hamare masayel

زوال (استواء شمس) کتنی دیر رہتا ہے؟ زوال کا وقت کتنی دیر رہتا ہے؟

(سلسلہ نمبر: 383)

زوال (استواء شمس) کتنی دیر رہتا ہے؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں: راجح اور مفتی بہ قول کے مطابق زوال کا وقت کتنی دیر تک رہتا ہے؟

  المستفتی: خورشید احمد اعظمی، بلاقی پورہ، مئو۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:

حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق زوال کا وقت (جس وقت نماز ممنوع ہے) صرف نصف النہار عرفی ہے، یعنی استواء شمس (جب سورج بالکل بیچوں بیچ میں آجائے) یہ وقت حقیقت میں بہت تھوڑا ہے، زیادہ سے زیادہ ایک دو منٹ رہتا ہے، علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ وقت اتنا کم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی مکمل نماز ادا نہیں کی جاسکتی، آگے مزید وضاحت فرمائی ہے کہ اس وقت میں نماز نہ پڑھنے کا مطلب نماز کے کسی بھی جزء کا ادا نہ کرنا ہے۔

لیکن چونکہ عین وقت زوال کا مشاہدہ بہت دشوار ہے، اس لئے عام طور پر جنتریوں میں جو نصف النہار کا وقت لکھا جاتا ہے، اس سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد تک نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ: 2/ 146، فتاویٰ رحیمیہ: 4/ 284، احسن الفتاویٰ: 2/ 137، 138، بحوالہ کتاب النوازل: 3/ 241).

الدلائل

ولا یخفی أن زوال الشمس إنما هو عقیب انتصاف النهار بلا فصل، وفي هذا القدر من الزمان لا یمکن أداء صلاۃ فیه، فلعل المراد أنه لا تجوز الصلاۃ بحیث یقع جزء منها فی هذا الزمان، أو المراد بالنہار هو النهار الشرعي وهو من أول طلوع الصبح إلی غروب الشمس، وعلیٰ هذا یکون نصف النهار قبل الزوال بزمان یعتد به. (رد المحتار: 1/ 371، کراچی، 2/ 31 زکریا).

وإذا أردت معرفة زوال الشمس، فالمنقول عن أبي حنيفة: أنه ينظر إلى القرص، فما دام في كبد السماء، فإنها لم تزل، وإذا انحطت يسيرا فقد زالت، والمنقول عن محمد في ذلك أن يقوم الرجل مستقبل القبلة، فإذا مالت الشمس عن يساره فهو الزوال، وقد قيل: في معرفة ذلك أن يغرز خشبة مستوية في أرض مستوية قبل زوال الشمس، ويحط في ضلع ظلها علامة، فإن كان الظل يقصر عن العلامة فاعلم بأن الشمس لم تزل؛ لأن ظل الأشياء يقصر إلى زوال الشمس. وإن كان الظل يطول ويجاوز الخط، فاعلم بأن الشمس قد زالت، وإن امتنع الظل عن القصر ولم يأخذ في الطول، فهذا هو وقت الزوال وهو الظل الأصلي. (المحيط البرهاني: 1/ 273).

 والله أعلم

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

9- 11- 1441ھ 1- 7- 2020م الأربعاء.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply