hamare masayel

پرانے کپڑے کی زکوٰۃ کس قیمت سے دی جائے

(سلسلہ نمبر: 633)

پرانے کپڑے کی زکوٰۃ کس قیمت سے دی جائے

سوال: ہم دکان دار قندورے کے  کچھ نمونے تین سو ریال کے منگاتے ہیں پھر سال ڈیڑھ سال تک وہ پڑا رہتا ہے اسکے بعد لاٹ مال کی قیمت سو ریال میں جاتا ہے تو اسکی زکوٰۃ آئیگی یا نہیں آئیگی؟ اگر آئے گی تو تین سو کے لحاظ سے یا سو ریال کے حساب سے؟

 المستفتی: ابن مبشر الاعظمی۔

الجواب باسم الملھم للصدق والصواب: مال تجارت کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت جو فروخت قیمت بازار میں ہو اسی کے لحاظ سے زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے، خواہ وہ قیمت خرید سے زائد ہو یا کم۔

لہذا صورت مسئولہ میں ان کپڑوں کی زکوٰۃ سو ریال کے حساب ادا کرنی ہوگی۔

الدلائل

(مستفاد: ایضاح المسائل: 105، ایضاح النوادر: 2/ 41، فتاویٰ دارالعلوم: 6/ 141).

عن الحسن في رجل اشترى متاعاً فحلت فیه الزکاۃ؟ فقال: یزکیه بقیمته یوم حلت. (المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الزکاۃ، ما قالوا فی المتاع یکون عند الرجل یحول علیه الحول: 6/ 526، رقم: 10559، مؤسسة علوم القرآن).

عن ابن جریج قال: سمعت أنا أنها قیمة العروض یوم تخرج زکاته. (مصنف عبد الرزاق ، کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ من العروض: 4/ 97، رقم: 7105، المجلس العلمي).

وفی المحیط: یعتبر یوم الأداء بالإجماع وهو الأصح. (رد المحتار: 2/ 286کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، کراچي).

والله أعلم.

حرره العبد محمد شاکر نثار المدني القاسمي غفرله أستاذ الحديث والفقه بالمدرسة الإسلامية العربية بيت العلوم سرائمير أعظم جره الهند.

7- 9- 1442ھ 20- 4- 2021م الثلاثاء.

المصدر: آن لائن إسلام.

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.

Leave a Reply