hamare masayel

طویل المیعاد قرضے کی زکوٰۃ کا حکم

(سلسلہ نمبر: 626)

طویل المیعاد قرضے کی زکوٰۃ کا حکم

سوال: آج کل تجارت وغیرہ کی غرض سے بینکوں سے طویل مدت کے لئے قرضے لئے جاتے ہیں، اس کی ادائیگی معمولی سالانہ قسطوں کی شکل میں ہوتی ہے، تو معلوم کرنا یہ ہے کہ کیا یہ قرضہ زکوٰۃ کے وجوب سے مانع ہوگا یا نہیں؟ مدلل جواب مطلوب ہے۔

المستفتی: عبد الباری قاسمی، آسام۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: اس مسئلے میں متقدمین اور متاخرین فقہاء میں اختلاف ہے، متاخرین کے نزدیک مفتی بہ رائے یہ ہے کہ اِس طرح کے قرض کو سرے سے منہا ہی نہ کیا جائے؛ بلکہ اسے مہر مؤجل کے درجہ میں رکھ کر غیر مانع قرار دیا جائے؛ لہذا اس سال کی قسط کو منہا کرکے بقیہ قرض کی رقم اور دیگر اپنی ملکیت کا حساب کرکے سب کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔

الدلائل

وزاد القهستاني عن الجواهر: والصحیح أنه غیر مانع. (رد المحتار: 3/ 177، ط/الریاض).

وقال بعض مشايخنا إن المؤجل لا یمنع؛ لأنه غیر مطالب بہ عادۃ. (بدائع الصنائع: 2/ 384، بیروت).

وذکر البزدوي في شرح الجامع الکبیر قال مشايخنا في رجل علیه مهر مؤجل لامرأته وهو لا یرید أداءہ لا یجعل مانعا من الزکاۃ لعدم المطالبة في العادۃ، وإنه حسن أیضًا. (الفتاوى الهندية:و1/ 190، بیروت).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

4- 9- 1442ھ 17- 4- 2021م السبت.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply