hamare masayel

عورت کے لئے عورتوں کی امامت

(سلسلہ نمبر: 619)

عورت کے لئے عورتوں کی امامت

سوال: کیا عورتوں میں جماعت کے ساتھ عورتوں کو سورہ تراویح پڑھا سکتی ھے جبکہ امامت بھی عورت کرے اور پچھے بھی صرف عورتیں ہوں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

المستفتی: محمد اسجد، پورہ معروف، مئو۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: فقہاء کرام نے تمام ہی نمازوں میں چاہے فرض ہو یا نفل  عورتوں کی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے اور ان کے تنہا نماز پڑھنے کو افضل بتایا ہے؛ اس لئے صورت مسئولہ میں سورہ تراویح کے لئے عورتوں کا تنہا تنہا تراویح پڑھنا ہی افضل ہے۔

البتہ اگر کوئی عورت قرآن کی حافظہ ہو اور تراویح میں قرآن نہ سنانے کی وجہ سے قرآن بھولنے کا اندیشہ ہو تو مکمل پردہ کے ساتھ اتنی آواز میں امامت کی گنجائش ہے کہ آواز باہر نہ جائے اور کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو.

نوٹ: عورت جب امامت کرے تو آگے کھڑے ہونے کے بجائے بیچ میں صف کے برابر ہی کھڑی ہو۔

الدلائل

عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ  وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا، وَكَانَ لَهَا مُؤَذِّنٌ، وَكَانَتْ تَؤُمُّ أَهْلَ دَارِهَا. (مسند الامام أحمد، رقم الحديث: 27283).

عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أنها كانت تؤم النساء في شهر رمضان، فتقوم وسطا. (كتاب الآثار للإمام محمد، رقم الحديث: 217).

ويكره إمامة المرأة للنساء في الصلاة كلها من الفرائض والنوافل …. وصلاتهن فرادى أفضل. (الفتاوى الهندية: 1/ 85).

وإن فعلن قامت الإمام وسطهن. (الهداية: 1/ 123).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

30- 8- 1442ھ 13- 4- 2021م الثلاثاء.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply