hamare masayel

سجدہ میں پیر کا زمین پر رہنا ضروری ہے، نماز میں پاؤں اٹھانا

(سلسلہ نمبر: 430)

سجدہ میں پیر کا زمین پر رہنا ضروری ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام ایک آدمی بحالت سجدہ دونوں یا ایک پیر اٹھا لیتا ہے نماز باقی رہے گی یا نہیں؟

المستفتی: محمد زکریا قاسمی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب:

 اگر سجدہ میں دونوں پاؤں بالکل اٹھ گئے ہوں، تھوڑی دیر کے لیے بھی زمین پر نہیں رکھے گئے ہوں، تو نماز فاسد ہوجائے گی، البتہ تھوڑی دیر بھی پاؤں زمین پر رہے، پھراٹھ گئے یا شروع سےاٹھے ہوئے تھے،بعد میں زمین پر تھوڑی دیر کے لیے ٹک گئے، یا ایک پیر اٹھا رہا اور دوسرا زمین پر ٹکا رہا تو سجدہ صحیح ہوجائے گا اور نماز بھی صحیح ہوجائے گی ؛ البتہ ان صورتوں میں نماز مکروہ ہوگی۔

الدلائل

(ومنها السجود) بجبهته وقدميه، ووضع إصبع واحدة منهما شرط؛ لأن وضع إصبع واحدة منهما يكفي كما ذكره بعد. وأفاد أنه لو لم يضع شيئا من القدمين لم يصح السجود. (رد المحتار:2/ 135، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ،ط: مکتبہ زکریا، دیوبند).

ولو وضع أحدهما جاز مع الکراهة إن کان بغیر عذر. (الفتاویٰ الهندیة: 1/ 70).

والله أعلم

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفر له أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير اعظم جره الهند.

14- 12- 1441ھ 5- 8- 2020م الأربعاء.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply