hamare masayel

لڑکے کے عقیقہ میں دو جانور کا حکم

(سلسلہ نمبر: 552)

لڑکے کے عقیقہ میں دو جانور کا حکم

سوال: مفتی صاحب میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اگر لڑکا پیدا ہو تو دو جانور ذبح کرنا پڑتا ہے  عقیقہ میں، اور لڑکی پیدا ہو تو  ایک، ایسا کیوں؟   دلیل کے ساتھ بتائیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔

المستفتی: اویس قرنی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: شریعت کے ہر حکم کی علت اور حکمت کا جاننا ضروری نہیں ہے، مسلمان کا کام شریعت کے حکم پر عمل کرنا ہے، اس کی حکمت جاننا نہیں، لڑکے کے عقیقہ میں دو جانور ذبح کرنا مسنون ہے ضروری نہیں، البتہ شریعت میں لڑکی کے مقابلے میں لڑکوں کا حق زیادہ رکھا گیا ہے اسی پر قیاس کرکے اس کی حکمت کو سمجھ سکتے ہیں۔

الدلائل

عن محمد بن ثابت بن سباع أخبره أن أم كرز أخبرته أنها سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة، فقال: “عن الغلام شاتان،وعن الأنثى واحدة، لا يضركم ذكرانا كن أم إناثا “. هذا حديث حسن صحيح. (سنن الترمذي، رقم الحديث: 1516).

وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم. (رد المحتار: 6/ 336).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

24- 4- 1442ھ 10- 11- 2020م الخميس.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply