hamare masayel

عیدگاہ میں کرکٹ کھیلنا

(سلسلہ نمبر: 661)

عیدگاہ میں کرکٹ کھیلنا

سوال: مفتی صاحب بہت سے لوگ عیدگاہ میں کرکٹ کھیلتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟

المستفتی: محمد مسعود خان، سرائے میر اعظم گڑھ۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: مسجد کی طرح عیدگاہ کا احترام کرنا ضروری ہے، اس میں  کسی قسم کا کوئی کھیل کھیلنا جائز نہیں ہے۔ (مستفاد:احسن الفتاوی: 6/ 428).

الدلائل

 والمختار للفتوى أنه مسجد في حق جواز الاقتداء، الخ، لکن قال فی البحر ظاهرہ أنه یجوز الوطئ والبول والتخلي فیه، ولا یخفی ما فیہ ه فإن الباني لم یعدہ لذلك، فینبغي أن لا یجوز ، وإن حکمنا بکونه غیر مسجد وإنما تظهر فائدته فی حق بقیة الأحکام وحل دخوله للجنب الحائض. (الدرمع الرد، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ ، وما یکرہ فیها ، مطلب في أحکام المسجد: 2/ 430، زکریا).

وأیضاً فی کتاب الوقف عن الخانیة: ویجنب هذا المکان عما یجنب عنه المساجد احتیاطاً ۔ (البحر الرائق، کتاب الوقف، فصل في أحکام المسجد: 5/ 248، کوئٹه).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

12- 10- 1442ھ 25- 5- 2021م الثلاثاء.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply