ۱۹۶۸ء۔

[44]  مجلہ “معارف” ج۱۰۲ ش۱ ص۴۔

[45]  حیات ابو المآثر:۲/۶۳۴۔

[46]  کشف الاستار، کلمۃ المحقق۔

[47]  حیات ابوالمآثر:۲/۶۴۷۔

[48]  مقالات ابو المآثر: ج۳/ص۵۱-۵۸۔

[49]  حیات ابو المآثر: ۲/۴۶۱۔

[50]  مجلہ “المآثر” ج۷ش۱،ص۸۸۔

 حیات ابو المآثر:۲/۸۶۔[51]

 ترجمان الاسلام ش۱۱-۱۲ ص۱۵۶۔[52]

[53]  “فاران”، بحوالہ نصرۃ الحدیث: ص۲۲۰۔

[54]  تذکرۂ حضرت محدث الاعظمیؒ: ص۶۸۔


Share This
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *