hamare masayel

قربانی کرنے والوں کے لئے ناخن اور بال کاٹنے کا حکم 

قربانی کرنے والوں کے لئے ناخن اور بال کاٹنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جو حضرات قربانی کرنا چاہتے ہیں کیا انہیں دس دن قبل ناخن اور بغل وغیرہ کے بال صاف کرنا ضروری ہے؟ اگر کوئی عشرہ ذی الحجہ شروع ہونے کے بعد ناخن کاٹ لے تو اس کی قربانی نہیں ہوگی؟

برائے کرم مدلل جواب مرحمت فرمائیں.

المستفتی: محمد نواز منجیرپٹی اعظم گڑھ مقیم حال ممبئی.

الجواب باسم الملہم للصدق والصواب:

جن حضرات کا قربانی کرنے ارادہ کا ہو، اُن کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائیں، حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے، لیکن احناف کے نزدیک یہ ممانعت مکروہ تنزیہی پر محمول ہے، یعنی کاٹنا خلاف اولی ہے اور اِس کا قربانی کی ادائے گی و عدم ادائےگی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگر کوئی شخص عشرہ ذی الحجہ میں بال یا ناخن کاٹ لے، تب بھی اُس کی قربانی بلا کراہت اداء ہوجائے گی۔

الدلائل

 عن سلمة رضي اللّٰه عنها أن النبي ﷺ قال: اذا دخلت العشر، وأراد أحدکم أن یضحي، فلا یمس من شعره و بشره شیئاً۔۔۔قال العثماني التھانوي: نهی النبي ﷺ من أراد التضحیة عن قلم الأظفار وقص الشعر في العشر الأول، والنهي محمول عندنا علی خلاف الأولی لما روي عن عائشة رضي اللّٰه عنها أن النبي ﷺ کان یبعث بهدیة، ولا یحرم علیه شیء أحله اللّٰه له حتی ینحر هدیه۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (إعلاء السنن: 17/ 264-268، مفصلاً، کتاب التضحیة، باب ما یندب للمضحي في عشر ذي الحجة، ط: أشرفیة، دیوبند)

والله أعلم

تاريخ الرقم: 1- 12- 1440ھ 3- 8- 2019م السبت.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply