hamare masayel

وراثت کا تعلق مورث کی موت پر ہوگا، میراث کے مسائل

 (سلسلہ نمبر: 706)

وراثت کا تعلق مورث کی موت پر ہوگا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام مسٔلہ ذیل کے بارے میں زید اپنی بیوی ہندہ کے نام سے دو پراپرٹی خریدی جو ہندہ کے نام سے ہی ہے ہندہ اور زید دونوں صاحب اولاد بھی ہیں دو لڑکا اور دو لڑکی ہے۔

ہندہ اپنے شوہر زید اور چاروں بچوں کو چھوڑ کر کسی غیر کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور دوسری شادی کرلی ہے، حالانکہ زید نے ہندہ کو ابھی تک طلاق نہیں دیا ہے۔

اس صورت میں زید نے جو ہندہ کے نام سے پراپرٹی خریدی تھی اس میں زید کا شوہری حق کیا ہوگا اور چاروں بچوں کا ہوگا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو کس کو کتنا حصہ ہوگا؟ جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں نوازش ہوگی فقط والسلام۔

المستفتی: سید نوید، بنگلور، کرناٹک۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: وراثت مورث کے مرنے کے بعد ثابت ہوتی ہے، اس لئے جب زید نے پراپرٹی اپنی بیوی کو ہبہ کردیا تھا اور ابھی وہ زندہ ہے تو اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہے؛ زید نے چونکہ ابھی اپنی بیوی کو طلاق نہیں دیا ہے اس لئے دوسرے کا اس سے نکاح کرنا کسی طرح درست نہیں اور ساتھ رہنا حرام کاری ہے؛ اس لئے فوراً علیحدگی اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ سے خوب توبہ واستغفار کرے۔

الدلائل

وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود. (رد المحتار: 5/ 704).

أما نکاح منکوحة الغیر ومعتدته؛ لأنه لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد أصلا. (رد المحتار: 5/ 197، زکریا).

ولکل واحد منهما فسخه ولو بغیر محضر علی صاحبه في الأصح خروجاً عن المعصیة. (رد المحتار: 4/ 274، زکریا).

ومنها أن لا تکون منکوحة الغیر لقوله تعالیٰ: وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ} وهي ذوات الأزواج. (بدائع الصنائع: 2/ 548، زکریا).

لا یجوز للرجل أن یتزوج زوجة غیرہ، وکذلک المعتدۃ، کذا في السراج الوهاج. (الفتاویٰ الهندیة: 1/ 280، زکریا).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

19- 7- 1443ھ 21- 2- 2022م الاثنين.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply