hamare masayel

ہر مہینہ ایک ایک طلاق ہوئی تو عدت کب سے شمار ہوگی؟

 (سلسلہ نمبر: 729)

ہر مہینہ ایک ایک طلاق ہوئی تو عدت کب سے شمار ہوگی؟

سوال: ایک عورت کو ہر مہینے ایک طلاق دی گئیں تین طلاق پوری ہوگئی، رجوع کسی بھی طہر میں نہیں کیا گیا۔ مغلظہ ہوگئی اس کی عدت کب سے مانیں؟ پہلی سے یا تیسری طلاق کے بعد سے؟ دلائل کیساتھ جواب مرحمت فرمائیں۔

المستفتی: راشد جمال، رام پور، یوپی

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب: صورت مسئولہ میں جب کسی طلاق سے رجوع نہیں کیا تو عدت پہلی طلاق کے بعد ہی سے شروع ہوگئی تھی اور تین حیض آجانے سے عدت پوری ہو جائے گی یعنی جب تیسرے طہر میں تیسری طلاق دیا تو عدت کے دو حیض گزر چکے تھے اس کے بعد ایک حیض آئے گا تو عدت ختم ہو جائے گی۔

الدلائل

ثم إذا وقع علیھا ثلاث تطلیقات في ثلاثة أطھار فقد مضی من عدتھا حیضتان إن کانت حرۃ لأن العدۃ بالحیض عندنا وبقیت حیضة واحدۃ، فإذا حاضت حیضة أخری فقد انقضت عدتھا. (بدائع الصنائع، کتاب الطلاق: 3/ 89، بیروت).

ثم إذا أوقع الثلاثة في ثلاثة أطھار فقد مضت من عدتھا حیضتان إن کانت حرۃ فإذا حاضت حیضة اقتضت عدتھا. (فتح القدیر،  کتاب الطلاق ، 4/ 329، رشیدیہ).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله، أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

9- 9- 1444ھ 1-4- 2023م السبت

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply