hamare masayel

دھمکی کے لئے لفظ طلاق استعمال کرنا

(سلسلہ نمبر: 767)

دھمکی کے لئے لفظ طلاق استعمال کرنا

سوال: درج ذیل مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے کہ: میں نے اپنے بچوں کے سامنے شرط رکھی تھی کہ اگر میری بیوی میری اجازت کے بغیر گھر کے باہر گئی تو ایک طلاق، مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے بغیر اجازت کے گھر چھوڑ کر چلی گئی، جب مجھے میرے بچوں سے معلوم ہوا کہ میری زوجہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تو میں نے اپنے بچوں کو گواہ بناکر ایک طلاق دو طلاق تین طلاق دے دی، اور کہا کہ تمھاری ماں کے سامنے بھی بولوں گا۔

گواہ کے بعد والا جملہ میں دھمکی آمیز لہجہ میں مسلسل ایک ساتھ بولا تھا اور میرا یہ بھی خیال تھا کہ طلاق صرف بیوی کے سامنے بولنے سے واقع ہوتی ہے، اس پس منظر میں بتائیں کہ میری زوجہ کو کتنی طلاق پڑی؟ جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء

المستفتی : یکے از مصلیان مسجد اکبری، اکبر باغ، حیدر آباد۔

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب: طلاق کا لفظ دھمکی کے لیے بولا جائے تب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح طلاق کے لفظ کا بیوی کو سننا بھی ضروری نہیں ہے اس لئے صورت مسئولہ میں تینوں طلاق واقع ہوکر بیوی مغلظہ ہوگئی ہے، اب بلا حلالہ شرعیہ اس سے نکاح درست نہیں ہے۔

الدلائل

قال الله تعالى: الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان.

وقال تعالى: فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجًا غيره. (سورة البقرة 229/230).

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة. رواه ابو داود والترمذي.

وأما الطلقات الثلاث فحکمھا الأصلي ھو زوال الملك وزوال حل المحلیة أیضاً حتی لا یجوز له نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل: ﴿فإن طلقھا فلا تحل له من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ﴾ وسواء طلقھا ثلاثا متفرقاً أو جملة واحدة الخ (بدائع الصنائع: 3/ 295)، ط: مکتبة زکریا دیوبند).

الطلاق، والعتاق یصح دون علم الآخر۔ (الفقه الإسلامي وأدلته: 9/ 291).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

13- 12- 1444ھ 2-7- 2023م الأحد

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply