hamare masayel

مسجد کو بطور اسپتال استعمال کرنا جائز نہیں

(سلسلہ نمبر: 632)

مسجد کو بطور اسپتال استعمال کرنا جائز نہیں

سوال: کیا فرماتے ہیں مسئلہ ذیل کے بارے میں مفتیان کرام و علماء عظام:

مسئلہ یہ ہے کہ نوی ممبئی میں کوپر کھیرنہ میں ایک جامع مسجد ہے، جس میں الحمد للہ تقریباً پانچ ہزار مصلیان جمعہ وعیدین میں نماز ادا کرتے ہیں. مسجد گراؤنڈ کے علاوہ تین منزلہ پر مشتمل ہے، اس وقت جب کہ پورے ملک میں “کورونا ” کافی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ہمارے علاقے نوی ممبئی میں بھی خوب بڑھ رہا ہے، اور مسجدوں میں مخصوص لوگوں کے علاوہ دیگر لوگوں کو عبادت کرنے سے فی الحال منع کیا گیا ہے اور مسجد کے اسٹاف (عملہ) پہلے منزلے پر نماز ادا کرسکتے ہیں۔

ایسی صورت میں علاقہ کے کچھ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ مسجد کے گراؤنڈ فلور کو کووڈ19 کے علاج ومعالجہ کیلئے خاص کر دیا جائے تو کیا یہ درست ہے؟ اور ایسا کیا جاسکتا ہے؟ برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی: محمد آفاق احمد خان، کوپر کھیرنہ

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:  جو جگہ ایک مرتبہ باقاعدہ مسجد بنادی جائے، وہ ہمیشہ مسجد رہے گی، اس کی اس حیثیت کو تبدیل کرنا صحیح نہیں ہے، مسجد شرعی کے کسی حصے کو عارضی طور پر بھی علاج ومعالجہ کے خاص کرنے میں بہت سے غیر شرعی امور کا ارتکاب لازم آئے گا، مثلا صفائی ستھرائی کے لئے بدبودار اشیاء کا استعمال، حالانکہ حدیث شریف میں پیاز اور لہسن کھاکر بغیر منہ صاف کئے مسجد میں آنے سے منع کیا گیا ہے، اسی طرح بہت سے مریض کا پیشاب پاخانہ بھی خطا کرسکتا ہے جس کی وجہ سے مسجد کا فرش ناپاک ہوسکتا ہے اور ایسا کرنا جائز نہیں، اسی طرح کچھ مریض ناپاکی کی حالت میں بھی ہوسکتے ہیں، اور ناپاک لوگوں کا مسجد میں رہنا تو دور گزرنا بھی جائز نہیں ہے، اسی طرح مسجد کو علاج ومعالجہ کے لئے استعمال کرنا وضع الشیء فی غیر محلہ ہے جو بے شک و شبہہ ظلم، ناجائز اور گناہ ہے، اسی طرح واقفین کی غرض کے خلاف استعمال بھی پایا جارہا ہے جو شرعاً جائز نہیں ہے؛ اس لئے علاج ومعالجہ کے لئے مسجدوں کو استعمال نہ کیا جائے بلکہ بڑے بڑے شادی ہال اور اسکول وغیرہ جو اس وقت بند ہیں ان کو استعمال میں لایا جائے. ورنہ یہ استعمال آگے چل کر بہت سے ایسے امور کے لئے دلیل بنے گا جس کو ہم اگر روکنا چاہیں گے تو  بھی روک نہیں پائیں گے اور مساجد کی حرمت پامال ہوگی۔

الدلائل

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ : “مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا”. (صحيح البخاري، رقم الحديث: 853).

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا، فَقَالَ:” مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ”. (صحيح مسلم، رقم الحديث: 564).

عن أبي هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا. (صحيح مسلم، رقم الحديث: 568).

قال الملا علي القاري تحت قوله علیه السلام “من سمع رجلا ینشد ضالة في المسجد” … یدخل في هذا الأمر کل أمر لم یبن له المسجد من البیع والشراء ونحو ذلك. (مرقاۃ المفاتیح: 2/ 199، امدادیة ملتان).

 لو بنی فوقه بیتًا للإمام لایضر لأنه من المصالح أما لو تمت المسجدیة ثم أراد البناء منع، ولو قال: عنیت ذلك لم یصدق ’’تاتارخانیة‘‘ فاذا کان ھذا في الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمه ولو علی جدار المسجد،  ولایجوز أخذ الأجرۃ منه ولا أن یجعل شیئاً منه مستغلاً ولاسکنی. اھ۔ بزازیة. (الدر المختار).

قال الشامي: المراد بالمستغل أن یوجد شيء لأجل عمارته بالسکنی محلها وعبارۃ البزازیة علی ما فی البحر: و لا مسکنا وقد رد فی الفتح ما بحثه في الخلاصۃ من أنه لو احتاج المسجد إلی نفقة تؤجر قطعة منه بقدر ما ینفق علیہ بأنه غیر صحیح۔ اھ. (رد المحتار: 3/ 573).

أفاد منع الدخول ولو للمرور. (رد المحتار: 1/ 486).

قیم المسجد لا یجوز له أن یبني حوانیت في حد المسجد أو في فنائه؛ لأن المسجد  إذا جعل حانوتا ومسکنا تسقط حرمته وھذا لا یجوز والفناء تبع المسجد، فیکون حکمه حکم المسجد، کذا في محیط السرخسي. (الفتاوى الهندية: 3/ 241).

 لا یجوز لقیم المسجد أن یبني حوانیت في حد المسجد أو فنائه. (البحر الرائق: 5/ 249).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

7- 9- 1442ھ 20- 4- 2021م الثلاثاء.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply